Al-Qurtubi - Al-Insaan : 8
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا
وَيُطْعِمُوْنَ : اور وہ کھلاتے ہیں الطَّعَامَ : کھانا عَلٰي : پر حُبِّهٖ : اس کی محبت مِسْكِيْنًا : محتاج، مسکین وَّيَتِيْمًا : اور یتیم وَّاَسِيْرًا : اور قیدی
اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں
ویطمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیماواسیرا۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، وہ کھانا تھوڑا ہونے، اس کی محبت ہونے اور اس کی چاہت ہونے کے باوجود دوسروں کو کھلاتے ہیں دارانی نے کہا، حبہ کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ فضیل بن عیاض نے کہا، کھانا کھلانے کی محبت رکھتے ہوئے کھانا کھلاتے ہیں ربیع بن خثیم کے پاس جب کوئی سائل آتا تو آپ فرماتے : اے شکر کھلاؤ کیونکہ ربیع شکر پسند کرتے تھے۔ مسکین سے مراد مسکنہ ولا ہے۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے دروازوں پر گردش کرنے والا وہ تجھ سے تیرے مال کا سوال کرتا ہے۔ یتیم سے مراد مسلمانوں کا یتیم ہے۔ منصور نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ ایک یتیم حضرت ابن عمر کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتا تھا ایک رو آپ نے اپنا کھانا منگوایا یتیم کو طلب کیا تو اسے نہ پایا حضرت ابن عمر جب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس وقت وہ یتیم آیا تو کھانا نہ پایا۔ حضرت عمر نے اس کے لیے ستو اور شہد منگوایا اور فرمایا اے لے لو اللہ کی قسم تیرے ساتھ کوئی غبن نہیں کیا گیا۔ اسیر سے مراد وہ شخص ہے جسے قید کردیاجائے۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اسیر سے مراد مشرک ہے جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہے یہ قتادہ کا بھی قول ہے ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے اسیر سے مراد وہ شخص ہے جسے قید کیا گیا ہو سعید بن جبیر اور عطانے بھی یہی کہا ہے۔ اس سے مراد وہ مسلمان شخص ہے جسے کسی حق کے بدلہ میں قید کیا گیا ہو، سعید بن جبیر نے قتادہ اور حضرت ابن عباس جیسا قول کیا ہے۔ قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں زیادہ حق دار ہے کہ تو اس کو کھلائے۔ عکرمہ نے کہا، اسی رے مراد غلام ہے ابوحمزہ ثمالی نے کہا، اسیر سے مراد عورت ہے جس پر رسول اللہ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، استوصوابالنساء خیرا فانھن عوان عنکم۔ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ تمہاری قید میں ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری نے کہا رسول اللہ نے اس آیت میں تلاوت فرمایا، مسکین سے مراد فقیر ہے یتیم سے مراد جس کا باپ نہ ہو اور اسیر سے مراد قیدی ہے یہ ثلعبی نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مسکین کو کھانا کھلانے والی آیت وصدقات والی آیت نے منسوخ کردیا ہے قیدی کو کھانا کھلانے والی آیت کو تلواروالی آیت نے منسوخ کردیا ہے یہ سعیدبن جبیر کا قول ہے دوسرے علماء نے کہا، اس کا حکم ثابت ہے یتیم ومسکین کو کھانا کھلانے کا حکم نفل کے طور پر تھا قیدی کو کھانا کھلانے کا حکم جان کی حفاظت کی خاطر ہے مگر امام اس کے بارے میں جو پسند کرے۔ ماوردی نے کہا، یہ احتمال موجود ہے کہ اسیر سے مراد ناقص العقل ہے کیونکہ وہ اپنے جنون کی قید میں ہے مشرک کی قید انتقام ہے جو امام کی رائے پر موقوف ہے یہی نیکی اور احسان ہے عطا سے مروی ہے، اسیر اہل قبلہ اور دوسرے لوگوں میں سے بھی ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا یہ گویا قول عام ہے جو تمام اقوال کو جامع ہے اور مشکوک قیدی کو کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کے ہاں عبادت ہے مگر یہ نفلی صدقہ ہے جہاں تک فرضی صدقات ہیں تو وہ ان پر صرف کرنا جائز نہیں مسکین یتیم، اسیر اور لغت میں ان کے اشتقاق کے بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزرچکی ہے۔
Top