Tadabbur-e-Quran - Al-Anbiyaa : 37
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ
خُلِقَ : پیدا کیا گیا الْاِنْسَانُ : انسان مِنْ : سے عَجَلٍ : جلدی (جلد باز) سَاُورِيْكُمْ : عنقریب میں دکھاتا ہوں تمہیں اٰيٰتِيْ : اپنی نشانیاں فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ : تم جلدی نہ کرو
انسان عجلت کے خمیر سے پیدا ہوا ہے تو میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائوں گا، تو تم مجھ سے جلدی نہ مچائو !
آیت 38-37 عذاب کے لئے جلد بازی کا جواب انسان سے مراد یہاں یہی مذاق اڑانے والے ہی لوگ ہیں۔ ایسے ناشائستہ لوگوں کا ذکر عام لفظ سے کردیا ہے۔ فرمایا کہ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کا تہتک کرنے کے لئے یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو آخر وہ کہاں اٹکا ہوا ہے ! اگر سچے ہو تو اس کو لا کر دکھا کیوں نہیں دیتے کہ اس نزاع کا فیصلہ ہوجائے۔ جواب میں ارشاد ہوا کہ یہ تاخیر تو خدا کی عنایت سے ہو رہی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جو لوگ اس فرصت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب کے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ان کو خطاب کر کے تہدید کے انداز میں فرمایا کہ اگر عذاب کے طلبگار ہو تو جلدی نہ مچائو، میں بہت جلد اپنے عذاب کی نشانیاں تم کو دکھائوں گا جس سے تم پر واضح ہوجائے گا کہ پیغمبر جس چیز سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ دنیا میں بھی تمہارے سامنے آ کے رہے گی اور آخرت میں بھی تم اس سے دوچار ہو گے۔
Top