Ruh-ul-Quran - Ash-Shura : 6
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ
وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے بنالیے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ دوست۔ سرپرست اللّٰهُ حَفِيْظٌ : اللہ تعالیٰ نگہبان عَلَيْهِمْ : ان پر وَمَآ اَنْتَ : اور نہیں آپ عَلَيْهِمْ : ان پر بِوَكِيْلٍ : حوالہ دار
اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، آپ ان پر ذمہ دار نہیں
وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَـآئَ اللّٰہُ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ صلے ز وَمَـآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الشوری : 6) (اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ہی ان پر نگران ہے، آپ ان پر ذمہ دار نہیں۔ ) مشرکین کو نہایت سخت تنبیہ اس آیت کریمہ میں مشرکین کو نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ مشرکین سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر اس قدر واضح دلائل کے باوجود بھی ان لوگوں نے اپنے سرپرست اور کارساز اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں یا اسے نظرانداز کرتے ہوئے کچھ دوسری قوتوں کو بنا رکھا ہے چاہے وہ اجرامِ فلکی میں سے ہوں یا زمین کے طواغیت میں سے، وہ ارواحِ خبیثہ ہوں یا کسی علاقے کے جنات، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ برابر ان پر نگرانی کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ان پر یہ بات واضح کردی تھی کہ ان کا ولی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی وہی ان کا حقیقی رہنما ہے، وہی ان کا معبودِ برحق ہے، وہی قادر مطلق ہے، وہی ہر موقع پر اور ہرحال میں ان کی مدد کرنے والا ہے وہ ان کی مرادیں بر لانے والا ہے۔ اور فوق الفطری طریقے سے انسانوں کے کام آنا صرف اس کی قدرت اور اس کی صفت ہے۔ لیکن انھوں نے اسے چھوڑ کر نہ جانے یہ صفات کن کن لوگوں میں تقسیم کررکھی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو ولی مان کر جس طرح اس کی بندگی بجا لائی جاتی اور اس کی پوجا پاٹ کی جاتی تھی اور جس طرح اس کے سامنے دست سوال پھیلایا جاتا تھا اور جس طرح اس کے دیئے ہوئے قانون کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا، یہی ساری حیثیتیں انھوں نے غیر اللہ کو دے رکھی ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی یہ ساری حرکتیں اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی نگرانی میں ہیں۔ اس نے محض سنبھلنے کے لیے انھیں مہلت دے رکھی ہے۔ وہ برابر اس انتظار میں ہے کہ جیسے ہی ان کی مہلت عمل ختم ہو تو اس کے قہر و غضب کا کوڑا ان پر برسے۔ ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ کو رسول، مبلغ اور داعی الی الحق بنا کے بھیجا گیا ہے۔ ان کے ایمان و عمل کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ اگر یہ آپ پر ایمان نہیں لاتے یا آپ کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے تو اس کی پرسش بہرحال ان ہی سے ہونی ہے۔ کیونکہ آپ ان پر نہ داروغہ بنائے گئے ہیں اور نہ حوالہ دار۔ نہ یہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ انھیں ہدایت سے ضرور بہرہ ور کردیں۔ آپ سے ان کی ہدایت کے بارے میں کوئی سوال نہیں ہوگا۔
Top