Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 32
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ
وَمِنْ اٰيٰتِهِ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں الْجَوَارِ : کشتیاں فِي الْبَحْرِ : سمندر میں كَالْاَعْلَامِ : پہاڑوں کی طرح
اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند
وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَـلْنَ رَوَاکِدَعَلٰی ظَھْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ اَوْ یُوْبِقْھُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَّیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا ط مَالَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (الشوری : 32 تا 35) (اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے، پس وہ سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے۔ یا ان کو تباہ کردے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں اور بہتوں سے درگزر فرمائے۔ اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیات میں کٹ حجتی کرتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ) دنیا کی کامیابیوں پر اترانے والوں کے لیے ایک تمثیل آنحضرت ﷺ کی دعوت کے وہ مخالفین جو اپنی دنیوی کامیابیوں سے بدمست ہو کر آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے، ان کے سامنے ایک مثال پیش کی جارہی ہے کہ تم اپنی زندگی کو ایک بحری جہاز کے سفر کی مانند سمجھو کہ بحری جہاز جب تک سمندر کی سطح پر بےروک ٹوک رواں دواں رہتا ہے اور وہ پہاڑ کی مانند اپنا حجم رکھتے ہوئے بےتکلف پانی کی لہروں پر بہتا چلا جاتا ہے تو اس میں سوار ہونے والے اسے اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ سمجھ کر عیش و عشرت میں مگن ہر طرح کی پریشانی سے بےفکر، اپنے سفر سے لذت اندوز اور سمندر کے خوبصورت مناظر سے محظوظ ہوتے ہوئے محوِسفر رہتے ہیں۔ انھیں یہ کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ہمارے اس جہاز کو کوئی حادثہ بھی پیش آسکتا ہے اور سمندر کی لہریں ہماری نہیں کسی اور قوت کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب تک چاہے انھیں پرسکون اور ہَوائوں کو حسب حال رکھے تاکہ بادبان ہَوائوں کے زور پر جہاز کو اڑاتے ہوئے لے جائیں اور جب وہ چاہے ہَوائوں کو روک دے اور جہاز اپنے مسافروں سمیت سطح سمندر پر جم کے رہ جائیں۔ مسافر ہزار کوشش کریں لیکن جہاز اپنی جگہ سے ہلنے نہ پائے۔ کیونکہ جب تک ہوا بادبانی جہازوں کو قوت فراہم نہیں کرے گی یا ہوا کا رخ جہاز کے حسب حال نہیں ہوگا تو جہاز آگے بڑھنے سے قاصر ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان جہازوں کو غرق کردے اور ان مسافروں کے اعمال کی پاداش میں جہاز کے ساتھ ہی پانی کی نذر کردے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک سے زیادہ جہاز محوسفر ہوں تو ایسا خوفناک طوفان اٹھے جس کی طغیانی اور قوت کو دیکھتے ہوئے محسوس ہو کہ کوئی جہاز بھی ڈوبنے سے بچ نہیں سکے گا۔ لیکن طوفان بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے، جن جہازوں کے ڈبونے کا اسے حکم ہو ان کو ڈبو دے اور جن سے درگزر کرنے اور بچانے کا حکم ہو، انھیں بچا دے۔ یعنی ہوا کا ساکن کردینا اور ہوا کو طوفان بنادینا اور اسی طوفان سے بعض جہازوں کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ یہ مثال دے کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ہماری ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی کج بحثی اور کٹ حجتی کرتے ہیں اور بجائے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان لانے اور اس کے نبی کی دعوت کو قبول کرنے کے ایسے واقعات کو حوادث کا نام دیتے ہیں اور حوادث کو اتفاقات کے حوالے سے دیکھتے ہیں ان کے لیے یہ مثال کافی ہے کہ جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ جب کسی کو ڈبونا چاہتا ہے یا اس کا غضب کسی پر بھڑکتا ہے تو کوئی اسے بچانے والا نہیں ہوتا۔ اسی طرح انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن جب وہ اپنے کفر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان کے پاس اپنی زندگی کو من مرضی سے گزارنے کا کوئی عذر نہیں ہوگا تو وہاں وہ تمنا کریں گے کہ کاش آج ہم جہنم کے عذاب سے کسی طرح بچ نکلیں اور کوئی ہمیں اپنی پناہ میں لے لے تو ان کے لیے کوئی پناہ گاہ اور کوئی جائے فرار نہیں ہوگی۔ ان آیات میں سے دوسری آیت کے آخر میں جملہ معترضہ کی صورت میں اس مقصد کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس تمثیل میں مضمر ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو وقت کے سمندر میں تیرتا ہوا دیکھ رہے ہیں اس میں ان کے لیے بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں۔ زندگی کی کامیابیوں کی کلید صبر اور شکر سے وابستہ ہے۔ یعنی انھیں اس بات پر یقین آنا چاہیے کہ زندگی کی باگ ڈور ہمارے قبضے میں نہیں ہے اور جس عمر اور وقت کے سہارے زندگی آگے بڑھ رہی ہے وہ بھی ہمارے بس میں نہیں۔ اس میں کبھی ایسے دن بھی آتے ہیں جب انسان حوادث اور مصائب کا شکار ہوتا ہے تو وہ اگر حالات کی ناسازگاری سے مایوس اور دل شکستہ ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی ہمتوں کی شکست و ریخت دیکھ کر مستقبل سے مایوس ہوجائے تو اسے ناکامیوں سے بچانے والی کوئی چیز نہیں۔ اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اس بات کا یقین پیدا کرے کہ حالات اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب حالات کو ابتر بناتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے کہ وہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کا دامن پکڑتے ہیں یا نہیں۔ اور اپنے برے حالوں میں مجھے پکارتے ہیں یا نہیں پکارتے۔ اسی طرح اگر اسے سازگار حالات میسر آئیں تو اسے بجائے اترانے اور فخر کرنے کے ان حالات کا سررشتہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں سمجھنا چاہیے۔ اور یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہتر حالات اور نعمتوں سے نواز کر آزمایا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی بجا لاتا ہوں یا نہیں۔ یعنی شکستہ حالات میں دل شکستہ ہوجانا اور بہتر حالات اور سازگار ماحول میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کی بجائے متکبر اور مغرور ہو کر اپنی ذات کے پندار میں مبتلا ہوجانا ایسی کمزوری ہے جو انسان کو انسانیت سے دور کردیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے بارے میں غلط تصور قائم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس مثال کے ذرریعے انسان کے لیے اس ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کا راز بتایا گیا ہے۔
Top