Tadabbur-e-Quran - Al-Qasas : 17
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ بِمَآ : اے میرے رب جیسا کہ اَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا عَلَيَّ : مجھ پر فَلَنْ اَكُوْنَ : تو میں ہرگز نہ ہوں گا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کا
اس نے کہا، اے ربچ چونکہ تو نے مجھ پر فضل فرمایا تو میں عہد کرتا ہوں کہ میں مجرموں کا مددگار کبھی نہیں بنوں گا
آئندہ کے لئے احتیاط نعمت، صالحین کے لئے شکر گزاری میں اضافہ کرتی ہے اس وجہ سے جب اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ فضل فرمایا کہ ان کو معافی دے دی تو آئندہ کے لئے انہوں نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔ ”مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا“ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ آپ نے اسرائیلی کی حمایت اس کو محرم سمجھتے ہوئے کی اب نے تو جو کچھ کیا اس کو مظلوم سمجھتے ہوئے کیا، اس کی فریاد کیا اور وقت کے حالات کی بنا پر ان کو گمان یہی ہوا کہ قطبی ظالم اور اسرائیلی مقلوم ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے معافی مانگنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تم بےقصور ہو، قبطی ظالم آدمی تھا، بلکہ ان کو ایک غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے معافی دی تو اس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میں نے مظلوم کی حمایت کرنی چاہی لیکن معاملہ کی تحقیق نہ کرنے کے سبب سے مجھ سے ظالم کی حمایت صادر ہوگئی۔ اس وجہ سے آئندہ کے لئے آپ نے یہ عہد فرمایا کہ اب میں بلاتحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا بلکہ صرف اسی کی حمایت کروں گا جس کا مظلوم ہونا معلوم ہو۔ چناچہ دوسرے ہی دن آپ نے جب اسی اسرائیلی کو ایک دوسرے قبطی سے لڑتے دیکھا اور وہ حسب سابق پھر حضرت موسیٰ سے طالب مدد ہوا تو آپ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی معلوم ہوتے ہو۔
Top