Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ یقینا جھوٹے ہیں
بَلْ اَ تَیْنٰـھُمْ بِالْحَقِّ وَاِنَّھُمْ لَـکٰذِبُوْنَ ۔ مَاا تَّخَذَاللّٰہُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَ ھَبَ کُلُّ اِلٰہٍم بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (المومنون : 90 تا 92) (بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ یقینا جھوٹے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود شریک ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود جو کچھ اس نے پیدا کیا ہوتا اس کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا، پاک ہے اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ وہ غائب و حاضر کا جاننے والا ہے اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ) الکلمۃ الجامعۃ سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے حوالے سے مشرکین سے چند سوالات کیے۔ انھوں نے جواب میں تسلیم کیا کہ ہاں ! اللہ تعالیٰ ان صفات سے متصف ہے۔ زمین بھی اسی کی ہے، زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے، آسمانوں پر بھی اسی کی حکمرانی ہے، عرشِ عظیم کا بھی وہی مالک ہے، تمام کائنات اسی کے اقتدار کی گرفت میں ہے، اس کے سوا کوئی اور ذات نہیں جس کے قبضے میں کائنات کا اختیار ہو، وہ جس کو چاہے پناہ دے سکتا ہے اور جس کو چاہے پناہ دینے سے انکار کرسکتا ہے۔ لیکن کوئی دوسری قوت ایسی نہیں جو اس کے ارادے اور مرضی کے بغیر کسی کو پناہ دے سکے۔ ان تمام باتوں کو تسلیم کرنے کے باوجود حیرانی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بہت سارے اختیارات غیر اللہ کے سپرد کر رکھے ہیں۔ بہت سی قوتوں کو اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے۔ بہت ساری شخصیتوں کو اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں دخیل سمجھتے ہیں۔ ان کی اس دو عملی اور ان کے فکر و عمل کے اس تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے ان کی بےعقلی پر انھیں شرم دلائی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تم جن بنیادوں کو درست تسلیم کرتے ہو اس سے ماخوذ نتائج کو ماننے سے انکار کردیتے ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہاری عقلوں پر شیطانی قوتوں نے سحر کر رکھا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے بنیادی عقائد میں جن باتوں کو تسلیم کرتے ہو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اس کی ذات بھی یکتا ہے اور اس کی صفات اور حقوق میں بھی کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ رہے تمہارے مشرکانہ توہمات اور تصرفات، وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ عقیدے اور عمل یا دل اور زبان میں تضاد کو جھوٹ کہا جاتا ہے اور تم اپنی اعتقادی اور عملی زندگی میں اس جھوٹ کا پیکر بن کر رہ گئے ہو۔ چناچہ ہمارا پیغمبر تمہارے پاس حق لے کے آگیا ہے۔ تم اگر اپنے جھوٹ سے نکل سکتے ہو تو تمہیں اس حق کو قبول کرلینا چاہیے اور اس بات پر عقیدہ پختہ کرلینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا۔ ( ولد ایک ایسا لفظ ہے جو واحد اور جمع، مذکر اور مونث سب پر بولا جاتا ہے) ۔ اس میں صرف نصاریٰ پر تنقید نہیں بلکہ جس گروہ نے بھی اللہ تعالیٰ کی اولاد ثابت کی ہے وہ اس تنقید کا ہدف ہے اور ان میں مشرکین بھی شامل ہیں کیونکہ وہ بھی فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی مختلف مشرک گروہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کی ہے۔ البتہ مختلف قوموں میں اس کی شکلیں مختلف رہی ہیں۔ اسی طرح کوئی اس کا ساجھی اور شریک نہیں۔ یہ کائنات اس خدائے وحدہ لاشریک کی تخلیق ہے۔ ان کی بقاء کا دارومدار بھی صرف اسی کی ربوبیت پر ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق اور بقا میں کوئی اور اِلٰہ بھی شریک ہوتا یعنی کسی اِلٰہ نے کسی مخلوق کو پیدا کیا ہوتا اور کسی نے کسی کو۔ کوئی زمینوں کا خالق ہوتا، کوئی آسمانوں کا، کوئی انسانوں کا پیدا کرنے والا ہوتا اور کوئی جنوں کا۔ یا ہر مخلوق میں کچھ تعداد ایک خالق کی ہوتی اور کچھ دوسرے خالق کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہر خالق اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا۔ جس طرح ہر باپ اپنے بچوں کو لے کر الگ ہوجاتا ہے اور اگر خدانخواستہ اختلاف ہوجائے اور اختلاف تصادم کی صورت اختیار کرلے تو پھر رشتے بھول جاتے ہیں۔ ہر باپ اپنی اولاد کے ساتھ مل کر دوسروں پر چڑھائی کردیتا ہے۔ ایسے ہی ہر خالق اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہونے پر اکتفا نہ کرتا بلکہ کبھی نہ کبھی ان میں اختلاف اور تصادم کی نوبت آتی۔ کیونکہ جس طرح دو بادشاہوں کا اختیار ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی اجازت نہیں دیتا، تو ایک اِلٰہ کا اختیار دوسرے اِلٰہوں کو برداشت کرنے کا کیسے موقع دے سکتا ہے۔ چناچہ تصادم کی صورت میں کائنات کا نظام تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ اگر زمین کا اِلٰہ زمین کی قوت روئیدگی کو بروئے کار لاتا اور آسمان کا اِلٰہ آسمان کو بارش برسانے، غلہ پکانے اور پھلوں میں گداز پیدا کرنے سے منع کردیتا تو زمین میں کوئی چیز نہ اگ سکتی، اور اگر اگتی تو فصل کی صورت اختیار نہ کرسکتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین پر بسنے والے تمام تباہ و برباد ہوجاتے۔ رہی یہ بات کہ اتنی وسیع کائنات کا نظام ایک اِلٰہ کیسے چلا سکتا ہے، وہ کس طرح ایک ایک مخلوق کی ضرورت کو جان سکتا اور اس کے اندرونی حالات سے آگاہ ہوسکتا ہے، وہ اپنے عرش عظیم پر فائز کائنات کے دوردراز گوشے کو کیسے کنٹرول کرسکتا ہے، اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو غیب کی بھی جاننے والی ہے اور حاضر کی بھی۔ اس کی عظمت، اس کی حاکمیت، اس کی ہیبت، اس کی وسعت اور اس کی وجاہت کسی دوسرے کی شرکت کو قبول نہیں کرسکتی۔ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ بہت گری ہوئی حرکت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شان سے بہت فروتر ہے۔ ممکن ہے کسی کو یہ خیال گزرے کہ کسی اِلٰہ کا دوسرے اِلٰہ پر چڑھائی کرنا اور اس کی سلطنت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنا یہ انسانوں کا کام تو ہوسکتا ہے، اِلٰہ تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے قرآن کریم نے ایک ایسے مفروضے پر بات کی ہے جس کا فرض کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن جن لوگوں کی نگاہ یونانیوں اور ہندوئوں کی میتھالوجی پر ہے وہ اس کو تسلیم کریں گے کہ وہ اپنے دیوتائوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے درمیان خونریز جنگیں ہوچکی ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مرد کو سورج نے پیدا کیا ہے اور عورت کو زمین نے۔ تصور کیجیے اگر سورج اپنے پیدا کیے ہوئے مردوں کو لے کر الگ ہوجائے تو زمین کی عورتوں کا کیا انجام ہوگا۔ چناچہ یہی وہ مشرک قوموں کی خرافات ہیں جن کی طرف قرآن کریم نے اشارے کیے ہیں۔
Top