Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّـکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْغَفُوْرُ ۔ (الملک : 2) (جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ ) قدرتِ کاملہ کی دلیل اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اس سے بڑا ثبوت اور ظہور اور کیا ہوگا کہ وہ موت اور زندگی کا خالق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کام لے کر انسانوں نے کیسی کیسی محیرالعقول ایجادات کی ہیں لیکن ان میں سے ہر ایجاد کسی نئی چیز کی تخلیق نہیں بلکہ چند اشیاء میں مناسب ترتیب اور ترکیب کا راز پالینے سے وجود میں آئی ہے۔ لیکن اولاً تو یہ بات قابل غور ہے کہ جن چیزوں کو ترکیب دیا جاتا ہے وہ چیزیں موجد کی مخلوق نہیں ہوتیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ موجد کا کمال ان میں اس ترتیب اور ترکیب کو پیدا کرنا ہے جو ایجاد کا باعث بنتی ہے۔ تو یہ ترتیب و ترکیب کا راز بھی کسی کی تخلیق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی موجد کے ذہن میں اچانک ایک تصور پیدا کرتا ہے اور وہ اچانک کہنے لگتا ہے کہ میں نے پا لیا، میں نے پا لیا۔ یعنی وہ راز پا لیا جو پہلے سے موجود تھا اور دنیا اس سے بیخبر تھی اور وہ راز بھی تخلیق پر قادر نے موجد کے ذہن میں اتارا ہے اور اگر اس میں موجد کے ذہنی کمال کو خراج تحسین پیش کیا جائے تو تب بھی یہ اس کی ذاتی صفت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہی عطا کردہ نعمت ہے۔ لیکن اس کی قدرت نے دیگر بیشمار چیزوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ موت وحیات کو پیدا کیا ہے جس کے راز کو آج تک کوئی نہ پاسکا اور نہ کوئی پا سکے گا۔ موت کیا چیز ہے اور زندگی کی حقیقت کیا ہے۔ دنیا بھر کے عقلمند آج تک اس سے بیخبر ہیں جبکہ اس کائنات کا اصل جوہر حیات ہے۔ باقی تمام کمالات اسی کے نتیجے اور اس کے بعد وجود میں آتے ہیں۔ انسانوں کا مقصدتخلیق اس آیت کریمہ میں موت وحیات کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے اسی طرح اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو کھلنڈرا ہے کہ وہ محض کھیل کے لیے کائنات کو پیدا کرتا اور نہ وہ لا ابالی اور بےحکمت ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی ہوتا۔ اس نے انسانوں کو جس طرح زندگی عطا فرمائی اور پھر انھیں جو ہر عقل سے نوازا، مزیدبراں ان پر کتابیں اتاریں، پیغمبر مبعوث کیے۔ یہ سارے کام نہ اتفاقی ہوئے ہیں نہ کھیل کود کے طور پر اور نہ صرف قدرت کے اظہار کے لیے بلکہ اس کے پیچھے ایک حکمت کارفرما ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بےمقصد پیدا نہیں فرمایا۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں زندگی اور دیگر کمالات دے کر یہ امتحان کرنا چاہتا ہے کہ تم میں سے کون بہتر سے بہتر عمل سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے۔ اور کون ہے جو اپنے مقصد تخلیق سے انحراف کرکے بےمقصد اور سرکش زندگی گزارتا ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں اس نے متعدد حقیقتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 1 یہ کہ موت وحیات اسی کے قبضے میں ہیں، کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا اور نہ موت دینے والا۔ مشرکین نے جس طرح بعض شخصیتوں کو ان صفات کا مالک سمجھا ہے وہ گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ 2 یہ کہ انسان جیسی مخلوق جسے غیرمعمولی کمالات دیئے گئے اور نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے اور نہ موت، اللہ تعالیٰ نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے۔ اور موت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ 3 یہ کہ اس امتحان کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے اور یہ ثابت کرسکے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ 4 یہ کہ گزشتہ تینوں باتوں سے خودبخود دو باتیں نتیجے کے طور پر وجود میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس خالق نے انسان کو زندگی امتحان کے لیے دی ہے وہی یہ بتانے کا حق رکھتا ہے کہ امتحان کن باتوں میں ہوگا۔ اچھائی اور برائی کا معیار کیا ہوگا۔ کیسے عمل کو کامیابی سمجھا جائے گا اور کسے ناکامی ٹھہرایا جائے گا اور دوسری بات خودبخود اس سے نکلتی ہے کہ جزاء اور سزا کا دارومدار انسان کے عمل پر ہوگا۔ اور جس ذات نے انسانوں پر یہ امتحان نازل کیا ہے وہی اس جزاء و سزا کا دن مقرر کرے گا اور اسی کے ہاتھ میں جزاء اور سزا کی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ وہ عزیز ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سزا کے مستحق ہوں گے ان کو اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور وہ غفور بھی ہے یعنی وہ ظالم اور سخت گیر نہیں بلکہ جو مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کو وہ اس سے محروم نہیں فرمائے گا۔ جو اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر معافی مانگ لیں گے ان سے وہ درگزر فرمائے گا اور ہر حقدار کو سعی و سفارش کے بغیر ان کا حق عطا فرمائے گا۔
Top