Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور دعا کرتے رہئے کہ اے رب ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ ۔ وَاَعُوْذِبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ۔ (المومنون : 97، 98) (اور دعا کرتے رہئے کہ اے رب ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اے میرے رب ! اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔ ) توفیق ایزدی کے لیے دعا کی تلقین جب ایک داعی الی الحق میدانِ عمل میں اترتا ہے تو اس کی کامیابی چونکہ شیطنت کی ناکامی اور کفر و شرک کی بدنصیبی اور محرومی ہے اس لیے تمام شیطانی قوتیں ہر ممکن طریقے سے اس کی دعوت کو بےاثر کرنے میں لگ جاتی ہیں اور انسانوں میں شیطان کے کارندے پیغمبر کو پریشان کرنے اور اس کے دعوتی عمل کو مسدود کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شیطانی قوتیں وسوسہ اندازی اور اندیشہ ہائے دور دراز سے دلوں کو مسموم کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور شیاطینِ انس انسانی حربوں اور انسانی اثرورسوخ سے داعی الی الحق اور اس پر ایمان لانے والوں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیت میں عفو و درگزر کا حکم دے کر پیش نظر آیت میں اللہ تعالیٰ سے پناہ حاصل کرنے کے لیے دست دعا پھیلانے کی تلقین کی ہے تاکہ شیاطینِ جن اللہ تعالیٰ کی حفاظت کی وجہ سے دلوں کو اپنا نشانہ نہ بنا سکیں اور شیاطینِ انس اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجانے کے بعد اپنی کاوشوں میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ کیونکہ دونوں طرف کی مخالفتوں سے بچنے کے لیے اگر ایمان و عمل کی قوت اور مصائب کے مقابلے میں استقامت ضروری ہے تو اس سے کہیں بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس راستے کا سب سے بڑا سہارا اور سرمایہ ہے کیونکہ وہ دل جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے معمور رہتے ہیں شیطانی قوتیں جب دیکھتی ہیں کہ ہماری وسوسہ اندازی ان پر اثرانداز نہیں ہوتی تو وہ پھر اپنے انسانی چیلے چانٹوں کو مشتعل کرکے گری ہوئی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر اللہ تعالیٰ کا سہارا نہ ہو تو ان اشرار سے بچنا آسان کام نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جس طرح قریش کی مخالفت کے مقابلے کے لیے ایمان و استقامت کا درس دیا اسی طرح شیطانی وساوس سے بچائو کے لیے بعض دعائیں بھی سکھائیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر شکایت کی کہ مجھے رات کو نیند نہیں آتی۔ حضور ﷺ نے فرمایا جب سونے کا ارادہ کرو تو یہ دعا پڑھ لیا کرو اَعُوْذُبِاللّٰہِ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَ عِقَابِہٖ وَمِنْ شَرِّعِبَادِہٖ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنَ (تفسیرِکبیر) ” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے سے، اس کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس آئیں۔ “ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اپنے سارے بالغ لڑکوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے اور سوتے وقت پڑھنے کا حکم دیتے اور جو نابالغ بچے ہوتے ان کے گلے میں لکھ کر ڈال دیتے۔ (مسند امام احمد)
Top