تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 77. Al-Mursalaat · Ayah 48

Tafseer
  1. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ﴿48﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. قِيْلَکہا جائے
    3. لَهُمُان سے
    4. ارْكَعُوْاتم رکوع کرو
    5. لَا يَرْكَعُوْنَوہ رکوع نہیں کرتے
Translation · Al-Qurtubi
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکو تو جھکتے نہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
واذا قیل لھم الرکعوا۔۔ تا۔۔۔ یومنون۔ واذا قیل لھم الرکعوا لایرکعون۔ جب ان مشرکوں کو یہ کہا جاتا ہے، نماز پڑھو تو وہ نماز نہیں پڑھتے، یہ مجاہد کا قول ہے، مقاتل نے کہا، یہ بنوثقیف کے بارے میں نازل ہوئی جو نماز پڑھنے سے رک گئے یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی، مقاتل نے کہا، نبی کریم نے انہیں کہا، اسلام قبول کرلو، اور انہیں نماز کا حکم دیاتوان کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا۔ انہوں نے کہا، ہم نہیں جھکیں گے کیونکہ یہ ہمارے لیے گالی ہے، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، ایسے دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع و سجود نہ ہو۔ یہ بات ذکر کی جاتی ہے، کہ امام مالک نماز عصر کے بعد مسجد میں داخل ہوئے آپ نماز عصرت کے بعد نماز پڑھنے کو جائز خیال نہ کرتے تھے آپ بیٹھ گئے اور نماز نہ پڑھی ایک بچے نے ان سے کہا، اے شیخ اٹھیے، اور نماز پڑھیے آپ اٹھے اور نماز پڑھی اور اپنے مذہب کے مطابق اس سے کوئی جھگڑا نہ کیا۔ حضرت امام مالک سے پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا میں ڈر گیا کہ کہیں میں ان لوگوں میں شامل نہ ہوجاؤں جن کے بارے میں ہے، واذا قیل لھم ارکعوا لایرکعون۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ بات انہیں آخرت میں کہی جائے گی جب انہیں سجدہ کی دعوت دی جائے گی تو وہ اس کی طاقت نہ رکھیں گے قتادہ نے کہا، یہ دنیا میں ہوگا، ابن عربی نے کہا، یہ آیت اس امر پر حجت ہے کہ رکوع واجب ہے اور نماز میں یہ رکن ہے اس پر تمام علماء کا اجماع ہے، ایک قوم یہ گمان ہے یہ قیامت میں ہوگا وہ تکلیف کا گھر نہیں یعنی وہاں مقصود کسی فعل کا مطالبہ نہیں امر اس کی طرف ویل ہے اور عقاب کی حیثیت سے متوجہ ہوگا، انہیں سجدہ کی دعوت دی جائے گی تاکہ دنیا میں لوگوں کا جو حال تھا وہ عیاں ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا کرتا تھا وہ سجدہ کرسکے گا، جو ریاکاری کے طور پر سجدہ کیا کرتا تھا تو اس کی پشت سیدھی ہوجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے جب انہیں کہا جائے گا حق کے لیے جھکو تو وہ نہ جھک سکیں گے یہ نماز اور دوسرے امور میں عام ہے نماز کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ توحید کے بعد وہ شرائع کی اصل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ نماز ایمان کے بغیر درست نہیں۔