Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو اس نے ان دونوں میں جاندار مخلوقات پھیلا رکھی ہیں اور وہ ان کے جمع کرنے پر بھی قادر ہے جب ان کو جمع کرنا چاہے
وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِیْھِمَا مِنْ دَآ بَّۃٍ ط وَھُوَعَلٰی جَمْعِھِمْ اِذَا یَشَآئُ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 29) (اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو اس نے ان دونوں میں جاندار مخلوقات پھیلا رکھی ہیں اور وہ ان کے جمع کرنے پر بھی قادر ہے جب ان کو جمع کرنا چاہے۔ ) مخالفین کو ترہیب آنحضرت ﷺ کی دعوت میں ترغیب کے ساتھ ساتھ ترہیب سے بھی باقاعدہ کام لیا جاتا ہے۔ اور بار بار مخالفین کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اگر تم نے اپنے رویئے کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو سوچ لو پھر قیامت کے دن اس کا کیا جواب دو گے۔ اور اگر تمہاری سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا تو پھر تم اس سے کیسے بچ سکو گے۔ مخالفین اسے محض ایک ڈراوا سمجھتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک نزول عذاب یا وقوع قیامت ایک ایسی بات تھی جسے وہ بعیداز عقل سمجھتے تھے۔ چناچہ ان کی اس خام خیالی کو رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بعض باتیں پیش پا افتادہ ہیں جنھیں تم نظرانداز کردیتے ہو۔ زمین کا بچھونا تمہارے پائوں کے نیچے بچھا ہوا ہے اور آسمان کی چھت تمہارے سروں پر تنی ہوئی ہے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی نشانیاں ہیں۔ اور مزید یہ کہ ان دونوں میں اس نے جاندار مخلوقات بھی پیدا کر رکھی ہیں۔ جس ذات کی یہ نشانیاں ہیں اس کی قدرت کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ لیکن یہ کس قدر حماقت کی بات ہے کہ ایسی قادرمطلق ذات سے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ زمین و آسمان کی پیدائش اور مخلوقات کو ہر جگہ پھیلانے پر تو قادر ہے لیکن انھیں جمع کرنے پر قادر نہیں، اس لیے قیامت کیسے آسکتی ہے ؟ آیتِ کریمہ میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں جاندار مخلوقات پیدا کررکھی ہیں، تو اس کے بارے میں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ زمین پر تو مخلوقات نظر آرہی ہیں، لیکن آسمانوں میں ان مخلوقات کا ہونا ایک عجیب سی بات ہے۔ اولاً تو یہ بات انسان کی کو تاہی فکر پر دلالت کرتی ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس کس کُرّے اور کون سے آسمانوں میں کیسی کیسی جاندار مخلوق پیدا کر رکھی ہیں۔ لیکن میں محض سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں کہ سماء کا لفظ جس طرح آسمان پر بولا جاتا ہے ویسے ہی فضا پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور فضا میں کیسی کیسی مخلوقات ہیں انھیں تو ہم نہیں جانتے، لیکن پرندوں کو اڑتا ہوا تو دیکھتے ہیں اور ان کی بیشمار اقسام سے بھی واقف ہیں۔
Top