Tadabbur-e-Quran - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
ان کی شرارتوں سے خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو، یہ جو کچھ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ہم اس سے اچھی طرح واقف ہیں
عفو و درگزر کو ہدایت یہ نبی ﷺ کو صبر اور عفو و درگزر کی تلقین ہے کہ ان کے برے سلوک کا جواب بدستور اپنے اچھے سلوک سے دیتے رہو۔ جو ہرزہ سرائیاں اور بدتمیزیاں یہ کر رہے ہیں ہم ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ایک ایک شرارت کا مزہ ہم ان کو چکھائیں گے، تم ان کے رویہ سے بال گرفتہ نہ ہو۔ ان کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑو۔ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے۔
Top