Tadabbur-e-Quran - Al-Anbiyaa : 17
لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ
لَوْ اَرَدْنَآ : اگر ہم چاہتے اَنْ : کہ نَّتَّخِذَ : ہم بنائیں لَهْوًا : کوئی کھلونا لَّاتَّخَذْنٰهُ : تو ہم اس کو بنا لیتے مِنْ لَّدُنَّآ : اپنے پاس سے اِنْ كُنَّا : اگر ہم ہوتے فٰعِلِيْنَ : کرنے والے
اگر ہم کوئی کھیل ہی بنانا چاہتے تو خاص اپنے پاس ہی بنا لیتے اگر ہم یہ کرنے والے ہی ہوتے !
کھیل اور کار عبث خدا کی صفات کے منافی ہے لیکن بالفرض ہم ایسا کرنے والے ہی ہوتے تو اپنے پاس ہی سے اس کا سروسامان مہیا کرلیتے، اس میں اپنے بندوں اور بندیوں اور اپنی دوسری مخلوقات کو کیوں گھسیٹتے ! ہم اس کتاب میں روم کے قدیم سلاطین کے متعلق کہیں ذکر آئے ہیں کہ وہ اپنے تھیٹروں میں بھوکے شیروں اور اپنے مظلوم غلاموں کی چیر پھاڑ کا تماشا دیکھتے تھے۔ العیاذ باللہ یہی رائے اس کائنات کے خالق کے متعلق قائم کرنی پڑے گی اگر وہ اپنی تمام مخلوقات کو اس ابتلاء میں ڈال کر ان کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دنیا میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی، سرکش و باغی بھی ہیں اور وفادار و تابعدار بھی، ناشکرے اور نابکار بھی ہیں اور حق شناس و شکر گزار بھی، ایسی حالت میں اگر اس دنیا کے لئے کوئی روز عدل نہیں ہے تو پھر یہ روم کے سلاطین کے ایک تھیٹر کے مانند ہے۔ اس آیت میں اسی بےہودہ خیال کی تردید کی گئی ہے کہ اپنے مخلوقات کے ساتھ خدا کا جو تعلق ہے وہ اس بات کو واجب کرتا ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں حق و باطل کا فیصلہ ہو، حق سربلند ہو اور باطل نابود اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور یہ چیز خدا کی صفات کے منافی ہے۔ لاتخذنہ من لذنا کے چند لفظوں کے اندر جس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے تو ہم اس کا سروسامان اپنے پاس ہی سے کرلیتے اس کے لئے آدم و ابلیس، حق و باطل، ہدایت و ضلالت، عدل و ظلم، خیر و شر، اور ظلم و مظلومی کی یہ رزمگاہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ بات خدا کے عدل و رحم کے بالکل منافی ہے کہ وہ ایک رزمگاہ میں اپنے بندوں اور بندیوں کو اتار دے اور خود ایک تماشائی بن کر صرف اس کا تماشا دیکھے، نہ ان لوگوں کو انعام دے جو اس جہاد میں کامیاب و سرخرو ہوں اور نہ ان لوگوں کو سزا دے جو اپنی ساری زندگی باطل کی پرستش اور اس کی حمایت میں گزاریں۔ فرمایا کہ اول تو اس قسم کا کھیل اور کار عبث ہماری شان اور ہماری اعلیٰ صفات کے منافی ہے لیکن بالفرض ہم ایسا ان کنافینا میں خدا کی نسبت اسی باطل تصور کی تردید ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اسی باطل تصور کی بنا پر دنیا کی مشرک قوموں نے اس کائنات کو اپنے دیوتائوں کی ایک تماشا گاہ قرار دیا اور ہندو فلسفیوں نے اس کو بھگوان کی لیلا سے تعبیر کیا۔ ان کے ہاں چونکہ قیامت کا کوئی واضح تصور نہیں تھا اس وجہ سے انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح دنیا کے بادشاہ اپنی تفریح کے لئے تھیٹر بناتے ہیں اسی طرح ان کے غیبی دیوتائوں نے یہ دنیا بنائی ہے اور وہ اس میں کسی کو ظالم اور کسی کو مظلوم، کسی کو قاتل اور کسی کو مقتول بنا کر اس کا تماشہ دیکھتے اور اپنا جی بہلاتے ہیں۔ ہمارے اس زمانے کے منکرین و ملاحدہ اگرچہ زبان سے تو یہ بات نہیں کہتے کہ یہ کہنے میں نہایت بھونڈی ہے لیکن جب وہ قیامت اور ایک روز عدل و انصاف کو نہیں مانتے تو ان کے دل کے اندر بھی اصلاً یہی تصور باطل گھسا ہوا ہے اس لئے کہ انکار قیامت کے معنی دوسرے لفظوں میں یہی ہیں کہ یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال ہے۔ قیامت کو مانے بغیر اس کائنات کی کوئی ایسی توجیہ ممکن ہی نہیں ہے جو اس کو حق و عدل پر مبنی قرار دے سکے۔ ان دونوں میں اسیرطح کی نسبت ہے جس طرح کی نسبت زوجین میں ہوتی ہے۔ اگر جوڑے کے ایک فرد کو اس کے دوسرے جزو سے الگ فرض کر کے اس کی توجیہ کرنا اور اس کے واعیات و مقتضیات کی حکمت معلوم کرنا چاہیں تو یہ ناممکن ہے۔
Top