Ruh-ul-Quran - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہ رحمن ہے ہم نے اس کو مانا اور اس پر بھروسہ کیا، عنقریب تم جان لو گے کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے
قُلْ ھُوَالرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا ج فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الملک : 29) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہ رحمن ہے ہم نے اس کو مانا اور اس پر بھروسہ کیا، عنقریب تم جان لو گے کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت کفارِ قریش چونکہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں خطرناک عزائم بھی رکھتے تھے اور تباہ کن امیدیں بھی۔ اور اسی سے لوگوں کو تسلیاں بھی دیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے کہہ دیجیے کہ جس ذات پر ہم ایمان لائے ہیں وہ رحمن اور رحیم و کریم ہے۔ اور ہر معاملے میں ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ ہم اپنے تئیں نہ امیدیں باندھتے ہیں نہ وساوس کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں بھروسہ ہے تو صرف اپنے پروردگار کی رحمت پر۔ وہ اپنے بندوں پر ہمیشہ رحم فرماتا ہے اور یقینا ہم پر بھی رحم فرمائے گا۔ تم ہمارے بارے میں جو کچھ بھی کہتے ہو ہم اس میں کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔ ہم اپنے ایمان کے تقاضوں کو بروئے کار لائیں گے اور ہر طرح کے حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں گے۔ وہ وقت دور نہیں جب تمہیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ کھلی ہوئی گمراہی میں تم تھے یا ہم۔
Top