Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 86
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
قُلْ : فرما دیں مَنْ : کون رَّبُّ : رب السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع) السَّبْعِ : سات وَرَبُّ : اور رب الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ : عرش عظیم
ان سے پوچھئے ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ۔ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰہِ ط قُلْ اَفَـلَا تَتَّـقُوْنَ ۔ (المومنون : 86 تا 87) (ان سے پوچھئے ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ وہ کہیں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، تو آپ کہئے تم اس سے کیوں نہیں ڈرتے۔ ) قریش کے تضادفکر کی مزید وضاحت سابقہ آیت کریمہ میں سوال زمین اور اہل زمین کے بارے میں تھا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں سوال کا تعلق ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم سے ہے۔ زمین اگرچہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ متعدد کُرُّوں میں سے سب سے چھوٹا کرہ بیان کی جاتی ہے، لیکن اس پر بسنے والی مخلوق چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور اسی زمین میں اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تشریف لائے ہیں اس لیے اس کی ایک خاص اہمیت ہے۔ زمینیں بھی سات ہیں، اس لیے سابقہ آیت کریمہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ الارض سے اسم جنس مراد ہے۔ اس لیے اس سے مراد صرف ایک زمین نہیں بلکہ ساتوں زمینیں ہیں۔ پھر زمین پر بسنے والی ان مخلوقات کا ذکر نہیں کیا جنھیں انسان جانتا پہچانتا ہے بلکہ مَنْ فِیْھَا کے بارے میں سوال کیا، کیونکہ ساتوں زمینوں میں اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوقات کا وجود بھی ممکن ہے جس سے انسان واقف نہ ہو۔ لیکن وہ فی الجملہ یہ بات سمجھتا ہے کہ کسی زمین پر مخلوق کوئی بھی ہو اس کی باگیں اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کی مخلوق ہے اسی کی ملکیت بھی ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم سے متعلق سوال کرکے پوری کائنات کا حصار کھینچ لیا گیا ہے کیونکہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ ساتوں زمینوں اور ساتوں آسمانوں سے باہر نہیں اور پھر ان سب کے اوپر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ہے جس کے ہمہ گیر اقتدارِ مطلق کی محسوس علامت عرش عظیم ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، لیکن یہ اپنے قد و قامت اور حجم میں تمام کائنات سے عظیم ہے۔ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے ایسے ہے جیسے ایک صحرا میں پڑی ہوئی انگشتری۔ مقصود یہ ہے کہ کائنات اپنی وسعتوں کے اعتبار سے ہمارے اندازوں اور علم سے ماورا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو ذات اس بےکراں کائنات اور عرش عظیم کی خدا ہے اس نے انھیں بھی بغیر کسی تردد کے اسی طرح پیدا کیا ہے جیسے زمین میں گھاس کی پتی اگتی یا حشرات الارض وجود میں آتے ہیں۔ ایسی ہمہ مقتدر ذات کے مقابلے میں کسی اور کو خدا بنانا یا اس کی خدائی یا اس کی صفات میں شریک کرنا اور یا اس کے حقوق میں شریک کرنا قطع نظر اس سے کہ شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے، عام انسانی عقل اپنے وضعی پیمانوں سے کام لے کر بھی فیصلہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ کبھی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی کہ جن قوتوں کو آج تک انسانوں نے کسی نہ کسی درجے میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا ہے انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور کمالات کے مقابلے میں کیا حیثیت حاصل ہے۔ وہ تو اپنے مخلوق ہونے کے اعتبار سے بھی بیشمار مخلوقات سے ادنیٰ ہیں۔ ان کا اپنا وجود جس طرح تخلیق کا رہین منت ہے اسی طرح اپنی بقاء میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج ہے۔ وہ ذات جس کی عظمتیں انسانی عقل کی حدود سے ماورا ہیں جو واجب الوجود ہے جو ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، مخلوقات میں سے ہر مخلوق اپنے وجود اور بقاء میں اسی کی محتاج ہے اس کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ کوئی اس کا شریک ہوسکتا ہے یا یہ خیال کرنا کہ وہ ایک دفعہ زمین کو بنا چکا اور انسانوں کو پیدا کرچکا لیکن اب دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا، یہ ایسی بات ہے جس سے زیادہ بےہودہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ زمینوں کی طرح ساتوں آسمان اور عرش عظیم بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور مملوک ہیں۔ لیکن اس تضاد فکر کا کیا کیا جائے کہ وہ اتنا واضح عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شرک کا بھی ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تمام تر قوتوں کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ انسانوں کو پیدا نہیں کرسکتا اور کائنات کی تباہی کے بعد ازسرنو آخرت برپا نہیں کرسکتا۔ آخر میں فرمایا کہ جس ہستی کے بارے میں تمہارے بنیادی احساسات یہ ہیں تو کیا تم اس کے شریک بناتے ہوئے اور اس کی نافرمانی کرتے ہوئے اس سے ڈرتے نہیں ہو۔
Top