Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 6
اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ
اِلَّا : مگر عَلٰٓي : پر۔ سے اَزْوَاجِهِمْ : اپنی بیویاں اَوْ : یا مَا مَلَكَتْ : جو مالک ہوئے اَيْمَانُهُمْ : ان کے دائیں ہاتھ فَاِنَّهُمْ : پس بیشک وہ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ : کوئی ملامت نہیں
بجز اپنی بیویوں اور اپنی کنیزوں کے، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں
اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْن۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ (المومنون : 6، 7) (بجز اپنی بیویوں اور اپنی کنیزوں کے، سو اس بارے میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔ البتہ ! جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ سابقہ آیت کریمہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ جو اصحابِ ایمان اور اللہ والے ہوتے ہیں وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ وہ جنسی تعلق کو اپنے لیے ایک عیب سمجھتے ہیں۔ وہ بالکل راہبوں اور جوگیوں کی طرح زندگی بھر نہ شادی کرتے ہیں اور نہ کسی اور طرح اس تعلق کے قریب جاتے ہیں۔ چناچہ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی اس طرح حفاظت کرتے ہیں کہ بیویوں اور کنیزوں کے سوا صنفی تعلق کسی اور سے قائم نہیں کرتے۔ وہ چونکہ اپنے اللہ پر ایمان لائے ہیں اس کی شریعت کو انھوں نے اپنا دستورالعمل بنایا ہے اور اس کے رسول کو اپنا آئیڈیل اور اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لیے جہاں اس کی شریعت کسی چیز کی اجازت دیتی ہے تو وہ اجازت کو اپنے لیے ذریعہ فلاح سمجھتے ہیں اور جہاں کسی چیز سے روکتی ہے تو اس سے رک جانے کو اللہ کی رضا کا راستہ جانتے ہیں۔ وہ اپنے صنفی تعلقات میں نہ تو بالکل سانڈھ بن جانتے ہیں کہ آبروئیں برباد کرتے پھریں اور انسانی معاشرے کو لاعلاج امراض کا شکار کردیں اور نہ وہ اپنے اوپر غیر ضروری پابندیاں لگا کر رہبانیت کا راستہ اختیار کرکے فطرت سے جنگ کرتے ہیں۔ اللہ نے انھیں نکاح کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنی بیویوں سے صنفی تعلق قائم کریں۔ اسی طرح لونڈیوں اور کنیزوں سے بھی جنسی تعلق قائم کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ ایک وقت میں یہ بھی اسلامی معاشرے کی بہتری اور اصلاح کے لیے بہت ضروری تھا۔ بیوی سے یہ تعلق اس لیے جائز ہے کہ نکاح کو جائز طریقہ قرار دیا گیا ہے اور لونڈی سے اس تعلق کے جواز کا سبب یہ ہے کہ باقاعدہ قانونی حیثیت سے لونڈی اپنے آقا کی ملک میں آتی ہے اور وہ ملک اس کے آقا کو اس سے تمتع کا حق دیتی ہے۔ لیکن اب چونکہ غلامی کا دور گزر گیا ہے اسلام نے اپنی ہمہ گیر کوششوں سے غلامی کو ختم کرڈالا ہے اس لیے ازسر نو ان بحثوں کو زندہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ یہاں تو بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں صنفی ضرورت ان کا فطری تقاضا ہے۔ اللہ نے اس تقاضے کو قانونی شکل دے کر نکاح اور ملک کی صورت میں اس کی اجازت دی ہے۔ لیکن جو شخص ان دونوں جائز طریقوں سے تجاوز کرتا ہوا کوئی اور راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں شمار ہوگا اور اسلامی شریعت میں حد سے تجاوز کو زنا کہا گیا ہے جس پر حد زنا جاری کی جاتی ہے۔ متعہ کا رد بعض علما نے انھیں آیات سے متعہ کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ایک مومن کے لیے صنفی خواہشات کی تکمیل کے دوہی طریقے ہیں جنھیں قرآن کریم نے جائز ٹھہرایا ہے۔ ایک ہے ” منکوحہ بیوی “ اور دوسری ہے ” مملوکہ لونڈی “۔ اس کے علاوہ تیسری ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں صنفی تعلق پیدا کیا جاسکے۔ جو شخص کسی عورت سے متعہ کرتا ہے تو یہ ممتوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔ لونڈی تو ظاہر ہے کہ وہ نہیں ہے اور جہاں تک بیوی ہونے کا تعلق ہے اسے بیوی بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ زوجیت کے لیے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہے، نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے۔ نہ اس کے لیے عدت ہے، نہ طلاق۔ نہ نفقہ، نہ ایلاء اور ظہار اور لعان وغیرہ۔ بلکہ چار بیویوں کی مقررہ حد سے بھی وہ مستثنیٰ ہے۔ پر جب وہ بیوی اور لونڈی دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو لامحالہ وہ ان کے علاوہ کچھ اور میں شمار ہوگی۔ جس کے طالب کو قرآن حد سے گزرنے والا قرار دیتا ہے۔ علامہ شبلی نے اپنی کتاب ” المامون “ میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ خلیفہ مامون اہل تشیع کے دلائل سے متاثرہو کر متعہ کے جواز کا قائل ہوگیا اور اس نے شہر میں متعہ کے جواز کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ جب شیخ الاسلام کو علم ہوا تو وہ خلیفہ کے پاس آئے اور اس سے آکر بات کی اور انھیں آیات سے استدلال کیا اور مامون سے پوچھا کہ ممتوعہ عورت لونڈی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو کیا بیوی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ تو شیخ الاسلام نے کہا کہ اس کے علاوہ تو ہر تعلق قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے والے کو حد سے تجاوز کرنے والا قراردیا ہے۔ مامون کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا تو دوبارہ شہر میں متعہ کے حرام ہونے کا اعلان کرایا گیا۔ اہلِ تشیع کی جسارت اہلِ تشیع متعہ کو مباح ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے فضائل بیان کرنے میں انتہائی مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ پیش نظر آیات کی موجودگی میں میں نہیں سمجھتا کہ وہ کون سے دلائل کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن دلائل سے قطع نظر ایک بات نہایت حیران کن ہے کہ جس کام کو وہ فضیلت اور ثواب کا کام سمجھتے ہیں اور لوگوں کو اس کی ترغیب بھی دیتے ہیں اسی کام کو وہ اپنی بچیوں اور اپنی بہنوں کے لیے کبھی سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بازاری عورتوں کا ایک بازار لگا رہے ؟ یا طبقہ امرا کے لوگ غریب بچیوں سے متعہ کے نام پر عیاشی کرتے رہیں ؟ اگر ایک فعل ایک خاندان کے لیے باعث ننگ وعار ہے تو دوسرے کسی خاندان کے لیے باعث عزو وقار کیسے ہوسکتا ہے ؟ اہلِ تشیع کی جسارت کا عالم تو یہ ہے کہ وہ تو نبی کریم ﷺ کے خاندان کو بھی اس سے بالا تر نہیں سمجھتے۔ ضیاء القرآن کے محترم مصنف نے ایک حوالہ دیا ہے ہم نہایت شرم کے احساس کے ساتھ اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔ اس مسئلہ کی تحقیق کرتے ہوئے جب میری نظر شیعہ کی مشہور کتاب تہذیب الاحکام جلد 7 صفحہ 271 مطبوعہ نجف اشرف باب تفصیل احکام النکاح جس کے مصنف شیخ الطائفہ ابی جعفر الطوسی ہیں کی اس عبارت پر پڑی ولا بأس بالتمتع بالھاشمیۃ کہ خاندانِ نبوت کی خواتین کے ساتھ بھی متعہ کرنے میں حرج نہیں تو نہ پوچھئے مجھ پر کیا گزری۔ میرا سر چکرانے لگا اور آنکھوں میں خون اترآیا اور میں اپنے آپ سے پوچھنے لگا کہ کیا یہ مذہب ان لوگوں کا ہے جو اہل بیت پاک کی محبت اور تعظیم و تکریم کو اپنا دین و ایمان بتاتے ہیں ؟ کیا اس دعویٰ محبت کی یہ حقیقت ہے ؟ کیا تعظیم و تکریم کے مدعی اتنی گستاخی کے جواز کا فتویٰ دے سکتے ہیں ؟ العیاذ باللہ العیاذ باللہ تعالیٰ
Top