Ruh-ul-Quran - Al-Qasas : 80
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ
وَقَالَ : اور کہا الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہیں اُوْتُوا الْعِلْمَ : دیا گیا تھا علم وَيْلَكُمْ : افسوس تم پر ثَوَابُ اللّٰهِ : اللہ کا ثواب خَيْرٌ : بہتر لِّمَنْ : اس کے لیے جو اٰمَنَ : ایمان لایا وَ : اور عَمِلَ : اس نے عمل کیا صَالِحًا : اچھا وَلَا يُلَقّٰىهَآ : اور وہ نصیب نہیں ہوتا اِلَّا : سوائے الصّٰبِرُوْنَ : صبر کرنے والے
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے افسوس ہے تم پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو
وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَـکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌلِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ج وَلاَ یُلَقّٰھَآ اِلاَّ الصّٰبِرُوْنَ ۔ (القصص : 80) (اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے افسوس ہے تم پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔ ) قوم کے تربیت یافتہ لوگوں کا ردعمل جو لوگ علم کی دولت سے بہرہ ور تھے یعنی جن کی نگاہیں دولت کی چمک نے خیرہ نہیں کی تھیں جن پر دولت میں استغراق اور اسے مقصد زندگی بنانے کا نتیجہ بھی واضح تھا وہ اس علم حقیقی سے آگاہ تھے کہ انسان کی ترقی درحقیقت اقدارِانسانیت کی پاسداری اور ان میں جِلا اور محنت سے عبارت ہے۔ انسانیت اخلاقِ حسنہ اور مکارمِ اخلاق کا نام ہے۔ انسان کا اصل مقصد بندوں کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ انسانی زندگی کی کشتی کو کھینے کے لیے دولت کے پانی کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ زندگی کے لیے اس وقت تک مفید ہے جب تک یہ اس کشتی کے نیچے رہتا ہے اور کشتی اس کے اوپر تیرتی رہتی ہے۔ لیکن اگر اس کشتی میں کہیں سوراخ ہوجائے اور پانی اس کے اندر داخل ہوجائے یا پانی کی موجیں سرکش ہو کر کشتی کو اپنی گرفت میں لے لیں تو اب یہ پانی کشتی کی ضرورت نہیں بلکہ مہلک ہے اور اس کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔ انسانوں کا گھر دولت سے چلتا ہے لیکن ماں باپ کی شفقت اور بچوں کی اطاعت سے باقی رہتا ہے۔ معاشرے میں بسنے والے باہمی حقوق کی پابندی سے بستے ہیں۔ شہریت اور مدنیت بنیادی اخلاق کی پاسداری سے آگے بڑھتی ہیں ورنہ اس میں اور جنگل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس علم حقیقی سے آگاہ تھے انھوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کا ثواب یعنی وہ رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت اور کوشش کرنے کے نتیجے میں دنیا میں انسان کو ملتا ہے وہی انسانیت کی بقاء کا ضامن ہے۔ ان چند بنیادی حقائق کا یقین جن کی تعلیم مذہب دیتا ہے اور ان بنیادی اقدار اور احکام پر عمل جس کا حکم شریعتِ اسلامی دیتی ہے اس ایمان و عمل کے نتیجے میں جو انسانی زندگی وجود میں آتی ہے اس میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے صحیح اہداف کیا ہیں اور خود زندگی کی حقیقت کیا ہے اور اگر یہ دولت حاصل نہ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے اجروثواب، رزقِ کریم اور حقیقی زندگی سے کبھی بہرہ ور نہیں ہوسکتے۔ دولت رکھنے کے باوجود اس کی حیثیت ایک مارگنج سے زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ چالاک، ہوشیار اور شاطر تو بن جاتا ہے لیکن انسان نہیں بنتا۔ آخر میں فرمایا کہ زندگی کی یہ حقیقت اور زندگی کا یہ حقیقی علم صرف اسے نصیب ہوتا ہے جو صبر کے وصف سے متصف ہے۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا۔ لالچ اور حرص و آز کے مقابلے میں ایمانداری اور راست بازی پر ثابت قدم رہنا، صداقت و دیانت سے جو نقصان بھی ہوتا ہو یا جو فائدہ بھی ہاتھ سے جاتا ہو اسے برداشت کرلینا، ناجائز تدبیروں سے جو منفعت بھی حاصل ہوسکتی ہو اسے ٹھوکر مار دینا، حلال کی روزی خواہ بقدرسدِرمق ہی ہو اس پر قانع و مطمئن رہنا۔ بس یہی وہ قوت ہے جس کے سہارے آدمی اس حکمت و موعظت کو پاسکتا ہے جس کی تلقین اصحابِ علم نے اس آیت میں کی ہے۔
Top