Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، وہ رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے
لَـہٗ مَقَالِیْدُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَـقْدِرُ ط اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الشوری : 12) (آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، وہ رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ) جو ذات خالق ہے وہی مالک بھی ہے جو ذات آسمانوں اور زمین کی خالق ہے اور جس کے قبضے میں موت وحیات کا سلسلہ ہے اور جس نے مخلوقات کے جوڑے پیدا کیے اور جس نے انسانوں کو اپنی قدرت اور حکمت سے پھیلایا کیا اس کے سوا کوئی اور ذات بھی ہوسکتی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مالک اور حکمران ہو۔ اور آسمانوں اور زمینوں کے خزانوں کی چابیاں اس کے ہاتھ میں دے دی جائیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی اور ذات کون سی ہوسکتی ہے۔ زمین کی حرکت اس کے قبضے میں ہے، سیارے اسی کے حکم سے چلتے ہیں، سورج اور چاند جیسے کُرّے اسی کے حکم کے پابند اور محوگردش ہیں۔ پانی اسی کی قدرت سے بہتا اور نباتات اسی کے حکم سے اگتی ہیں، بارشیں اسی کے حکم سے ہوتی ہیں، سمندر اسی کے حکم سے موتی اگلتا ہے، اور ساحلوں پر بسنے والی مخلوق کو تازہ گوشت کی غذا بہم پہنچاتا ہے۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کھول دیتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ و ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی اس کی قدرت اور علم کے بغیر نہیں ہوتی۔ جس کو وسیع رزق ملتا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے اور جس کا رزق تنگ ہوجاتا ہے وہ بھی اسی کی قدرت سے ہے۔ اس لیے امیدیں اسی سے باندھنی چاہئیں اور اسی کا ہمیشہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ رزق تنگ ہوجائے تو کبھی یہ بدگمانی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو شاید اس کی خبر نہیں۔ اور جس کو بےپایاں رزق مل رہا ہے اس کو بدمست نہیں ہونا چاہیے کہ شاید یہ میری بدمستی اللہ تعالیٰ کے علم میں نہیں۔ جو اس سے مانگتا رہے گا اس کے خزانے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ اور جو بدمست ہوجائے گا ایک نہ ایک دن اس کا عدل اس کی سزا کا باعث بن جائے گا۔
Top