Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 118
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠   ۧ
وَقُلْ : اور آپ کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ : بخش دے وَارْحَمْ : اور رحم فرما وَاَنْتَ : اور تو خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : بہترین رحم کرنے والا ہے
اور دعا کیجیے کہ اے رب ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے
وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُالرّٰحِمِیْنَ ۔ (المومنون : 118) (اور دعا کیجیے کہ اے رب ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ معصوم ہیں تو پھر استغفار کا مفہوم کیا ہے ؟ سورت کے آخر میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطہ سے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو طلب مغفرت و رحمت کی دعا تلقین کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہاں تک رحم کا تعلق ہے یہ تو ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ ایک عام آدمی بھی اللہ تعالیٰ سے رحم کا طلبگار ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے انتہائی مقرب ہیں وہ بھی اس سے ہمیشہ رحم کے خواستگار رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر جگہ اس لفظ کی معنویت میں گہرائی اور گیرائی پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مانگنے والے کو وہ کچھ ملتا ہے جو اس کے اپنے مقام و مرتبہ کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن جہاں تک استغفار اور طلب مغفرت کا تعلق ہے یہ دعا تو اس شخص کے لیے سزاوار ہے جس سے کبھی نہ کبھی گناہ کا صدور ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول معصوم ہوتے ہیں یعنی ان سے کبھی گناہ صادر نہیں ہوتا۔ اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول تو چمن نبوت کے گل سرسبد ہیں، ان سے گناہ کے صدور کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، تو پھر آپ کو یہ تلقین کرنا کہ آپ طلب مغفرت کی دعا کریں اس کا کیا مفہوم ہوسکتا ہے۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا استغفار درحقیقت امت کے گناہوں کی بخشش کے لیے ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ کی امت، آپ ﷺ کی اولاد اور آپ ﷺ کی سپاہ کی طرح ہے۔ جرنیل کو ہمیشہ اپنی سپاہ اور باپ کو ہمیشہ اپنی اولاد کی فکر رہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو تو بھول سکتا ہے لیکن انھیں اپنی دعائوں میں کبھی نہیں بھولتا۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ ان کی خوبیاں اور کمزوریاں ہمیشہ جرنیل اور باپ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس مفہوم کے صحیح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ یقینا اپنی امت کے لیے استغفار فرماتے تھے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ﷺ اپنے آپ کو بھول جاتے تھے یا آپ ﷺ اپنے لیے اس لیے استغفار نہیں کرتے تھے کیونکہ آپ معصوم تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ استغفار صرف گناہوں سے بخشش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ مباح کاموں میں تدبیر کی غلطی پر بھی ہوتا ہے اور حسنات الابرار سیئات المقربین کے اصول کے مطابق بعض ایسی باتیں جو نیک لوگوں کی نیکیاں سمجھی جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقام بلند کے حوالے سے انھیں فروگزاشت کہا جاسکتا ہے۔ ایسی فروگزاشتوں کے لیے استغفار ہمیشہ پیغمبر بھی کرتے رہے ہیں اور اسی کا یہاں آنحضرت ﷺ کو بھی حکم دیا جارہا ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض دفعہ استغفار گناہوں سے بخشش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ترقی درجات کے لیے بھی ہوتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے درجات اور مقامات میں آج بھی برابر اضافہ ہورہا ہے اور قیامت کے دن مزید اضافہ ہوگا۔ دعا میں معنوی لطافت اس دعا میں ایک لطیف معنویت بھی پائی جاتی ہے کہ آیت 108 میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دھتکارتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دور ہوجاؤ اب جہنم میں پڑے رہو اور مجھ سے کبھی بات کرنے کی جرأت نہ کرنا۔ اور اگلی آیت کریمہ میں اس کی وجہ یہ بتائی کہ تمہارے سامنے میرے بندے اور میرے پیغمبر پر ایمان لانے والے مجھ سے طلب مغفرت کرتے اور رحمت کی دعائیں مانگتے تھے تو تم ان کا ہمیشہ مذاق اڑاتے تھے۔ ان کی توہین کا بدلہ یہ ہے کہ آج میں تم سے بات تک کرنا نہیں چاہتا۔ اب سورت کے آخر میں اپنے انھیں بندوں کو جنھیں قیامت کے دن بیش از بیش نوازشات سے گراں بار کردیا جائے گا، حکم دیا جارہا ہے کہ جن دعائوں پر کافر تمہارا مذاق اڑاتے تھے، تم وہ دعائیں برابر اپنے اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہو۔ یہی دعائیں تمہارے لیے مغفرت و رحمت کے دروازے کی کلید ہیں۔ اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن یہ بات تمام صحابہ کرام ( رض) سے کہی جارہی ہے۔ اب اگر یہ لوگ اپنے معمول کے مطابق تمہارا مذاق اڑانا جاری رکھتے ہیں جبکہ انھیں صاف تنبیہ کی جاچکی ہے تو وہ خود ہی اپنے خلاف ایک مضبوط مقدمہ تیار کریں گے جس سے کل انھیں واسطہ پڑنے والا ہے۔
Top