Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 15
ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ
ثُمَّ : پھر اِنَّكُمْ : بیشک تم بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد لَمَيِّتُوْنَ : ضرور مرنے والے
پھر یقینا تم ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد مرنے والے ہو
ثُمَّ اِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوْنَ ۔ (المومنون : 15، 16) (پھر یقینا تم ان مرحلوں سے گزرنے کے بعد مرنے والے ہو۔ پھر بلا شبہ تمہیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ ) بحث کا نتیجہ زندگی کے تمام مراحل جن جن سے انسان اپنی تخلیق سے گزرا ہے ان تمام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس زندگی کا آخر ایک دن خاتمہ ہوجاتا ہے اور تم فرداً فرداً اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور تمہیں کوئی تعجب نہیں ہوتا کیونکہ تم جانتے ہو کہ دنیا کی ہر چیز ایک دن ختم ہونی ہے اور ہماری زندگی کا بھی یہ آخری مرحلہ ہے۔ لیکن اگر تم پانی کی ایک بوند سے لے کر اپنی زندگی کے تمام مراحل پر غور کرو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ ان میں سے کوئی مرحلہ بھی پہلے مرحلے کا منطقی جواب نہیں بلکہ سراسر اللہ کی قدرت کا ظہور ہے۔ یہاں موت حیات کا نتیجہ نہیں اور نہ حیات موت کا پیش خیمہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ انسان پر باقی مخلوقات کی طرح عدم محض طاری تھا، اللہ نے محض اپنی قدرت سے اسے زندگی بخشی اور پھر وہ زندگی کے مختلف مراحل سے اسی کی رحمت اور قدرت سے کامیابی سے گزرا، اگر وہ ان میں سے ایک ایک مرحلے پر غور وفکر کرتا تو اس کا اللہ کی قدرت پر یقین بڑھتا رہتا۔ لیکن اس نے اپنی نادانی سے ان تبدیلیوں کو حالات کا نتیجہ سمجھا۔ لیکن اب قرآن کریم تمام نوع انسانی کو دعوت دے رہا ہے کہ تم اپنی زندگی کے تغیرات اور تطورات پر فکر اور تدبر کی نگاہ ڈالو اور پھر فیصلہ کرو کہ کیا ان میں سے ہر تبدیلی اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے یا نہیں ؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر تمہاری فکر کو موت پر رک نہیں جانا چاہیے بلکہ اس کا اقرار کرنا چاہیے کہ جس قدرت نے تمہیں پانی کی بوند سے حیرت انگیز صلاحیتوں کی مالک مخلوق بنایاوہی پروردگار موت کے بعد تمہیں برزخ میں رکھے گا اور جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا تو تمہیں ازسر نو زندہ کرکے جواب دہی کے لیے میدانِ حشر میں لے جائے گا اور ان میں سے کوئی مرحلہ بھی اس کی قدرت سے بعید نہیں۔
Top