Al-Qurtubi - Al-Insaan : 23
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ
اِنَّا : بیشک ہم نَحْنُ نَزَّلْنَا : ہم نے نازل کیا عَلَيْكَ : آپ پر الْقُرْاٰنَ : قرآن تَنْزِيْلًا : بتدریج
(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے
انا نحن نزلناعلیک القرآن۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔ انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا۔ یعنی آپ نے اسے اپنی طرف سے گھڑا ہے اور نہ ہی آپ اسے اپنی طرف سے لائے جس طرح مشرک دعوی کرتے ہیں اس آیت کا ماقبل آیت کے ساتھ تعلق یہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ اور وعید کی کئی صورتوں کا ذکر کیا تو اس امر کو بیان کیا کہ یہ کتاب ان چیزوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے جن کی انسان کو ضرورت ہے، یہ جادو، کہانت اور شعر نہیں یہ حق ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، قرآن حکیم تھوڑا تھوڑا آیت در آیت نازل کیا گیا ہے یہ یکبارگی نازل نہیں کیا گیا ہے اس وجہ سے ارشاد فرمایا، نزلنا اس بارے میں گفتگو مفصل گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ فاصبر لحکم ربک ولاتطع منھم اثما اوکفورا۔ حکم سے مراد قضا و فیصلہ ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے مشرکوں کی اذیت پر صبر کرو اس طرح فیصلہ کیا گیا ہے پھر اسے جہاد والی آیت سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ پر جو طاعات لازم کی گئی ہیں ان پر صبر کیجئے یا اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیجئے کیونکہ اس نے تیرے ساتھ مدد کا وعدہ کیا ہے جلدی نہ کیجئے کیونکہ یہ ہر صورت ہوکر رہے گا، واثم سے مراد گناہ والا ہے، یعنی گناہ گار اور ناشکرے کی اطاعت نہ کیجئے۔ معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے، ابوجہل نے کہا، اگر میں نے (حضرت محمد) کو دیکھ لیاتو میں اس کی گردن رونڈ ڈالوں گا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، ایک قول یہ کیا جاتا ہے، یہ آیت عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی دونوں رسول اللہ کی بارگاہ میں مال اور شادی کی پیشکش لے کر حاضر ہوئے شرط یہ تھی کہ وہ نبوت کا ذکر چھوڑ دیں، ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، مقاتل نے کہا، جس نے شادی کی پیش کش کی تھی وہ عتبہ بن ربیعہ تھا اس نے کہا، میری بیٹیاں قریش کی عورتوں میں سے خوبصورت ترین ہیں میں بغیر مہر کے اپنی بیٹی سے تیری شادی کیے دیتا ہوں، اس امر سے تولوٹ جا، ولید نے کہا، اگر تو نے جو کچھ کیا مال کو حاصل کرنے کے لیے کیا ہے میں تجھے مال دوں گا، یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا جب کہ تو اس امر سے لوٹ جاتویہ آیت نازل ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں او کا لفظ ہے یہ سے زیادہ موکد ہے کیونکہ جب تو کہتا ہے، لاتطع زیدا وعمرا۔ اس نے ان میں سے ایک اطاعت کی تو وہ نافرمانی کرنے والا نہیں ہوگا کیونکہ اسے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ دور کی اطاعت نہ کرے جب یہ ارشاد فرمایا، لاتطع من اثما اوکفورا۔ او کے لفظ سے اس امر پر دلالت کی ان میں سے ہر ایک اس چیز کا اہل تھا کہ اس کی نافرمانی کی جائے جس طرح تو یہ کہے، لاتخالف الحسن او ابن سیرین۔ تو حسن بصری اور ابن سیرین میں سے کسی کی بھی مخالفت نہ کری اتبع الحسن او ابن سیرین۔ تو تونے یہ کہا ہے یہ دونوں اس بات کے اہل ہیں کہ ان دونوں کی اتباع کی جائے اور ان میں سے ہر ایک بھی اس کا اہل ہے کہ اس کی اتباع کی جائے یہ زجاج کا قول ہے، فراء نے کہا، یہاں او، لا کے معنی میں ہے گویا یوں فرمایا، لاکفورا نہ ناشکرے کی اطاعت کر، شاعر نے کہا : ولا وجد ثکلی کما وجدت ولا، وجد عجول اضلھا ربع۔ او وجد شیخ اضل ناقتہ، یوم توافی الحجیج فاندفعوا۔ جس کا بچہ فوت ہوا اور اس کا اتنا دکھ نہیں جتنا دکھ میں نے پایا نہ اس اونٹنی نے اتنا دکھ محسوس کیا جس کاموسم بہار میں پیدا ہونے والا بچہ فوت ہوا۔ اور نہ ہی اس شیخ کو اتنا دکھ ہواجس نے اپنی اونٹنی گم کردی ہو اس روز حاجی حج کے سامنے مناسک پورے کرے اور واپس چلے جائیں۔ یہاں بھی شاعر نے او سے مراد لالیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اثم سے مراد منافق اور کفور سے مراد ایسا کفر ہے جو اپنے کفر کو ظاہر کرتا ہے یعنی ان میں سے اثم کی اور نہ ہی کافر کی اطاعت کریں، یہ فراء کے قول کے بالکل قریب ہے۔
Top