Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 46
وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ
وَمَا كَانَ : ور نہ ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ اَوْلِيَآءَ : کوئی اولیاء۔ مددگار يَنْصُرُوْنَهُمْ : جو مدد کریں ان کی مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ : اور جس کو بھٹکا دے اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور ان کے اولیاء میں سے کوئی نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کرے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو پھر اس کے لیے کوئی راہ نہیں
وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَـآئَ یَنْصُرُوْ نَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ سَبِیْلٍ ۔ (الشوری : 46) (اور ان کے اولیاء میں سے کوئی نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کرے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو پھر اس کے لیے کوئی راہ نہیں۔ ) قیامت کے روز مشرکین کی بےبسی یہ مشرک لوگ جو آج نبی کریم ﷺ کی دعوت کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں جب وہ قیامت کے دن ایسے عذاب میں پکڑے جائیں گے جو کبھی ٹلنے والا نہیں، تو زندگی میں اپنے جن شرکاء پر انھیں بہت ناز رہا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان پر انھیں بڑا بھروسہ تھا، کوئی بھی ان کی مدد کرنے کے لیے نہیں آئے گا۔ نہ کوئی سفارش کی جرأت کرسکے گا اور نہ کسی اور طرح کی مدد کسی کے بس میں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کو اس کے کرتوتوں کے باعث اللہ تعالیٰ بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو اس کے لیے پھر اپنے اعمال کی پاداش سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور پھر اس سے بچ نکلنے کی ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہوگی۔
Top