Tafseer-e-Saadi - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے
آیت نمبر 93) چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل وبراہین قائم کردیے مگر انہوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ( قل رب اما ترینی ما یوعدون) یعنی اے رب ! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے (رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین) ” تو اے میرے رب ! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔ “ یعنی اے میرے رب ! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بدسب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے : (وانا علی ان نربک ما نعد ھم لقدون ) ” اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ‘ یقیناً قادر ہیں۔ “ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں۔ یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ادفع بالتیھی احسن السیءۃ) ” دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔ “ یعنی جب آپ ﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ‘ ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ‘ ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپ ﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپ ﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت ‘ تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ‘ اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ) (الشوری (40/42 ” جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ “ اور فرمایا : (اد فع بالتیھی احسن فا ذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم۔ وما یلقھا الا الذین صبرو وما یلقھا الا ذوحظ عظیم) (حمٓ السجدۃ : (35, 34/41” آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روکئے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص ‘ جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے ‘ آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی ( یعنی خلق جمیل کی توفیق) مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں۔ “ (نحن اعلم بما یصفون) ” ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔ “ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا ‘ ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد ! ﷺ آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندہ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔ رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شال ہوجائیں۔ پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندہ مومن کا وظیفہ وہ ہ یجس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے ‘ چناچہ فرمایا : (و قل رب اعوذ بک) یعنی میں اپنی قدرت وقوت سے برات کا اظہارت کر کے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں۔ (من ھمزت الشیطین۔ واعوذ بک رب ان یحضرون) یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہوسکتا ہے ‘ نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذا رسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہوسکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی ‘ اس کا وسوسہ اور اس کی ایذا رسانی وغیرہ سب داخل ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کر کے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصؤن ہوجاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہوجاتی ہے۔
Top