بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Siraj-ul-Bayan - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بڑی برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر شئے پر قادر (ف 1) ہے
اسلامی سوشلزم 1: جہاں تک ذات خد اوندی کا تعلق ہے ۔ وہ تو اضافہ وارتقاء مراتب سے یک قلم منزہ اور پاکی ہے ۔ اس لئے تبارک کی یہ معنے تو ہرگز نہیں ہیں ۔ کہ اس کی صفات جلال اور شنون جمال میں کہیں ازدیاء کا امکان ہے ۔ اس کی شان ازل سے ابد تک یکساں ہے ۔ وہ الان کم کان کا مصداق ہے ۔ وہ قدرت و حکمت اور حسن و کمال کا وہ آخری مفہوم ہے ۔ جس تک عقل انسانی پہنچ سکتی ہے ۔ مگر اس کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ البتہ اس کے معنے یہ ہوسکتے ہیں ۔ کہ اس کے فیوض رحمت میں ابداً اور دائماً باعتبار کائنات کے اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ اور اس کی ربوبیت زیادہ اتم کو زیادہ جمیل اور زیادہ مفید شکل میں بدل رہی ہے ۔ بیدہ کا لفظ جسمانیت میں لالت نہیں کرتا ۔ بلکہ مفہوم تملیک کو زیادہ مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ کائنات ارضی وسمادی کا حقیقی مالک صرف خدا ہے ۔ اور یہ لوگ جو جبروظلم اور استبداً وغضب کی بناء پر دنیا پرچھا رہے ہیں ۔ قطعاً اس بات کا استحقاق نہیں رکھتے کہ دنیا کے تنہا مالک قراردیئے جائیں ۔ اور غربا اور مساکین کو زندگی کے تمام فیوض سے محروم کردیں ۔ مالک خدا ہے ۔ اور یہ لوگ نفس امین ہیں ۔ ان کا کام یہ نہیں ہے ۔ کہ اپنی مرضی سے دنیا کے منافع کو قصرف میں لائیں ۔ بلکہ یہ ہے ۔ کہ خدا کے قوانین کے مطابق دولت و ثروت کی تقسیم کریں ۔ اشتراکیت اور اسلام کے تخیل میں یہی بنیادی اختلاف ہے ۔ کہ اول بلند کو تحر کی کے سوید تمام زمین اور آلات نفع کو سٹیٹ کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اور توقع رکھتے ہیں ۔ کہ وہ انصاف کے ساتھ ان میں ان چیزوں کو تقسیم کردے گی ۔ اور اسلام انسانوں کی کسی جماعت کو یہ حق نہیں دیتا ۔ کہ عدل و انصاف کو اپنے ہاتھ میں لے ۔ اور لوگوں کی قسمتوں کی مالک بن جائے ۔ وہ صرف خدا پر اعتماد رکھتا ہے اور صرف اس کے منصفانہ فیصلوں کو نبی نوع انسان کے لئے مفید سمجھتا ہے ۔ اس کے نزدیک انسانوں کی کوئی جماعت اس قابل نہیں ہے ۔ کہ بغیر آسمانی ہدایات کے وہ تسلی بخش کلچرل کی تاسیس کرسکے ۔ حل لغات :۔ الملک ۔ ہر نوع کا قبضہ واقتدار سبع سماوت ۔ کئی اجرام رفیع ۔ باور ہے ۔ سبح کا لفظ جس طرح ایک متقین عد د کے لئے آتا ہے ۔ اسی طرح کثرت کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے نفوت ۔ چوک ۔ نقص وغیب حسیر ۔ تھکی ماندی ۔ ورماندہ ۔
Top