Tadabbur-e-Quran - Al-Muminoon : 19
فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ
فَاَنْشَاْنَا : پس ہم نے پیدا کیے لَكُمْ : تمہارے لیے بِهٖ : اس سے جَنّٰتٍ : باغات مِّنْ : سے۔ کے نَّخِيْلٍ : کھجور (جمع) وَّاَعْنَابٍ : اور انگور (جمع) لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : اس میں فَوَاكِهُ : میوے كَثِيْرَةٌ : بہت وَّمِنْهَا : اور اس سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
پس ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے۔ تمہارے لئے ان میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم لذت اندوز بھی ہوتے ہو اور اپنی غذا کا سامان بھی کرتے ہو
تاکلون کا قرینہ دلیل ہے کہ فواکہ کثیرۃ کے بعد تتقکھون یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف مانا جائے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یعنی اسی پانی سے اللہ نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے جن میں تمہارے لئے اور بھی بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے اور انہی باغوں سے تم اپنے لئے غذائی اجناس بھی حاصل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے صرف زندہ رہنے کا سامان ہی نہیں پیدا کیا بلکہ تمہارے کام و دہن کیضیافت کا سامان بھی مہیا فرمایا۔ جینے کو تو انسان صرف روٹی سے بھی جی سکتا ہے لیکن رب کریم نے تمہارے آگے قسم قسم کے میوے اور پھل بھی چن دیئے۔ اہل عرب کے ہاں ایک اچھے باغ کا تصور، جیسا کہ سورة کہف کی آیت 32 میں مذکور ہے یہ ہے کہ انگوروں کا باغ ہو اس کے کنارے کنارے کھجوروں کی باڑھ ہو اور بیچ بیچ میں مختلف اجناس اور دوسرے موسمی پھلوں کے قطعات ہوں۔ ان کے ہاں اصل پھل کی حیثیت تو کجھور اور انگور ہی کو حاصل تھی لیکن دوسرے پھل اور بعض غذائی اجناس بھی پیدا ہوتیں۔ انہی کی طرف قوا کہ کثیرۃ اور منھا تاکلون کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔
Top