تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 29

  1. اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ﴿29﴾

    1. اِنْطَلِقُوْٓاتو تم چلو
    2. اِلٰىطرف
    3. مَا كُنْتُمْ بِهٖجس کو تم تھے
    4. تُكَذِّبُوْنَتم جھٹلاتے
Translation · Al-Qurtubi
جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلو
Tafseer · Al-Qurtubi
انطلقوا الی ماکنتم۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔ انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون۔ یعنی کفار کو کہا جائے گا جس عذاب کو تم جھٹلاتے تھے اس کی طرف تم چلو تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ انطلقوا الی ظل ذی ثلاث شعب، لاظلیل ولایغنی من اللھب۔ ایسے دھویں کی طرف چلو جو اوپر اٹھتا ہے تو تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے عظیم دھویں کی یہی صورت حال ہوتی ہے جب وہ اوپر اٹھتا ہے تو شاخوں والاہوجاتا ہے، پھر سایہ کی صفت بیان کی، یعنی وہ ایسا سایہ نہیں ہوگا جو سورج کی گرمی سے بچائے اور جہنم کی لپک سے کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ جب آگ بھڑکتی ہے تو جو چیز اس پر بلند ہوتی ہے اسے لہب کہتے ہیں وہ سرخ ہو، زرد ہو یا سبز ہو، ایک قول یہ کیا گیا، تین شاخوں سے مراد ضریع اور زقوم وارغسلین ہیں یہ ضحاک کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ ابتدائی دھواں ہے جو آگ سے باہر نکلتا ہے پھر تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے جہاں تک نور کا تعلق ہے وہ مومنوں کے سروں پر رہے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد گردوغبار ہے وہ آگ کا شعلہ ہے جو انہیں احاطہ میں لیے ہوگا، پھر تین حصوں میں تقسیم ہوجائے گا وہ ان پر سایہ کیے رہے گا یہاں تک کہ حساب سے فراغت ہوجائے گی اور انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا ایک قول یہ کیا گیا، یہ یحموم کا سایہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فی سموم وحمیم۔ وظل من یحموم، لابارد ولاکریم۔ الواقعہ) ۔ جیسے پہلے گزرچکا ہے حدیث طیبہ میں ہے : سورج لوگوں کے سروں کے قریب ہوگا اور اس روز ان پر کوئی لباس اور کفن نہیں ہوں گے سورج کو ان جھلسا دے گا ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا اور اس دن کو لمبا کردیاجائیگا پھر اللہ تعالیٰ جس کے حق میں چاہے گا اپنی رحمت کے ساتھ اپنے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا اس وقت وہ کہیں گے، فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم۔ طور) اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں عذاب سموم سے بچایا اور جھٹلانے والوں کو کہا جائے گا، تین شاخوں والے سایہ کی طرف چلو اللہ تعالیٰ کے اولیاء اس کے عرش کے سایہ میں ہوں یا جہاں وہ اپنے سایہ میں جگہ دینا چاہے گا یہاں تک کہ حساب سے فراغت ہوجائے گی پھر ہر فریق کو جنت اور جہنم کے مستقر کی طرف جانے کا حکم دے دیا جائے گا، پھر آگ کی صفت بیان کی۔