بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tadabbur-e-Quran - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
امرِ الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں
اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ جلد بازوں سے خطاب اور ان کی وعید : نبی ﷺ جب اپنی قوم کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس امر حق کی دعوت دے رہا ہوں اگر تم نے اس کو اختیار نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں، ہم تو تمہاری بات جب مانیں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کے روز روز ڈرا دے سنا رہے ہو۔ آگے آیت 33 میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انہی جلد بازوں کو خطاب کرکے ارشاد ہوا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اَتٰٓى اَمْرُ اللّٰهِ (عذاب کے الیے امر الٰہی صادر ہوچکا ہے)۔ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک امر واقعی کا بیان ہے۔ ہم اس کتاب میں متعدد آیات کے تحت اس سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی کے اندر یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس رسول پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کردیں گے وہ ہلاک کردیے جائیں گے۔ رسول، حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی اور اتمام حجت کا آخر ذریعہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے رسول کی بعثت کے بعد اس کی قوم کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو لوگ اس پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں ورنہ خدا کی پکڑ میں آئیں اور اپنی سرکشی کا انجام بد دیکھیں۔ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔ یعنی یہ لوگ اس خطب میں مبتلا نہ رہیں کہ جن کو یہ خدا کا شریک و شفیع بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گے۔ خدا ان کے مزعومہ شریکوں سے پاک اور برتر ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان صفات کے ساتھ ان مشرکانہ توہمات کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام صفات میں یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ بلاغت کا ایک اسلوب : اس آیت میں اسلوب بیان کا یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ " فلا تستعجلوہ " میں براہ راست ان کو خطاب کیا ہے لیکن " عما یشرکون " میں خطاب کے بجائے غائب کا صیغہ آگیا ہے۔ اسمیں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غائب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی۔
Top