Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
(دعا کیجیے، اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَـنِّیْ مَایُوْعَدُوْنَ ۔ رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المومنون : 93، 94) (دعا کیجیے، اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ عذاب دکھائے جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ ) اللہ تعالیٰ کی سنت اور اسلام کے غلبہ عمومی کی بشارت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو متعدد بار بیان کیا جاچکا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول آتا ہے اور وہ اس قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پیش کرتا ہے تو اب اس قوم کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی دعوت کی قبولیت پر آٹھہرتا ہے۔ اگر وہ قوم اس دعوت کو قبول کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ اور اگر وہ تکذیب کردیتی ہے تو پھر اسے ایک خاص مدت تک کے لیے مہلت عمل دی جاتی ہے۔ تبلیغ و دعوت کا کام برابر جاری رہتا ہے تاکہ اس قوم کو تکذیب کے نتیجے سے بچانے کی کوشش کی جائے لیکن جب وہ قوم کسی طرح بھی اللہ تعالیٰ کے رسول کی بات کو مان کے نہیں دیتی تو پھر اسے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ اسے بھی مذاق بنا لیتی ہے تو پھر عذاب کا کوڑا اس طرح برستا ہے کہ وہ قوم بےنام و نشان ہوجاتی ہے۔ تاریخ میں عبرت کے طور پر اس کا نام باقی رہ جاتا ہے۔ مکہ کے لوگ بھی آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد اسی صورتحال سے دو چار تھے۔ آنحضرت ﷺ کی تبلیغی مساعی اپنی تمام تر اثرآفرینی کے باوجود ان کے دل و دماغ میں نفوذ پیدا نہیں کررہی تھیں۔ تب انھیں سنت اللہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا، لیکن جب عذاب آنے میں تاخیر ہوئی تو معذب قوموں کی روایت کے مطابق مشرکینِ مکہ نے بھی اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا اور وہ بار بار مطالبہ کرنے لگے کہ اگر یہ عذاب کی دھمکی واقعی اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتی ہے تو پھر اس کے آنے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔ قرآن کریم نے متعدد مواقع پر اس کا جواب دیا ہے۔ سورة یونس آیت 46، سورة رعد آیت 40 اور سورة غافر آیت 77 اس پر شاہد ہیں جن سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا آنا تو بالکل قطعی اور حتمی ہے۔ البتہ اس بات کو کسی حد تک مبہم رکھا گیا ہے کہ اس کے ظہور کا وقت کون سا ہوگا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس ابہام کو اس طرح دور فرمایا گیا ہے کہ ایک طرف آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے غلبہ و نصرت کی طرف اشارہ فرمایا گیا اور دوسرا اس بات کی طرف کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے غلبہ کا زمانہ جیسے جیسے قریب آتا جاتا ہے ویسے ویسے کافروں کی ہلاکت بھی قریب آتی جاتی اور یقینی صورت اختیار کرتی جاتی ہے۔ ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے پیغمبر اور اصحابِ ایمان کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور کافروں پر عذاب نازل کردیتا ہے۔ اس عذاب کی ایک صورت تو یہ رہی ہے کہ ایسی کوئی آفت نازل کی جاتی ہے جس سے وہ کفار اور ان کی بستیاں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں اور کبھی ایسا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور ان کے ساتھیوں کو زمینی غلبہ عطا فرماتا ہے اور کافروں کو شکست سے دوچار کرکے نیست و نابود کردیا جاتا ہے۔ صورت کوئی سی بھی ہویقینا اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کے لیے بھی یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے دست دعا پھیلا دیتے ہیں اور اپنی حفاظت اور دشمنوں سے دور رکھے جانے کی دعا کرتے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی آنحضرت ﷺ کو اور بالواسطہ مسلمانوں کو یہ دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ الٰہی جب ان ظالموں پر تیری گرفت آئے تو ہمیں اپنی آغوش رحمت میں لے لینا اور اشارۃً یہ بتایا جارہا ہے کہ اب اسلام کے غلبہ عمومی کے دن دور نہیں۔ اللہ تعالیٰ جزیرہ عرب کی سرزمین کو اس آب حیات سے سیراب کرنے والا ہے جسے اسلام کہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ سرسبزی اور شادابی وجود میں آنے والی ہے جس سے قیامت تک دنیا فائدہ اٹھائے گی۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو میں ان میں نہیں ہوں گا۔ اس کے باوجود آپ ﷺ کو دعا کی تلقین فرمائی جارہی ہے تاکہ عذاب کی شدت کا احساس پیدا ہو اور آنحضرت ﷺ کے لیے زیادہ سے زیادہ اجروثواب کا سامان ہو۔ علامہ فرماتے ہیں کان (علیہ السلام) یعلم ان اللہ تعالیٰ لایجعلہ فی القوم الظالمین اذا انزل بہم العذاب ومع ہذا امرہ الرب بہذا الدعاء والسوال لیعظم اجرہ ولیکون فی کل الاوقات ذاکراً لربہ تعالیٰ ۔
Top