Tafseer-e-Saadi - Al-Muminoon : 17
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں
آیت 17 ) اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بےپایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (ولقد خلقنا فوقکم) ، ، اور بنائے ہم نے تمہارے اوپر ، ، یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر (سبع طرائق) ہم نے سات آسمان طبق برطبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد و دیعت کئے گئے۔ (وما کنا عن الخلق غفلین) ، ، اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ ، ، پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لئے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں، نہ آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گرپڑے اور نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں۔ (آیت) (ھو 5 : 2/11) ، ، زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔ ، ، اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاً فرمایا : (الا یعلم من خلق و ھو الطیف الخبیر) (الملک : 14/28) ، ، کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔ ، ، نیز فرمایا : (بلی و ھوا الخلق العلیم) (یس : 81/32) ، ، کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ ، ، کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ (و انزلنا من السماء ماءً ) ، ، اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی، ، تاکہ تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہوجائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس خے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ (فاسکنہ فی الارض) ، ، پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں۔ ، ، یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتی ٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ (وانا علیٰ ذھاب بہ لقدرون) ، ، اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں۔ ، ، اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن استے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انہیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (قل آرء یتم ان اصبح مآؤکم غوراً فمن یاتیکم بماء معین) (الملک : 30/28) ، ، کہہ دیجئے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمہارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہوجائے تو کون ہے جو تمہارے لئے پانی کا چشمہ بہا لائے۔ ، ، (فانشانا لکم بہ) ، ، پس ہم پیدا کرتے ہیں تمہارے لیے اس کے ساتھ ، ، یعنی اس پانی کے ذریعے (جنت) یعنی باغات (من نخیل وآعناب) ، ، کھجور اور انگور کے۔ ، ، اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا۔ (لکم فیھا) ، ، تمہارے لیے ان (باغات) میں ، ، (فواکہ کثیرۃ و منھا تاکلون) ، ، بہت سے میوے ہوتے ہیں، انہی میں سے تم کھاتے ہو، ، یعنی زیتون، لیموں، انار اور سیب وغیرہ۔ (و شجرۃً تخرج من طور سیناء) ، ، اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔ ، ، اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں۔ (تنبت با الدھن وصبغ للاکلین) ، ، اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔ ، ، اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جو کہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لئے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کو کھانے کے لئے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں۔
Top