Siraj-ul-Bayan - Al-Waaqia : 11
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
وہ لوگ جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ ان کے لئے معافی اور بڑا (ف 1) اجر ہے
نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب استاد کے باوجود اس کو پہچانا جائے ۔ اور اس کے نام کو کفر و انکار کے خلاف پھیلایا جائے ۔ اس وقت تسلیم کیا ۔ تو کیا ۔ جب کہ وہ خود ایمان پر مجبور کردے اور جبکہ اعمال کے لئے کوئی وقت ہی باقی نہ رہے حل لغات :۔ سعیر ۔ آتش وزاں شحقا ۔ لعنت ہے ۔ یعنی بعد اور دوری ہے ۔ مرضات الٰہی سے محرومی ہے ذلولا ۔ مستخر ۔
Top