Maarif-ul-Quran - Al-Waaqia : 46
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
بیشک جو لوگ بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں یقینا ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ (الملک : 12) (بیشک جو لوگ بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں یقینا ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے۔ ) اصلاحِ اخلاق کی اصل بنیاد یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا برائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ برائی ہے یا دنیا اسے برا سمجھتی ہے یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے۔ یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیاد ہے۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو برا اور ایک بری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے۔ دنیا کے معیارِ خیر و شر اول تو یکساں نہیں ہیں پھر وہ وقتاً فوقتاً بدلتے بھی رہتے ہیں، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیار دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے۔ دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی اخلاق کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ جو شخص برائی سے اس لیے بچتا ہو کہ وہ دنیا میں اس کی ذات پر مترتب ہونے والے کسی نقصان سے ڈرتا ہے وہ ایسی حالت میں اس کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا جبکہ اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی طرح کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ بھی وہ چیز نہیں ہے جو انسان کو ایک شریف انسان بنا سکتی ہو۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب والشھادۃ نہیں ہے۔ بہت سے جرائم اس کی نگاہ سے بچ کر کیے جاسکتے ہیں اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بیشمار تدبیریں ممکن ہیں۔ پھر کسی دنیوی طاقت کے قوانین بھی تمام برائیوں کا احاطہ نہیں کرتے۔ بیشتر برائیاں ایسی ہیں جن پر دنیوی قوانین کوئی گرفت سرے سے کرتے ہی نہیں حالانکہ وہ ان برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اس اَن دیکھنے خدا سے ڈر کر برائی سے اجتناب کیا جائے جو ہرحال میں انسان کو دیکھ رہا ہے جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جاسکتا جس نے خیر و شر کا ایک ہمہ گیر، عالمگیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے۔ اسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑنا اور نیکی کو اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابل قدر ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں ان کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ ہوں گے کیونکہ ان کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو۔ (تفہیم القرآن)
Top