بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ نِ ۔ (الملک : 1) (نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ) تَبٰـرَکَ کا مفہوم تَبٰـرَکَ … میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس کا مادہ برکت ہے اور برکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت، افزائش و فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رفیع و عظیم ہے۔ وہ عظمتوں کا سرچشمہ ہے اور رفعتیں اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ خیرات و حسنات اسی کے فیض سے وجود میں آتی ہیں۔ ہر چیز میں اضافہ اور کثرت اسی کی توجہ کا ثمر ہے۔ وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اور دوسری یہ بات کہ یہ برکت سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی بزرگی اور عظمت میں سب سے فائق ہے اور اپنی ذات وصفات اور افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے بالاتر ہے۔ اس کی ربوبیت اور فیضان بےمثال و بینظیر ہیں۔ اس کے کمالات کو کبھی زوال نہیں۔ ان دونوں باتوں کی دلیل اور نتیجہ یہ ہے کہ اسی کے قبضہ قدرت میں ساری کائنات کی پادشاہی ہے۔ کہنے کو تو زمین پر بیشمار پادشاہ گزر چکے اور موجود ہیں لیکن ان کی پادشاہیاں اور ان کی سلطنتیں بےثبات اور فانی بھی ہیں اور محدود بھی۔ اور پھر ان میں سے کوئی پادشاہ اور حکمران ایسا نہیں گزرا جسے اطمینان میسر ہو کہ میری پادشاہی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔ مزیدبراں یہ بات بھی کہ ان کے اقتدار اور پادشاہی کا فیض ان کی اپنی ذات، اپنے خاندان اور چند موالی کے سوا شاید ہی کسی کو پہنچتا ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی جس طرح کبریائی کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا، اسی طرح اس کی پادشاہی کو بھی کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوسکتا۔ یہاں جسے بھی کوئی اختیار یا اقتدار حاصل ہے وہ اسی کی دین یا اس کی طرف سے آزمائش ہے۔ وہ زمین پر اپنی حاکمیت اور قدرت کے اظہار کے لیے وقتاً فوقتاً حوادث کو جنم دیتا رہتا ہے۔ اس کے لشکر بیشمار ہیں، کبھی کسی کو حرکت میں لاتا ہے اور کبھی کسی کو۔ اسی بات کی وضاحت کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت چند اشیاء تک محدود نہیں بلکہ ہمہ گیر ہے۔ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی قدرت سے باہر ہو۔ وہ دینے پر بھی قادر ہے اور چھیننے پر بھی قادر ہے۔ بعض دفعہ اس کی طرف سے دی گئی مہلت سرکشی کا سبب بن جاتی ہے، لیکن ایسے سرکشوں کو سرکشی کی سزا دینے پر بھی وہ ہر طرح قادر ہے۔ چونکہ اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں اس لیے وہ پکڑنے میں کبھی جلدی نہیں کرتا، کیونکہ جلدی وہ کیا کرتا ہے جو کمزور حکمران ہو اور جسے یہ اندیشہ ہو کہ آج ان سرکشوں کو چھوڑا گیا تو کل شاید طاقتور ہو کر ہاتھ نہ آئیں۔ لیکن اس کے سامنے جب کوئی فرعون بنتا ہے تو پانی کی ایک لہر اس کا خاتمہ کردیتی ہے۔
Top