Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 27
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب رَاَوْهُ : وہ دیکھ لیں گے اس کو زُلْفَةً : نزدیک سِيْٓئَتْ : بگڑ جائیں گے وُجُوْهُ الَّذِيْنَ : چہرے ان لوگوں کے كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا وَقِيْلَ : اور کہہ دیاجائے گا هٰذَا الَّذِيْ : یہ ہے وہ چیز كُنْتُمْ : تھے تم بِهٖ : ساتھ اس کے تَدَّعُوْنَ : تم تقاضا کرتے
پس جب اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم تقاضا کرتے تھے
فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَـۃً سِٓیْئَتْ وُجُوْہُ الَّذِیْنَ کَـفَرُوْا وَقِیْلَ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْـتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ ۔ (الملک : 27) (پس جب اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم تقاضا کرتے تھے۔ ) قیامت کے روز مخالفت کا انجام جو لوگ منہ پھاڑ پھاڑ کر آنحضرت ﷺ سے عذاب کو دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے یا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر قیامت آنے والی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی، آخر وہ کہاں رک گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ جب اس عذاب یا روزقیامت کو قریب آتا دیکھیں گے، عذاب نظر آئے گا کہ سروں پر پہنچ گیا ہے۔ یعنی زمین پھٹ رہی ہے یا سر پر مہیب گھٹا چھا گئی ہے یا سمندر بےقابو ہوگیا ہے یا آگ برسنے لگی ہے تو یہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر مطالبہ کررہے ہیں ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کی کیفیت ایسی ہوگی جیسے پھانسی کے تختے کی طرف کھینچے جانے والے مجرم کی ہوتی ہے۔ اس وقت ان کی ساری شیخیاں ہوا ہوجائیں گی۔ ان سب کی سٹی گم ہوجائے گی، چیخنا چلانا شروع کردیں گے۔ تب ان سے کہا جائے گا کہ اب واویلا کیوں مچا رہے ہو اور یہ تمہاری ہَوائیاں کیوں اڑنے لگی ہیں۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا تم مطالبہ کررہے تھے۔ یہ تمہاری منہ مانگی مراد ہے، اب اس کا مزہ چکھو۔
Top