Tadabbur-e-Quran - Al-Muminoon : 24
فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ
فَقَالَ : تو وہ بولے الْمَلَؤُا : سردار الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا مِنْ : سے۔ کے قَوْمِهٖ : اس کی قوم مَا ھٰذَآ : یہ نہیں اِلَّا : مگر بَشَرٌ : ایک بشر مِّثْلُكُمْ : تم جیسا يُرِيْدُ : وہ چاہتا ہے اَنْ يَّتَفَضَّلَ : کہ بڑا بن بیٹھے وہ عَلَيْكُمْ : تم پر وَلَوْ : اور اگر شَآءَ اللّٰهُ : اللہ چاہتا لَاَنْزَلَ : تو اتارتا مَلٰٓئِكَةً : فرشتے مَّا سَمِعْنَا : نہیں سنا ہم نے بِھٰذَا : یہ فِيْٓ اٰبَآئِنَا : اپنے باپ داد سے الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
تو اس کی قوم کے اعیان نے، جنہوں نے کفر کیا، کہا کہ یہ تو بس تمہارے ہی جاست ایک بشر ہے، تم پر اپنی برتری جمانا چاہتا ہے اور اگر اللہ رسول ہی بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا۔ اس طرح کی بات ہم نے اپنے اگلے بزرگوں میں تو سنی نہیں !
قوم کے لیڈروں کی طرف سے حضرت نوح کی مخالفت ملاً سے مراد، جیسا کہ ہم بقرہ 246 کے تحت وضاحت کرچکے ہیں قوم کے اعیان، سردار اور لیڈر ہیں۔ دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش ہمیشہ یہی ہوئے ہیں اس لئے کہ اپنے وقت کے نظام باطل کے سربراہ ہونے کے سبب سے رسول کی کامیابی وہ اپنی موت سمجھتے ہیں۔ چناچہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ رسول کی دعوت سلیم الفطرت لوگوں پر اثر انداز ہو رہی ہے تو وہ اس کے اثر کو مٹان یکے لئے طرح طرح کی سخن سازیاں کرتے اور اپنے عوام کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ اس کی نیت و صداقت پر حملہ کرتے ہیں کہ اس شخص کا یہ دعویٰ کہ یہ خدا کا فرستادہ ہے محض جھوٹ اور افتراء ہے ! یہ جھوٹ محض اس لئے اس نے گھڑا ہے کہ تمہارے اوپر اپنے خدائی فرستادہ ہونے کی دھونس جما کر تمہارا لیڈر بن جائے۔ یتفضل علیکم کی بلاغت پر نگاء ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ہماری لیڈری چھیننا چاہتا ہے بلکہ یہ کہا کہ تم پر اپنی سیادست قائم کرنا چاتہا ہے۔ اس زہر آلود فقرے میں سادہ لوح عوام کو بھڑکانے کے لئے جو مواد موجود ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہے۔ مخالفت کے لئے بہانہ ولو شآء اللہ لا نزل ملئکۃ یہ رسول کی تکذیب کے لئے ان لال بجھکڑوں کی عقلی دلیل مذکور ہوئی ہے کہ اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اول تو ہماری رہنمائی کے لئے کسی نبی اور رسول کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم خود اپنی رہنمائی کے لئے کافی ہیں اور اگر بالفرض خدا کسی کو نبی اور رسول بنا کر بھیجنے والا ہی ہوتا تو فرشتوں کو اس کار خاص کے لئے منتخب کرتا۔ آخر ہمارے ہی جیسے ایک انسان کو نبی و رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی ! ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین یعنی مزید ستم یہ ہے کہ یہ شخص جو کچھ پیش کرتا ہے تمام تر بدعت و ضلالت اور باپ دادا کے طریقہ کے بالکل خلاف ہے۔ ہم نیح اس قسم کی باتیں اپنے اسلاف کی روایات میں کبھی نہیں سنیں۔ یہی مضمن اسی سورة کی آیت 68 میں یوں بیان ہوا ہے۔ افلم ید برفا القول ام جآء ھم مالم یات ابآء ھم الاولین (کیا انہوں نے کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی چیز آئی جو ان کے ا گلے آباء و اجداد کے پاس نہیں آئی) سورة قصص میں ہے۔ ماھذا الا سحر مفتری وما سمعنا بھذا فی امآبنا الاولین 36-) (یہ محض ایک جادو ہے جس کو جھوٹ موٹ خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے اور اس طرح کی باتیں ہم نے اگلوں میں تو کبھی سنی نہیں) یہی مضمون دوسرے مقام میں اس طرح ہے۔ ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ (ص 7)
Top