Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 102
فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
فَمَنْ : پس جو۔ جس ثَقُلَتْ : بھاری ہوئی مَوَازِيْنُهٗ : اس کا تول (پلہ) فَاُولٰٓئِكَ : پس وہ لوگ هُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : فلاح پانے والے
پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے
فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَـاُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فِیْ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ۔ تَلْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ وَھُمْ فِیْھَا کٰلِحُوْنَ ۔ (المومنون : 102 تا 104) (پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ جھلس ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ، اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے۔ ) قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ یہ تیسرا منظر ہے جس سے قیامت کے دن کفار کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ دنیا میں یہ لوگ اپنے قبائل کی افرادی قوت اور باہمی تعاون و تناصر پر ہمیشہ نازاں رہے اور یہی ان کی اجتماعی قوت کا سب سے بڑا سرچشمہ تھا، لیکن قیامت کے دن اس طرح بےبسی اور بےکسی کی تصویر بنے کھڑے ہوں گے کہ قبیلوں کا انتساب رکھتے ہوئے بھی اور باہمی تعاون کے جذبے کے باوجود ایک دوسرے کی بات تک نہیں پوچھ سکیں گے۔ قریبی اور حقیقی رشتے بھی اس دن کی ہولناکی کے سامنے اپنا وجود کھو دیں گے۔ اس دن صرف ایک سکہ کام آئے گا جسے ایمان و عمل کہا جاتا ہے۔ چناچہ جب ہر شخص کے اعمال تولے جائیں گے تو ایمان و عمل ہی وہ اثاثہ ہوگا جو پلڑے کو جھکا دے گا اور اس سے محرومی ہر طرح کے اثاثوں کو بےقدر اور بےوزن کردے گی۔ اس دن جو ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے گا وہ دنیا میں چاہے کیسا ہی نادار اور بےیارومددگار شخص رہا ہو اس کے سر پر کامیابی کا تاج رکھا جائے گا۔ اور یہی وہ حقیقی کامیابی ہے جس کا ذکر اس سورت کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ اور اشرافِ قریش کو بار بار سمجھایا گیا کہ تم جن چیزوں کو عزت و افتخار کی علامت اور کامیابی کا سرمایہ سمجھتے ہو ان کی حیثیت ڈھلتی چھائوں سے زیادہ نہیں۔ حقیقی کامیابی یہ ہے جو آج دیکھنے میں آئے گی اور جس کے بارے میں دنیا کو پہلے بتادیا گیا تھا فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ط وَمَاالْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلاَّمَتَاعُ الْغُرُوْرِ ” جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ ٹھہرا کامیاب، اور دنیا کی زندگی متاع غرور کے سوا کچھ نہیں۔ “ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے آج وہ خود اپنی آنکھوں سے اپنی ہلاکت اور تباہی دیکھیں گے۔ ان کے طرزعمل کی پاداش میں انھیں ہمیشہ جہنم میں رکھا جائے گا۔ اور جہنم کے عذاب کی شدت کا عالم یہ ہوگا کہ جیسے ہی ان کے چہروں پر جہنم کی آگ کے تھپیڑے پڑیں گے تو ان کی کھال جل کر لٹک جائے گی اور ان کے دانت اس طرح باہر نکل آئیں گے جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے کسی نے پوچھا کہ آیت کریمہ میں جو کٰلِحُوْنَکا لفظ آیا ہے جس کا واحد کَالِحْ ہے اس کا مفہوم کیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا اَلَمْ تَرَا اِلٰی الرَّاسِ الْمُشِیْط ” کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی۔ “ یعنی جس طرح بکرے کی سری اگر بھونی جائے تو اس میں چہرے کے دائیں بائیں کا چمڑا غائب ہوجاتا ہے اور صرف دانت نظر آتے ہیں، یہ حال اس کافر کا ہوگا جسے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
Top