تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 25
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ﴿25﴾
- اَلَمْ نَجْعَلِکیا ہم نے نہیں بنایا
- الْاَرْضَزمین کو
- كِفَاتًاسمیٹنے والی
Translation · Al-Qurtubi
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا ؟
Tafseer · Al-Qurtubi
الم نجعل الارض۔۔۔ تا۔۔۔ للمکذبین
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ الم نجعل الارض کفاتا۔ کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو جمع کرنے والی زندوں کو روئے زمین پر اور مردوں کو اس کے بطن میں، یہ اس امر پر دال ہے کہ میت کو چھپانا، اسے دفن کرنا، اس کے بالوں کو دفن کرنا اور وہ تمام چیزیں جن کو وہ اپنے جسم سے الگ کرتا ہے دفن کرنا اور اس میں چھپانا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، اپنے ناخن کاٹو اور کٹے ہوئے ناخن زمین میں دفن کردو۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں گزرچکی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، کفت الشئی اکفتہ، یعنی میں نے اسے جمع کیا کفت کا معنی جمع کرنا اور ملانا ہے، سیبویہ نے یہ شعر پڑھا ہے۔ کرام حین تنکفت الافاعی، الی احجارھن من الصیقح۔ وہ اس وقت بھی سخی ہوتے ہیں جب سانپ سخت ٹھنڈک کی وجہ سے اپنی بلوں میں سمٹ جاتے ہیں۔ ابوعبید نے کہا، کفاتا کا معنی برتن ہیں، نحی کو کفت اور کفیت کہتے ہیں کیونکہ وہ دودھ کو جمع کرتی ہے۔ کہا، فانت الیوم فوق الارض حیا، وانت غدا تضمک فی کفات۔ آج تو زمین پر زندہ ہے اور کل تجھے زمین پہلوں میں جمع کرے گی۔ امام شعبی ایک جنازہ میں نکلے آپ نے ایک قبرستان دیکھا فرمایا، یہ مردوں کو جمع کرنے والے برتن ہیں، پھر گھروں کی طرف دیکھا اور فرمایا، یہ زندہ کو جمع کرنے والے برتن ہیں۔
ان آیات سے مستنبط دیگر احکام ومسائل۔
مسئلہ نمبر 2۔ ایک کفن چور کے بارے میں ربیع سے پوچھا گیا، کہا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، ان سے پوچھا گیا، آپ نے یہ بات کیوں کی ؟ فرمایا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو جمع کرنے والا نہیں بنایا۔ زمین محفوظ جگہ ہے، سورة مائدہ میں یہی بات گزرچکی ہے لوگ بقیع غرقد کو کفتہ کہتے ہیں کیونکہ یہ قبرساتان ہے جو مردوں کو جمع کرتی ہے۔ زمین زندوں کو ان کے گھروں میں جمع کرتی ہے اور مردوں کو ان کی قبروں میں جمع کرتی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے لوگ روئے زمین پر قرار پذیر ہوتے ہیں پھر زمین پر پہلو کے بل لیٹتے ہیں ان میں سے کچھ اس کے ساتھ مل جاتے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا : یہ زندوں کے برتن ہیں یعنی انسان جو فضلات نکلتے ہیں زمین میں دفن کردیے جاتے ہیں لوگوں کا اس کے اوپر ہونا اس میں ملانے کا کوئی تصور نہیں ضم کا لفظ تمام وجوہ سے احاطہ کرنے کے معنی میں آتا ہے، اخفش، ابوعبید اور مجاہد نے اپنے دو قولوں میں سے ایک قول میں کہا، احیاء اور اموات کا مرجع ارض ہے یعنی زمین دو قسموں پر منقسم ہے زندہ جو فصل اگاتی ہے، مردہ جو کوئی چیز نہیں اگاتی، فراء نے کہ، احیاء اور امواتا اس وجہ سے منصوب ہے کہ یہ کفالت کے مفعول بہ ہیں معنی یہ ہوگا کہ کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ جمع کرنے والا نہیں بنایا جب تو انہیں تنوین دے گا تو تو انہیں نصب دے گا، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، او اطعم فی یوم ذی مسغبہ۔ یتیما۔ البلد) یابھوک والے دن یتیم کو کھانا کھلائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ الارض سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی زمین میں سے کچھ اس طرح اور کچھ اس طرح۔ اخفش نے کہا، کفاتا یہ کا فتہ کی جمع ہے، الارض سے مراد جمع ہے اس وجہ سے جمع کے ساتھ اس کی لغت بیان کی جاتی ہے، خلیل نے کہا، تکفیت کا معنی کسی شی کو الٹ دینا، ظاہر کو باطن بنادینا، اور باطن کو ظاہر بنادینا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، انکفت القوم الی منازلھم، لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ کفات کا معنی یہ ہوگا وہ زمین کے اوپر تصرف کرتے ہیں اور اس کی طرف پلٹ آتے ہیں اور انہیں اس میں دف کردیا جاتا ہے۔