Ruh-ul-Quran - Al-Haaqqa : 51
وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ
وَاِنَّهٗ : اور بیشک وہ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ : البتہ حق ہے یقینی
اور بیشک یہ ایک حق یقینی ہے
وَاِنَّـہٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ ۔ (الحآقۃ : 51) (اور بیشک یہ ایک حق یقینی ہے۔ ) قرآن کریم جس روز جزاء و سزا سے خبردار کررہا ہے وہ ایک حق یقینی ہے، محض مفروضہ نہیں۔ اسے لازماً پیش آنا ہے۔ جو آج اسے تسلیم نہیں کرے گا، کل اسے پچھتانا پڑے گا۔ یہ تقریباً وہی بات فرمائی گئی ہے جو اس صورت کی ابتدائی تین آیتوں میں فرمائی گئی ہے اور سورة کا نام جس پر دلالت کررہا ہے۔ یعنی جس بات سے سورة کا آغاز ہوا تھا، اسی پر اس کا اختتام ہورہا ہے۔ اس سے بڑھ کر قرآن کریم کے مربوط ہونے کی اور کیا دلیل ہوگی۔
Top