Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 13
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ
شَرَعَ لَكُمْ : اس نے مقرر کیا تمہارے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا وَصّٰى بِهٖ : جس کی وصیت کی ساتھ اس کے نُوْحًا : نوح کو وَّالَّذِيْٓ : اور وہ چیز اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ : جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف وَمَا وَصَّيْنَا : اور جو وصیت کی ہم نے بِهٖٓ : ساتھ اس کے اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم کو وَمُوْسٰى : اور موسیٰ کو وَعِيْسٰٓى : اور عیسیٰ کو اَنْ : کہ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ : قائم کرو دین کو وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ : اور نہ تم اختلاف کرو اس میں۔ نہ تفرقہ ڈالو اس میں كَبُرَ : بڑا ہے۔ بھاری ہے عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ : مشرکوں پر مَا : جو تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ : تم بلاتے ہو ان کو طرف اس کے ۭ اَللّٰهُ : اللہ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ : کھینچ لیتا ہے اپنی طرف مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ : اور ہدایت دیتا ہے۔ رہنمائی کرتا ہے، اپنی طرف مَنْ يُّنِيْبُ : جو رجوع کرتا ہے
اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرو، مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف آپ ان کو دعوت دے رہے ہیں، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے
شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ ط اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّـنِیْبُ ۔ (الشوری : 13) (اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرو، مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف آپ ان کو دعوت دے رہے ہیں، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ) شَرَعَ کا لغوی معنی ہے راستہ بنانا، اور اصطلاحاً اس سے مراد طریقہ، ضابطہ اور قاعدہ مقرر کرنا ہے۔ اسی سے نکلا ہوا لفظ تشریع ہے جو قانون سازی کے لیے بولا جاتا ہے اور شرع اور شریعت قانون کے لیے۔ اور شارع واضع قانون کو کہتے ہیں۔ دِین، آئین اور طریقے پر بولا جاتا ہے۔ اصطلاحاً دین کسی کی سیادت و حاکمیت تسلیم کرکے اس کے احکام کی اطاعت کرنے کو کہتے ہیں۔ اور جب یہ طریقہ کے معنی میں بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ طریقہ ہوتا ہے جسے آدمی واجب الاتباع اور اس کے مقرر کرنے والے کو مطاع مانے۔ اللہ تعالیٰ حاکم حقیقی ہے اس لیے اس نے سب کو ایک ہی دین دیا گزشتہ آیت میں ہم نے یہ بات پڑھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا مالک اور حاکم حقیقی ہے۔ اور حاکم حقیقی کا مطلب یہ ہے کہ اسے کائنات پر تکوینی طور پر اور اہل زمین پر تشریعی طور پر حاکمیت حاصل ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اہل زمین اس کی رعایا ہیں حاکم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی رعایا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگی گزارنے کا ایک ایسا ڈھب سکھائے جس میں اختیارات کی حدود بھی واضح ہوں، حقوق کی تفصیل میں بھی کوئی ابہام نہ ہو، معیشت کے اصول بھی دیئے گئے ہوں اور سیاست کی آزادیوں کے ساتھ ساتھ پابندیاں بھی ذکر کی گئی ہوں، کسب و اکتساب کے ذرائع پر دسترس بھی دی گئی ہو اور وسائلِ رزق کی حلت اور حرمت بھی کھول دی گئی ہو، حکومت کے امکانات بھی واضح کیے گئے ہوں اور اقتدار کی نزاکتوں کو بھی واضح کردیا گیا ہو۔ رہنمائی کا یہ مسودہ آئین کہلاتا ہے۔ اسی کو یہاں دین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حاکمیت کے تقاضے سے ہر پیغمبر کی امت کو یہ آئین عطا فرمایا۔ چناچہ قریش اور دیگر اہل عرب کے سامنے یہ بات کھول کر بیان کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین پسند فرمایا ہے جو اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور اسی کی تلقین حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کی گئی تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ طوفانِ نوح سے پہلی دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد نئی دنیا ان ہی کی اولاد اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولاد سے آباد ہوئی۔ اور ان کے لیے پہلے رسول حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ اور پھر نبی کریم ﷺ کا ذکر فرمایا گیا جو آخری نبی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو جو دین دیا گیا ہے وہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ شروع سے لے کر آخری نبی تک سب کا یہی دین رہا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا حقیقی دین ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے فرمایا گیا کہ انھیں اہل عرب اپنا پیشوا مانتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس لیے کہ یہودی ان کی طرف اپنا انتساب کرتے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عیسائیوں کے رسول تھے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت یہی تین مذاہب اور ان کے پیروکار نبی کریم ﷺ کے سامنے اور آپ کی دعوت کا ہدف تھے۔ اس طرح سے بظاہر پانچ انبیاء کرام کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن حقیقت میں تمام دنیائے مذہب کا ذکر ہوگیا۔ کیونکہ اس وقت انسان ان ہی مذاہب میں بٹے ہوئے تھے۔ اس تفصیل سے سب سے پہلی جو بات واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ انسانوں کی ہدایت کے لیے پہلے مبعوث ہونے والے رسول نہیں بلکہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بھی آتے رہے اور ان پر شریعتیں بھی نازل ہوتی رہیں۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ سارے پیغمبروں اور رسولوں کا دین ایک ہی رہا۔ جو دین پہلے رسول کا تھا، وہی آخری رسول کا ہے ان میں کوئی فرق نہیں۔ انبیاء کا فرض دین کا قیام ہے تمام انبیاء کو دین عطا کرنے کے ساتھ ہی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ دین کو قائم کریں۔ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے دو معنی کیے گئے ہیں۔ شاہ ولی اللہ ( رح) نے اس کا ترجمہ کیا ” قائم کنید دین را “ یعنی دین کو قائم کرو۔ اور شاہ رفیع الدین صاحب اور شاہ عبدالقادر صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے ” قائم رکھو دین کو۔ “ دونوں ترجمے درست ہیں۔ اقامت کے معنی قائم کرنے کے بھی ہیں اور قائم رکھنے کے بھی۔ انبیاء (علیہم السلام) ان دونوں کاموں پر مامور تھے کہ جہاں یہ دین قائم نہیں وہاں اسے قائم کریں۔ اور جہاں قائم ہوچکا ہو اس کو قائم رکھنے کے اسباب فراہم کریں اور لوگوں میں اس کی تڑپ پیدا کریں۔ اقامتِ دین کا مفہوم اقامتِ دین چونکہ اب ایک مقبول اصطلاح بن چکی ہے اس لیے سب سے پہلے اقامت کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ یہ لفظ جس طرح مادی اور جسمانی اشیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی طرح معنوی چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مادی اشیاء کے لیے اس لفظ کا مفہوم ہوتا ہے سیدھا کردینا، کسی چیز کو گرنے سے بچا لینا، کسی پڑی اور گری ہوئی چیز کو اٹھا دینا۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب وہ ایک گائوں میں داخل ہوئے تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا کہ وہ گرا چاہتی ہے، تو انھوں نے اس کو سیدھا کردیا۔ اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی ہے وہ یہ ہے یُرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَہُ ” دیوار گرا چاہتی تھی، انھوں نے اس کو سیدھا کردیا۔ “ اَقَامَہُکا یہاں معنی ہے سیدھا کردینا۔ اور اگر وہ چیز معنوی ہو تو اس میں اقامت کا مفہوم محض اس چیز کی تبلیغ کرنا نہیں بلکہ کماحقہ عملدرآمد کرنا ہے۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی حکومت قائم کرلی تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ اس نے اپنی حکومت کی طرف دعوت دی بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ملک کے لوگوں کو اپنا مطیع بنا لیا اور حکومت کے تمام شعبوں کی ایسی تنظیم کردی کہ ملک کا سارا انتظام اس کے احکام کے مطابق چلنے لگا۔ اسی طرح جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو دین کے قائم کرنے یا قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور جس کی ذمہ داری خصوصی طور پر آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی امت پر ڈالی گئی ہے، تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہیں ہوسکتی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں اور دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ اسے تسلیم کرلیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورادین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے تاکہ اس کے مطابق عملدرآمد ہونے لگے اور ہوتا رہے۔ اس میں شک نہیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آسکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں۔ کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد وحید قرار دے بیٹھے۔ ایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو اگر ایک ہی دین دیا گیا اور ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا تو پھر ان کی شریعتوں میں اختلاف کیوں ہے ؟ اور پروردگار نے خود اسے تسلیم بھی فرمایا۔ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا ” ہم نے تم میں سے ہر ایک کو ایک شریعت اور منہاج عطا کیا تھا۔ “ اس سے بعض لوگوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ دین چونکہ ایک ہی تھا اور شریعتیں مختلف تھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دین سے مراد یا دین میں شامل شرعی احکام و ضوابط نہیں بلکہ صرف بنیادی عقائد اور کتاب ونبوت کا ماننا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالانا ہے اور زیادہ سے زیادہ چند بڑے بڑے اخلاقی ضوابط ہیں جو اس میں شامل ہیں اور جو سب شریعتوں میں یکساں ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح عیسائی امت شریعت سے آزاد ہوگئی، امت اسلامیہ کا بھی پڑھا لکھا طبقہ شریعتِ اسلامی سے آزاد ہو کر زندگی گزارنے اور ملک کو چلانے پر مصر ہے اور پوری دنیا میں مذہب کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ (سیکولرازم) کے نام سے اسلامی نظام کا راستہ روکنے کے لیے مختلف مذاہب اکٹھے ہورہے ہیں۔ اس لیے میں زور دے کر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے ہمیں جو دین کا تصور دیا اور اسے قائم کرنے کا حکم دیا ہے اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی نہیں ہیں بلکہ شرعی احکام بھی اس میں شامل ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ : 1 وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ حُنَفَـآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُـؤْتُوا الزَّکٰوٰۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْـقَـیِّمَۃ۔ (البینہ، آیت 5) ” اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا کہ یکسو ہو کر اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی راست رو ملت کا دین ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ اس دین میں شامل ہیں، حالانکہ ان دونوں کے احکام مختلف شریعتوں میں مختلف رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام پچھلی شریعتوں میں نماز کی یہی شکل و ہیئت، یہی اس کے اجزاء، یہی اس کی رکعتیں، یہی اس کا قبلہ، یہی اس کے اوقات اور یہی اس کے دوسرے احکام رہے ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کے متعلق بھی کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ تمام شریعتوں میں یہی اس کا نصاب، یہی اس کی شرحیں اور یہی اس کی تحصیل اور تقسیم کے احکام رہے ہیں۔ لیکن اختلاف شرائع کے باوجود اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو دین میں شمار کررہا ہے۔ 2 حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَـآ اُھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہٖ … اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَـکُمْ ۔ (المائدہ 3) ” تمہارے لیے حرام کیا گیا مردار اور خون اور سٔور کا گوشت اور وہ جانور جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گر کر یا ٹکر کھا کر مرا ہو یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کرلیا اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمہارے لیے حرام کیا گیا کہ تم پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب کام فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے مایوسی ہوچکی ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب احکامِ شریعت بھی دین ہی ہیں۔ 3 قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ ۔ (التوبہ 29) ” جنگ کرو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ “ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ حلال و حرام کے ان احکام کو ماننا اور ان کی پابندی کرنا بھی دین ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دیئے ہیں۔ 5 اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاٰفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۔ (النور 2) ” زانیہ عورت اور مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزآخر پر ایمان رکھتے ہو۔ “ 6 مَاکَانَ لِیَاخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ ۔ (یوسف 76) ” یوسف ( علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین میں پکڑ لینے کا مجاز نہ تھا۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ فوجداری قانون بھی دین ہے۔ اگر آدمی خدا کے فوجداری قانون پر چلے تو وہ خدا کے دین کا پیرو ہے اور اگر بادشاہ کے قانون پر چلے تو وہ بادشاہ کے دین کا پیرو۔ یہ چار تو وہ نمونے ہیں جن میں شریعت کے احکام کو بالفاظ صریح دین سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن گناہوں پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی دھمکی دی ہے (مثلاً زنا، سودخوری، قتل مومن، یتیم کا مال کھانا، باطل طریقوں سے لوگوں کے مال لینا وغیرہ) اور جن جرائم کو خدا کے عذاب کا موجب قرار دیا ہے (مثلاً عمل قوم لوط اور لین دین میں قوم شعیب ( علیہ السلام) کا رویہ) ان کا سدباب لازماً دین ہی میں شمار ہونا چاہیے، اس لیے کہ دین اگر جہنم اور عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے نہیں آیا ہے تو اور کس چیز کے لیے آیا ہے ؟ اسی طرح وہ احکام شریعت بھی دین ہی کا حصہ ہونے چاہئیں جن کی خلاف ورزی کو خلود فی النار کا موجب قرار دیا گیا ہے، مثلاً میراث کے احکام، جن کو بیان کرنے کے بعد آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْـہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَـہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (النساء 14) ” جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا، اللہ اس کو دوزخ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ “ اسی طرح جن چیزوں کی حرمت اللہ تعالیٰ نے پوری شدت اور قطعیت کے ساتھ بیان کی ہے، مثلاً ماں بہن اور بیٹی کی حرمت، شراب کی حرمت، چوری کی حرمت، جوئے کی حرمت، جھوٹی شہادت کی حرمت، ان کی تحریم کو اگر اقامتِ دین میں شامل نہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ غیرضروری احکام بھی دے دیئے ہیں جن کا اجراء مقصود نہیں ہے۔ علیٰ ھذا القیاس جن کاموں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے کہ مثلاً روزہ اور حج، ان کی اقامت کو بھی محض اس بہانے اقامتِ دین سے خارج نہیں کیا جاسکتا کہ رمضان کے 30 روزے تو پچھلی شریعتوں میں نہ تھے اور کعبے کا حج تو صرف اس شریعت میں تھا جو اولاد ابراہیم کی اسماعیلی شاخ کو ملی تھی۔ دراصل ساری غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ آیت لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا (ہم نے تم میں سے ہر امت کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کردی) کا الٹا مطلب لے کر اسے یہ معنی پہنا دیئے گئے ہیں کہ شریعت چونکہ ہر امت کے لیے الگ تھی، اور حکم صرف اس دین کے قائم کرنے کا دیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے درمیان مشترک تھا، اس لیے اقامتِ دین کے حکم میں اقامتِ شریعت شامل نہیں ہے حالانکہ درحقیقت اس آیت کا مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ سورة مائدہ میں جس مقام پر یہ آیت آئی ہے اس کے پورے سیاق وسباق کو آیت 41 سے آیت 50 تک اگر کوئی شخص بغور پڑھے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس نبی کی امت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی وہ اس امت کے لیے دین تھی اور اس کے دورنبوت میں اسی کی اقامت مطلوب تھی۔ اور اب چونکہ سیدنا محمد ﷺ کا دورنبوت ہے، اس لیے امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اس دور کے لیے دین ہے اور اس کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔ رہا ان شریعتوں کا اختلاف تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی بھیجی ہوئی شریعتیں باہم متضاد تھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جزئیات میں حالات کے لحاظ سے کچھ فرق رہا ہے۔ مثال کے طور پر نماز اور روزے کو دیکھئے۔ نماز تمام شریعتوں میں فرض رہی ہے مگر قبلہ ساری شریعتوں کا ایک نہ تھا اور اس کے اوقات اور رکعات اور اجزاء میں بھی فرق تھا۔ اسی طرح روزہ ہر شریعت میں فرض تھا مگر رمضان کے 30 روزے دوسری شریعتوں میں نہ تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ مطلقاً نماز اور روزہ تو اقامتِ دین میں شامل ہے مگر ایک خاص طریقے سے نماز پڑھنا اور خاص زمانے میں روزہ رکھنا اقامتِ دین سے خارج ہے بلکہ اس سے صحیح طور پر جو نتیجہ نکالنا ہے وہ یہ ہے کہ ہر نبی کی امت کے لیے اس وقت کی شریعت میں نماز اور روزے کے لیے جو قاعدے مقرر کیے گئے تھے انہی کے مطابق اس زمانے میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا دین قائم کرنا تھا اور اب اقامتِ دین یہ ہے کہ ان عبادتوں کے لیے شریعتِ محمدیہ میں جو طریقہ رکھا گیا ہے ان کے مطابق انھیں ادا کیا جائے۔ انہی دو مثالوں پر دوسرے تمام احکام شریعت کو بھی قیاس کرلیجئے۔ (تفہیم القرآن) اقامتِ دین کا حکم دینے کے بعد آخری بات جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ دین کو قائم کرو اور اسے قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔ یعنی اس کے اندر متفرق نہ ہوجاؤ۔ یہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح پروردگار نے آل عمران میں فرمایا وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ للّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا ” سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑو اور متفرق نہ ہو۔ “ حَبْلُ للّٰہِسے مراد اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ سب مل کر اسی کو تھامو، اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جس کے ہاتھ میں جو رسی آجائے اسی کو وہ حَبْلِ للّٰہسمجھ بیٹھے اور اصل رسی کو چھوڑ دے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن و سنت کے الفاظ میں جس بات کی معقول گنجائش نہ ہو اس کو ذہنی اختراع کے طور پر قرآن و سنت کے حوالے سے پیش کرے۔ اور پھر اس پر اصرار کرے کہ اس بات کے ماننے پر کفرو ایمان کا مدار ہے۔ اور یہ نئی بات کئی طرح کی ہوسکتی ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ دین میں جو چیز نہ تھی وہ اس میں لاکر شامل کردی جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین میں جو بات شامل تھی اسے نکال باہر کیا جائے۔ اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ نصوص میں تحریف کا راستہ نکالا جائے اور الفاظ کے ہیرپھیر سے ایسے انوکھے عقائد اور نرالے اعمال ایجاد کیے جائیں جن کی قرآن و سنت میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو چیز اہم تھی اسے غیراہم بنادیا جائے، اور جو چیز حد سے حد مباح کے درجے میں تھی اسی فرض و واجب بلکہ اس سے بھی بڑھا کر اسلام کا رکن رکین بنادیا جائے۔ اسی طرح کی حرکتوں سے ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے دین میں تفرقہ پیدا ہوتا رہا۔ اور پھر رفتہ رفتہ ان فرقوں نے مستقل ادیان کی صورت اختیار کرلی۔ البتہ اس تفرقے کا اس جائز اور معقول اختلافِ رائے سے کوئی تعلق نہیں جو دین کے احکام کو سمجھنے اور نصوص پر غور کرکے ان سے مسائل مستنبط کرنے میں فطری طور پر اہل علم کے درمیان واقع ہوتا ہے اور جس کے لیے خود کتاب اللہ کے الفاظ میں لغت اور محاورے اور قواعدِ زبان کے لحاظ سے گنجائش ہوتی ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وہی دین اتارا ہے جو تمام انبیاء کا دین ہے۔ اور اسی دین کی تعلیم اہل عرب کے جدِاعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی انھیں دی تھی۔ لیکن یہ اپنے انفرادی اور اجتماعی بگاڑ کے نتیجے میں اس حد تک اس دین سے دور چلے گئے کہ اب جبکہ آپ ان کے سامنے وہی دین پیش کررہے ہیں جس کی اساس توحید پر ہے اور جس کی ہر بات وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہورہی ہے تو قریش اور دیگر اہل عرب کو انتہائی ناگوار گزر رہا ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے میں صبر اختیار کریں۔ ان میں بیشتر لوگ اگرچہ اس دین کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کررہے ہیں اور اللہ انھیں کھینچ کھینچ کر اپنی طرف لا رہا ہے۔ لیکن جو لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق انھیں ہدایت عطا نہیں فرماتا، بلکہ وہ توفیقِ ہدایت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وہ ایک غیور خدا ہے جو اس سے تضرع اور عاجزی سے بار بار مانگتا ہے تو آخر اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اسے اپنی توفیق سے نواز دیتا ہے۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ہر طرف سے کٹ کر اللہ تعالیٰ ہی سے لو لگائے۔ اور اس عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرے : ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
Top