Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو
قُلْ ھُوَالَّذِیْ اَنْشَاکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (الملک : 23) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ ) اپنے من میں ڈوب کر فیصلہ کرنا سیکھئے اس سے پہلی آیت میں گمراہ اور ہدایت سے محروم شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اوندھے منہ سر جھکائے جامد تقلید کے بندھنوں میں گرفتار خواہشات کا اسیر اور دنیا کے چلن کا پرستار بن کر سر جھکائے چلتا رہتا ہے اور کبھی غور و فکر نہیں کرتا کہ میرا طرزعمل صحیح ہے یا غلط۔ اسے ملامت کرتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں انسان بنایا تھا، لیکن تم نے حیوانوں کی روش اختیار کی۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چل پڑو۔ اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جارہے ہو وہ صحیح ہے یا غلط۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ کان سننے کے لیے دیئے تھے اور آنکھیں دیکھنے کے لیے اور دل و دماغ سوچنے سمجھنے کے لیے۔ لیکن تم زمانے کی روش میں ایسے مبتلا ہوئے کہ نہ تم نے سر اٹھا کے دیکھا کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں وہ صحیح ہے یا نہیں اور میرے گردوپیش میں جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کس بات کی شہادت دے رہی ہیں۔ اور نہ تم نے کبھی کسی ہمدرد کی بات سننے کی زحمت گوارا کی۔ اور جو غلط سلط باتیں تمہارے دماغ میں پہلے سے بیٹھی ہوئی تھیں انھیں پر اڑے رہے۔ اور نہ تم نے اپنے دل و دماغ سے کبھی سوچنے سمجھنے کا کام لیا بلکہ تم اس طریقے کی پیروی میں لگے رہے جو دنیا میں کبھی کسی نے جاری کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے عطا کی تھیں، لیکن تم نے حق شناسی کی بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرلیا۔ خود ہی اپنی اس روش پر غور کرو کہ تمہیں کیا بنایا گیا تھا اور تم کیا بن چکے ہو۔
Top