تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 35
Tafseerهٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ﴿35﴾
- هٰذَا يَوْمُاس دن
- لَا يَنْطِقُوْنَوہ نہ بول سکیں گے
Translation · Al-Qurtubi
یہ وہ دن ہے کہ (لوگ) لب تک نہ ہلا سکیں گے
Tafseer · Al-Qurtubi
ھذا یوم لاینطقون۔۔۔ تا۔۔۔۔ للمکذبین۔
وہ اس وقت گفتگو نہ کریں گے، قیامت کے دن کے کئی مواقع اور محل ہیں یہ ان اوقات میں سے ہے جس میں وہ گفتگو نہ کریں گے اور انہیں معذرت کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، کہ ابن ارزق نے ان سے، ھذا یوم لاینطقون، اور فلا تسمع الاھمسا۔ طہ) کے بارے میں پوچھا جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون۔ الطور) تو حضرت ابن عباس نے اسے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تیرے رب کے ہاں ایک دن ان ہزارسالوں کی طرح ہے جنہیں تم شمار کرتے ہو، ان دونوں میں سے ہر ایک دن کی مقدار کا اندازہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ نفع مند بات نہ کریں گے، جو آدمی ایسی گفتگو کرے جو نفع مند نہ ہو وہ اس طرح ہے جیسے اس نے گفتگو ہی نہیں کی۔ حضرت حسن، بصری نے کہا، وہ دلیل سے گفتگو نہیں کرین گے اگرچہ وہ گفتگو کریں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ان کے جواب کا وقت ہے ارشاد فرمایا، اخسوافیھا ولاتکلمون۔ المومنون) اس بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے، حضرت ابوعثمان نے فرمایا، ہیبت کو دیکھنے اور گناہوں کے حیاء نے انہیں خاموش کردیا ہے جنید نے کہا، اس آدمی کے لیے کیا عذر ہوسکتا ہے جو منعم سے اعراض کرے، اس کا انکار کرے اور اس کے احسانات اور نعمتوں کی ناشکری کرے یوم کا لفظ عام لوگوں کی قرات میں مبتداء اور خبر ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے فرشتے کہیں گے، یہ ایسا دن ہے جس میں وہ گفتگو نہ کریں، یہ بھی جائز ہے، کہ انطلقوا فرشتوں کا قول ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں سے فرمائے گا، یہ ایسا دن ہوگا جس میں کفار گفتگو نہ کریں گے، الیوم کا معنی ساعت اور وقت ہے۔
یحییٰ بن سلطان نے ابوبکر سے وہ عاصم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اسمیں یوم کا لفظ منصوب ہے، ابن ہرمز اور دوسرے علماء سے مروی ہے یہ بھی جائز ہے کہ یوم کا لفظ مبنی ہو کیونکہ وہ فعل کی طرف مضاف ہو اور اس کا محل رفع کا ہو یہ کو فیوں کا نقطہ نظر ہے یہ بھی جائز ہے کہ اشارہ یوم کی طرف نہ ہو یہ بصریوں کا مذہب ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ مبنی ہوتا ہے جب اسے مبنی کی طرف مضاف کیا جائے یہاں فعل معرب ہے فراء نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان، ولایوذن لھم فیعتذرون۔ کے بارے میں کہا، یہاں فاء عاطفہ ہے، یعتذرون کا عطف یوذن پر ہے، یہ جائز ہے کیونکہ آخر میں نون اعرابی موجود ہے، اگر یہ فعتذروا ہوتاآیات میں موافقت نہ ہوتی، جب کہ یہ ارشاد فرمایا، لایقضی علیھم فیموتوا۔ فاطر 36) یہاں فیموتوا محل نصب میں ہے سب درست ہے اس کی مثل من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ، الحدید 11) کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں کئی گنا اضافہ کردے یہاں فیضعفہ کو مرفوع اور منصوب پڑھنا جائز ہے۔