Tafseer-e-Saadi - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
کہہ دو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔
اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے (قل ھوالذی انشاکم) یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمہیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمہیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمہارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضا ہیں مگر ان نعمتوں کے باوجود (قلیلا ما تشکرون) تم کم ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہو، تم میں شکر گزار لوگ اور شکر گزاری بہت کم ہے۔ (قل ھوالذی ذراکم فی الارض) کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا، یعنی اس نے تمہیں زمین کے چاروں سمت پھیلایا اور اس کے کناروں تک تمہیں آباد کیا، تمہیں امر ونہی کا مکلف کیا، تمہیں یہ معاندین حق، جزا وسزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔ (ویقولون) اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں (متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین) ۔ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ انہوں نے انبیاء کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انہیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں، جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔ پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل وبراہین قائم کردیے ہیں اس شخص کے لیے ادنی سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
Top