Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا سالوں کے حساب سے تم زمین میں کتنا عرصہ رہے ہو
قٰـلَ کَمْ لَبِثْـتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ ۔ قَالُوْا لَبِثْـنَا یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ ۔ قٰـلَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْاَنَّـکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (المومنون : 112 تا 114) (اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا سالوں کے حساب سے تم زمین میں کتنا عرصہ رہے ہو۔ وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔ ارشاد ہوگا تم تو بس تھوڑی ہی مدت رہے ہو، کاش تم نے یہ اس وقت جانا ہوتا۔ ) طولِ حیات کا مغالطہ قریش کے عقیدے کی سب سے بڑی خرابی کا سبب شرک ہے جس نے ان کے انفرادی اور اجتماعی تشخص کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور ان کی بدکرداری اور غیرسنجیدگی کا سب سے بڑا سبب قیامت کا انکار ہے اور قیامت کے بارے میں ان کا تصور یہ ہے کہ اولاً تو اس کے آنے کا کوئی امکان نہیں اور اگر اس کی آمد فرض کر بھی لی جائے تو جب بھی اس کا وقوع ابھی دور ہے، تو ابھی سے اپنا عیش مکدر کیوں کیا جائے۔ قیامت کے دن ان کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی لیکن تب اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ لیکن وہاں جس طرح ان کے ساتھ مکالمہ ہونے والا ہے جو انھیں اپنی غلطی کے اعتراف پر مجبور کردے گا، وہ مکالمہ انھیں سنایا جارہا ہے تاکہ اگر ان کے اندر نصیحت قبول کرنے کا کسی حد تک بھی مادہ موجود ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ چناچہ اس مکالمے کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ اے قیامت کا انکار کرنے والو ! یہ بتائو کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے ہو تو وہ جواب میں کہیں گے کہ ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ۔ ہمیں اپنی غفلت کے باعث ٹھیک طرح سے اندازہ نہیں، آپ ان لوگوں سے پوچھ لیجئے جو زندگی کے دنوں کی گنتی کرتے رہے ہیں۔ پروردگار ارشاد فرمائے گا کہ تم آخرت کے مقابلے میں دنیا میں بہت قلیل عرصہ رہے ہو، لیکن تم اسی قلیل کو کثیر سمجھ کر اس کے عیش و عشرت کو ہاتھ سے دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ آج اگر تمہیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو تا ابد ہے۔ دنیا کی زندگی اس کے مقابلے میں فانی بھی ہے اور بہت مختصر بھی۔ لیکن کاش تم نے اس بات کو دنیا میں سمجھا ہوتا تو تمہاری ہدایت کا سبب بن سکتی تھی، لیکن آج اس کا کیا فائدہ۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ مکالمہ کافروں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نہیں ہوگا بلکہ کافر خود آپس میں یہ باتیں کریں گے۔ پہلی آیت میں ” قال “ کا فائل اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ قائل یعنی کوئی کہنے والا ہے جو ظاہر ہے کہ ان ہی میں سے ہوگا۔ اس کے پوچھنے پر دوسرے لوگ جواب دیں گے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا قیام دنیا میں ایک دن کا تھا یا ایک دن کا بھی کچھ حصہ۔ لیکن ساتھ ہی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم سے کیا پوچھتے ہو، ان لوگوں سے پوچھو جو اس کا شمار کرتے رہے ہیں، لیکن ایسے لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے۔ ہم تو اس وقت اپنے خطرناک مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور ہولناک عذاب ہمارے انتظار میں ہے اور تم ہم سے دنیا میں ہمارے قیام کی تفصیلات جاننا چاہتے ہو۔ پھر ان ہی میں سے کوئی صاحب کہیں گے، معلوم ہوتا ہے یہ وہ صاحب ہوں گے جو دنیا میں ان کے نزدیک بہت عقیل و فہیم سمجھے جاتے تھے کہ صحیح بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں تمہاری مدت قیام بہت مختصر تھی۔ لیکن اس کے جاننے اور احساس کرنے کا وقت دنیا تھی، آج تو یہ باتیں بیکارِ محض ہیں۔ مکالمے کی اس تشریح پر یہ اہل علم سورة طٰہٰکی آیات 102 تا 104 سے استدلال کرتے ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کافر آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے یہ کہیں گے کہ تمہارا قیام دنیا میں دس دن سے زیادہ نہ تھا اور پھر ان میں سب سے زیادہ دانا و بینا آدمی یہ کہے گا کہ میرے نزدیک تو یہ قیام ایک دن سے زیادہ نہیں تھا۔ سورة طٰہٰ کی ان آیات کو دیکھتے ہوئے یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ اہل جہنم کی یہ گفتگو ان کے اپنے درمیان ہوگی، اللہ تعالیٰ یا کسی فرشتے کے ساتھ نہیں۔ لیکن جب ہم آنے والی آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں جس میں کفار کو ملامت کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ یہ ساری کو تاہیاں اور گمراہیاں اس سبب سے ہوئی ہیں کہ تم نے یہ سمجھا کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے۔ اس میں چونکہ پروردگار کا ارشاد نقل کیا گیا ہے، اس سے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ یہ گفتگو بھی کفار اور پروردگار کے درمیان ہوئی ہو، اور اس کا بھی امکان ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری سے پہلے جب میدانِ حشر میں انتظار میں کھڑے تھے، یہی گفتگو ان کے درمیان بھی ہوئی ہو اور بعد میں پروردگار سے بھی اس سوال و جواب کی نوبت آئی ہو۔ بہرحال کہنا یہ ہے کہ جس تصور نے ان کی آخرت برباد کر ڈالی اس کی اصلاح آخرت میں جا کے ہوگی لیکن اس وقت اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کسی کو یہ خیال گزرے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت قلیل اور بےحقیقت ہے، لیکن دنیا میں رہتے ہوئے بعض دفعہ ایک ایک دن گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ قلت و کثرت اور اہم اور غیراہم کا فیصلہ اس وقت ہوتا ہے جب غفلت کا غبار چھٹتا ہے۔ غفلت میں گزرنے والی زندگی گزرتے ہوئے بہت طویل ہوتی ہے لیکن جب وہ اپنے انجام سے دوچار ہوتی ہے یا کسی مقصد سے ہمکنار ہوتی ہے تو تب اندازہ ہوتا ہے کہ اسے تو زندگی کہنا، زندگی کی توہین ہے اور اس کی طوالت دراصل غفلت کی طوالت ہے اور جیسے جیسے آدمی اس فکر کو مجلا اور مصفا کرتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے اس کا یہ احساس توانا ہوتا جاتا ہے۔ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
Top