تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 32
Tafseerاِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ﴿32﴾
- اِنَّهَابیشک وہ
- تَرْمِيْپھینکتی ہے
- بِشَرَرٍشعلے
- كَالْقَصْرِمحل جیسے
Translation · Al-Qurtubi
اس سے (آگ کی) اتنی اتنی بڑی چنگاری اڑتی ہیں جیسے محل
Tafseer · Al-Qurtubi
انھا ترمی بشرر کالقصر۔ شرر کا واحد شررہ ہے، اور شرار کا واحد شرارہ ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو آگ کی جانب سے اڑتی ہے اصل میں شررت الثوب سے مشتق ہے یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو اسے دھوپ میں پھیلائے تاکہ وہ خشک ہوجائے۔ قصر سے مراد بلند عمارت ہے عام قرات کالقصر صاد کے سکون کے ساتھ ہے، اس سے مراد قلعے اور شہر ہیں اس کی جمع قصور آتی ہے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کا نقطہ نظر ہے یہ جنس کے طبقہ پر جمع کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، قصر یہ قصر کی جمع ہے جس طرح جمرہ کی جمع جمر، تمرہ کی جمع تمر آتی ہے قصر ولکڑی کے موٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔
بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ہم موسم سرما کے تین تین ہاتھ کی یا اس سے کم لکڑیاں اٹھا کر رکھتے اور اسے قصر کا نام دیتے۔ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا، اس سے مراد بڑے درخت ہیں اور بڑی کھجور کے تنے ہیں جب وہ گرپڑیں اور انہیں کاٹا جائے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس کا ابتدائی حصہ ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، حمید اور سلمی نے اسے کالقصر پڑھا ہے، اس سے مراد کھجور کا ابتدائی حصہ ہے، قصرہ کا معنی گردن بھی ہے اس کی جمع قصر اور قصرات آتی ہے، قتادہ نے کہا، اس سے مراد اونٹ کی گردن ہے، سعید بن جبیر نے قاف کو کسرہ اور صاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ قصرہ کی جمع بھی ہوسکتی ہے جیسے بدرہ کی جمع بدر، قصعہ کی جمع قصع اور حلقہ کی جمع حلق آتی ہے یہ لوہے کی چھلوں کے لیے ہے، ابوحاتم نے کہا، شاید یہ بھی ایک لغت ہے جس طرح حاجہ کی جمع حوج آتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، قصر سے مراد پہاڑ ہے شرر کو انگاروں سے مقدار میں قصر سے تشبیہ دی گئی پھر انہیں رنگوں میں سیاہ اونٹوں سے تشبیہ دی گئی صفر اس سے مراد سیاہ اونٹ ہیں عرب زیاہ اونٹوں کو صفر کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا : تلک خیس منہ وتلک رکابی، ھن صفر اولادھا کا الزبیب۔ وہ اس کی جانب سے میرے گھوڑے اور میرے اونٹ ہیں وہ سیاہ ہیں ان کی اولادیں کشمش کی رنگت والی ہیں۔ سیاہ اونٹوں کو صفر کہا گیا ہے کیونکہ ان کی سیاہی میں زردی کی آمیزش ہوتی ہے جس طرح سفید ہر نوں کو ادم کہتے ہیں کیونکہ ان کی سفیدی پر گدلاپن غالب ہوتا ہے انگارہ جب اڑے اور پھر گرے تو اس میں آگ کی رنگت ہوتی ہے جو سیاہ رنگ کے مشابہ ہوتی ہے جس میں زردی کی آمیزش ہوتی ہے۔
عمران بن خطان خارجی نے کہا : دعتھم باعلی صو تھا ورمتھم، بمثل الجمال الصفر نزاعۃ الشوی۔ اس نے انہیں بلند آواز سے بلایا اور انہیں زرد اونٹوں کی طرح پھینکا جو چہرے کو جھلسا دینے والی تھی۔ ترمذی نے اس قول کو ضعیف قرار دیا کہا، یہ قول لغت میں محال ہے کہ کوئی چیز ہو جس میں تھوڑی سی چیز کی آمیزش ہوتوتمام کو اس تھوری سی ملنے والی چیز کی طرف منسوب کردیاجائے، جس نے یہ قول کیا ہے اس پر تعجب ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، جملت صفر۔ ہم لغت میں ایسی کوئی چیز نہیں جانتے۔ ہمارے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ آگ نور سے پیدا کی گئی وہ روشن آگ ہے جب اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا جو آگ کی جگہ ہے وہ جگہ اس آگ سے بھر گئی اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنی قوت اور غضب بھیجا تو اس قوت و غلبہ کی وجہ سے وہ سیاہ ہوگئی اور اس کی گہرائی میں اور اضافہ ہوگیا، وہ آگ سے زیادہ سیاہ ہوگئی اور ہر چیز سے زیادہ سیاہ ہوگئی جب قیامت کا دن ہوگا میدان محشر میں جہنم کو لایاجائے گا تو وہ لوگوں پر شرارے پھینکے گی وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوگی وہ انگارے بھی سیاہ ہوں گے کیونکہ وہ سیاہ آگ کے ہوں گے۔ جب آگ اپنے انگارے پھینکے گی تو وہ دشمنوں کو مارے گی وہ آگ کے سیاہ ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوں گے یہ موحدین تک نہیں پہنچیں گے اور رحمت کے حجاب میں ہوں گے جنہوں نے مومنین کو موقف کو گھیر رکھا ہوگا، یہی وہ بادل ہے جس میں رب العالمین جلوہ افروز ہوگا لیکن وہ شرارتوں کے پھینکے جانے کے منظر کو دیکھیں گے جب وہ اس منظر کو دیکھیں گے تو اللہ تعالیٰ اس غضب اور ہیبت کو دور فرمادے گا حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے جملت صفر سے مراد کشتیوں کی رسیاں ہیں۔ ان رسیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ مردوں کو کمریں محسوس ہوں گی، اسے امام بخاری نے ذکر کیا ہے وہ اسے جمالات پڑھتے اس طرح مجاہد اور حمید نے جمالات پڑھا ہے، اس سے مراد موٹی رسیاں ہیں اس سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں قلوس کا واحد قلس ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے، اس سے مراد تانبے کے ٹکڑے ہیں، موٹی رسی میں جو لفظ معروف ہے وہ جمل ہے جس طرح سورة الاعراف میں پہلے گزرچکا ہے، جمالات، جمالۃ کی جمع ہے گویا جمالہ، جمل کی جمع ہے، جس طرح حجر کی جمع حجارہ ہے اور ذکر کی جمع ذکارہ ہے، یعقوب، ابن ابی اسحاق، عیسیٰ اور حجدری نے جمالہ پڑھا ہے، یہ واحد کا صیغہ ہے اس سے مراد عظیم شی ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کے ساتھ جمع ہو، حفص، کسائی اور حمزہ نے جمالہ، پڑھا ہے اور سات میں سے باقی قراء نے جمالات پڑھا ہے، فراء نے کہا یہ جائز ہے کہ جمالات، جمال کی جمع ہو جس طرح کہا جاتا ہے، رجل کی جمع رجال اور رجالات ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کی تیزی کی وجہ سے اونٹوں سے تشبیہ دی گئی ایک قول یہ کیا گیا ہے بعض، بعض کی متابعت کرتے ہیں، قصر کی جمع قصور ہے، قصر الظلام کا معنی تاریکیوں کا آپس میں ملنا ہے کہا جاتا ہے، اتیتہ قصرا من عشاء کے وقت آیا یہ مشترک ہے۔ جس طرح کسی نے کہا، کا نھم قصرا مصابیح راھب گویا وہ عشاء کے وقت راہب کے چراغ ہیں۔
مسئلہ۔ اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ لکڑیوں اور کوئلہ کی ذخیرہ کرنا جائز ہے، اگرچہ یہ غذا میں سے ہے کیونکہ یہ انسان کے مصالح اورٖضروریات کو پورا کرنے کا باعث ہے، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو یہ تقاضا کرتی ہیں کہ انسان ضرورت وقت کے علاوہ کسی چیز کو حاصل کرنے کا خیال رکھے تاکہ یہ چیز سستی مل جائے اور اس کے وجود کی حالت زیادہ ممکن ہو جس طرح نبی کریم کا معمول مبارک تھا کہ آپ اپنے مال اور کمائی سے اس وقت خوراک اکٹھی کرلیتے تھے جب خوراک عام پائی جاتی ہر شے اس پر محمول کیا جائے، حضرت ابن عباس نے اپنے اس ارشاد میں اس چیز کو بیان کیا ہے ہم لکڑیوں کا ارادہ کرتے ہیں ہم تین تین ہاتھ یا اس سے زائد یا اس سے کم کاٹ لیتے اور موسم سرما کے لیے انہیں ذخیرہ کرلیتے ہم اس عمل کو قصر کا نام دیتے اس بارے میں جو گفتگو کی گئی ان میں سے یہ سب سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔