تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 11
وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ﴿11﴾
- وَاِذَااور جب
- الرُّسُلُرسول (جمع)
- اُقِّتَتْوقت پر جمع کئے جائیں
Translation · Al-Qurtubi
اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں
Tafseer · Al-Qurtubi
واذا الرسل اقتت۔ جب رسولوں کو قت مقررہ یعنی قیامت کے دن اکٹھا کیا جائے گا وقت سے مراد وہ وقت ہے جس تک کسی کام کو موخر کیا جاتا ہے معنی یہ ہوگا رسولوں اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے وقت مقرر کردیا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یوم یجمع اللہ الرسل۔ المائدہ 109) جس روز اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دنیا میں ہوگا یعنی رسولوں کو اس مخصوص وقت میں جمع کیا جائے گا جو کفار کے عذاب کے لیے مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار کو مہلت دی گئی قیامت کے روز تمام شکوک زائل کردیے جائیں گے پہلی تعبیر سب سے اچھی ہے کیونکہ توقیت کا معنی ہے ایسی چیز جو قیامت کے روز واقع ہوگی جس طرح بےنور کرنا، پہاڑوں کو اڑانا، آسمانوں کو پھاڑنا یہ قیامت کے وقوع سے قبل مناسب نہیں، ابوعلی نے کہا، روز جزا اور فیصلہ کے دن کو اس کے لیے معین کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اقتت کا معنی ہے وعدہ کیا گیا اور مہلت دی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا جیسا علم اور ارادہ تھا اسی کے مطابق انہیں معلوم اوقات میں بھیجا گیا۔ اقتت میں ہمزہ واؤ کا بدل ہے یہ فراء اور زجاج نے کہا، فراء نے کہا، ہر واؤ جو مضموم ہو اس کا ضمہ لازم ہو اس کو ہمزہ سے بدلنا جائز ہے تو کہتا ہے، صلی القوم احدانا، یہ اصل میں وحدانا تھا، عرب کہتے ہیں ھذہ اجوہ حسان، اصل میں وجوہ تھا یہ قاعدہ اس لیے جاری کیا گیا کیونکہ واؤ کا ضمہ ثقیل ہے لا تنسوالفضل بینکم۔ بقرہ 237) باہم فضل کرنے کو نہ بھولو یہاں واؤ کو ہمزہ سے بدلنا جائز نہیں کیونکہ ضمہ لازمی نہیں یہ ابوعمرو، حمید، حسن اور بنصر کی قرات ہے۔ عاصم اور مجاہد نے وقتت پڑھا ہے، یہی اس کی اصل ہے ابوعمر نے کہا، اسے اقتت پڑھے گا جو وجوہ کو جوہ پڑھتا ہے۔ ابوجعفر، شیبہ اور اعرج نے وقتت پڑھا ہے یعنی واؤ اور قاف کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ وقت سے فعلت کا وزن ہے۔ اس سے کتباموقوتا۔ النسائ) ہے۔ حضرت حسن بصری سے ووقتت دو واؤ کے ساتھ ہے یہ وقت سے باب مفاعلہ کا صیغہ ہے جس طرح عوھدت ہے اگر ان دونوں قراتوں میں واؤ کو الف سے بدل دیا جائے تو یہ جائز ہے یحییٰ ، ایوب خالد بن الیاس اور سلام نے اقتت پڑھا ہے، کیونکہ یہ مصحف عثمانی میں الف کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔