Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌوَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (الشوری : 36) (پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ) خلاصہ بحث گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ زندگی کی ناکامیوں کا دوسرا نام اگر صبر و شکر کا فقدان ہے تو پھر اے مکہ کے لوگو ! تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے چاہے وہ تمہارے باغات ہوں یا درہم و دینار کا خزانہ۔ کیا ان میں سے ہر چیز حیات دنیا کی متاع حقیر نہیں ہے ؟ کیا تمہاری زندگیاں چند روزہ نہیں ہیں ؟ کیا تمہیں ایک دن موت کا شکار نہیں ہونا ہے ؟ تو پھر جن نعمتوں پر اور جس دولت و ثروت پر تم اتراتے ہو، اس کی حقیقت ہی کیا ہے۔ اس دنیا میں کتنے سکندر اٹھے اور کتنے جہاں پناہ گزرے اور کتنے جہانگیروں نے دنیا میں اپنے نام پیدا کیے لیکن وہ کتنا عرصہ زندہ رہے، قارون کی دولت کہاں گئی، اور ہامان کی جنت کہاں ہے ؟ آج دنیا میں ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں۔ فراعنہ و نماردہ تاریخ میں عبرت کے سامان کے طور پر موجود ہیں۔ لیکن جن قوتوں پر وہ اتراتے تھے ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں۔ لیکن ہمارے نبی کی دعوت تمہیں جو راستہ دکھا رہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا راستہ ہے۔ وہ ایسی زندگی کا راستہ ہے جس میں کامیابیوں کے چمن کھلتے ہیں، جس میں انسانیت توانا ہوتی ہے اور دنیا میں بسنے والوں کو آرام و راحت کا پیغام ملتا ہے۔ اس کے بدلے میں آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس میں سے ایک ایک نعمت اس قدر بہتر ہے کہ اس سے زیادہ بہتری کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اور ایسی پائیدار ہے جس میں فنا کا کوئی اندیشہ نہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ان لوگوں کو ملنے والا ہے جو اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتے ہیں اور جن میں سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ اللہ پر توکل کو یہاں ایمان لانے کا لازمی تقاضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے ایک ضروری وصف قرار دیا گیا ہے۔ توکل کے معنی یہ ہیں کہ : اولاً ، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ یہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیئے ہیں وہی برحق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔ ثانیاً ، آدمی کا بھروسا اپنی طاقت، قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ تعالیٰ کی توفیق و تائید پر ہے اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہوسکتا ہے جبکہ وہ اس کی رضا کو مقصود بنا کر، اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے۔ ثالثاً ، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسا ہو جو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عمل صالح کا رویہ اختیار کرنے والے اور باطل کی بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں، اور انہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ان تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات مار دے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں، اور ان سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کر جائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اس کے نصیب میں آئیں۔ توکل کے معنی کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے اور اس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو اس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہوسکتے جن کا وعدہ ایمان لا کر توکل کرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Top