Siraj-ul-Bayan - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر بار بار نظر پھرا تیری طرف آنکھیں ہوا ہوکر تھکی (ف 2) ہوئی لوٹیں گی
2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی نقص نہیں پائے گا ۔ نگاہ تعمتق وفکر تھک جائے گی ۔ اور اس میں عیب نہیں نکال سکے گی ۔
Top