Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Open Surah Introduction
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tadabbur-e-Quran - Aal-i-Imraan : 18
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ
شَهِدَ
: گواہی دی
اللّٰهُ
: اللہ
اَنَّهٗ
: کہ وہ
لَآ اِلٰهَ
: نہیں معبود
اِلَّا ھُوَ
: سوائے اس
وَالْمَلٰٓئِكَةُ
: اور فرشتے
وَاُولُوا الْعِلْمِ
: اور علم والے
قَآئِمًا
: قائم (حاکم)
بِالْقِسْطِ
: انصاف کے ساتھ
لَآ اِلٰهَ
: نہیں معبود
اِلَّا ھُوَ
: سوائے اس
الْعَزِيْزُ
: زبردست
الْحَكِيْمُ
: حکمت والا
اللہ، فرشتوں اور علم کی گواہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عدل وقسط کا قائم رکھنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔
توحید اور قسط کی شہادت کے تین پہلو : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قائم بالقسط ہونے پر اپنی، اپنے فرشتوں اور اہل علم کی شہادت کا حوالہ دیا ہے۔ یہ شہادت تین مختلف پہلوؤں سے ہے۔ 1۔ آفاق کی شہادت : ایک تو آفاق کی شہادت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اس کو جس طرح بنایا ہے اور جس طرح اس کے نظام کو چلا رہا ہے اس سے اس بات کی ساف شہادت مل رہے ہیں کہ وہ ایک ہی ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے۔ قرآن نے اس شہادت کو توحید کی دلیل کے عنوان سے اتنی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اسی نظام کائنات سے قرآن نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہر گوشے میں اس کائنات کے خالق نے ایک میزان رکھی ہے، مجال نہیں کہ کوئی شے اپنے معین محور و مدار سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوسکے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا خالق و فاطر عدل و قسط کو پسند کرتا ہے، یہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس عدل و قسط سے بال برابر بھی انحراف کرے۔ قرآن میں اس حقیقت کے شواہد بہت ہیں۔ ہم بخیالِ اختصار صرف ایک آیت بطور مثال نقل کرتے ہیں۔ ارشاد ہے ”الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ۔ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ۔ أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ : سورج اور چاند دونوں ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں، ستارے اور درخت سب سجدہ کرتے ہیں۔ اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں ایک میزان رکھی، کہ تم بھی میزان کے معاملے تجاوز نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو“ (رحمان :5-9)۔ یعنی یہ کائنات اپنے وجود سے اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق عدل و قسط کو پسند کرنے والا ہے اور اس کے سورج اور چاند، شجر و حجر، آسمان و زمین اپنی زبان حال سے ہر وقت یہ سبق دے رہے ہیں کہ جس طرح وہ خدا کے مقرر کردہ پیمانے سے سرِ مو تجاوز نہیں کرتے، ان کی ہر حرکت اس پیمانے سے نبی پتلی ہوتی ہے اسی طرح انسان بھی اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں خدا کی میزان میں نپی تلی روش اختیار کرے، اس کے ٹھہرائے ہوئے حدود سے ذرا بھی تجاوز نہ کرے۔ 2۔ تاریخ کی شہادت : اسی آفاقی شہادت کے ذیل میں قوموں کی تاریخ بھی آتی ہے۔ قرآن نے قوموں کی تاریخ بھی پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ومالک اس کو ایک نظام عدل و قسط کے تحت چلا رہا ہے۔ اس کے اسٹیج پر یکے بعد یگرے وہ مختلف قوموں کو بھیجتا ہے اور ان کا امتحان کرتا ہے کہ وہ خدا کے قانون عدل وقسط کے اندر اپنے اختیار اور اپنی قوتوں کو استعمال کرتی ہیں یا اس سے بغاوت اور سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ جب تک کوئی قوم خدا کے حدود کے اندر رہ کر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتی ہے، وہ اس کو برومند کرتا اور پروان چڑھاتا ہے، جب وہ اس راہ سے ہٹ کر سرکشی کی راہ اختیار کرلیتی ہے تو ایک خاص حد تک مہلت دے چکنے کے بعد وہ اس کو فنا کردیتا ہے اور دوسری قوم کو اس کی وارث بناتا ہے۔ قرآن نے اس سنت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ 3۔ انفس کی شہادت۔ دوسری شہادت انفس کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ خود توحید کی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس شہادت کے دلائل ہم اپنی اس کتاب میں بھی جگہ جگہ بیان کر رہے ہیں اور خاص اس موضوع پر ہم نے حقیقت شرک اور حقیقت توحید کے نام سے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ تفصیل کے طالب ان کو پڑھیں۔ انسانی فطرت کی یہی توحید پسندی ہے جس کے سبب سے قرآن نے توحید کو دین فطرت قرار دیا ہے۔ ”فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا : اللہ کی بنائی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا“۔ اور یہی علد پسندی ہے جس کی بنا پر جزا و سزا کے منکرین سے قرآن یہ سوال کرتا ہے ”أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ : کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے، تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو“ (قلم :35-36)۔۔ 4۔ وحی کی شہادت : تیسری شہادت وحی کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پسند ناپسند اور اپنے اوامرو نواہی سے بندوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنے بیشمار نبی اور رسول بھیجے اور ان سب پر اپنی توحید اور اپنے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی اور ان نبیوں اور رسولوں نے یہ شہادت اپنی اپنی امتوں کو پہنچائی۔ اس شہادت کے آثار و نشانات آج بھی ان امتوں کی روایات اور ان کے صحیفوں کی تعلیمات میں موجود ہیں لیکن انہوں نے ان آثار و روایات کو نظر انداز کر کے اپنے آپ کو ایسے نظریات و عقائد میں مبتلا کرلیا جو توحید کے بھی منافی ہیں اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کے بھی، لیکن ان امتوں کی اس غلط روش کی وجہ سے وہ اپنی ان اعلی صفات سے دستبردار نہیں ہوگیا ہے بلکہ وہ بدستور ان سے متصف ہے اور ہمیشہ متصف رہے گا۔ چناچہ انہیں صفات کا یہ تقاضا ہے کہ اس نے قرآن کو، جیسا کہ اوپر کی تمہید میں گزرا، حق و باطل کے درمیان فرقان بنا کر اتارا تاکہ حق و عدل کی صراط مستقیم پھر واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور باطل پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ خدا کی وحدانیت اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت کسی ایک ہی پہلو سے نہیں مل رہی ہے بلکہ تین مختلف پہلوؤں سے مل رہی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی کائنات کا نظام اور اس کی تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے، اس کی پیدا کی ہوئی فطرت اس پر گواہ ہے اور اس کے پیغمبروں نے ہمیشہ اس حقیقت کی منادی کی ہے۔ اس آیت میں یہ بات نہایت اجمال کے ساتھ بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے تیس پاروں میں اس اجمال کی تفصیلات پھیلی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شہادت کے ساتھ یہاں ملائکہ کی شہادت کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یہ ایک امر واقعی کا اظہاو بیان ہے۔ کائنات میں خدا کے ارادوں کے نفاذ کا ذریعہ اور خدا کے پیغمبروں اس کی وحی پہنچانے کا واسطہ ملائکہ ہی بنتے ہیں اس وجہ سے خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کے اس کی مخلوقات میں شاہد اول وہی ہیں۔ ان کی گواہی ایک امر واقعی ہونے سے قطع نظر اس پہلو سے بھی خاص طور بیان ہوئی کہ نادانوں نے ان کو خدا کا شریک اور شفاعت باطل کا واسطہ قرار دے کر توحید کی بھی نفی کی اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کی بھی۔ اس لیے کہ جب تصور یہ ہو کہ سفارش حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دے سکتی ہے تو پھر خدا قائم بالقسط کہاں رہا ؟ فرشتوں کے متعلق اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے قرآن نے خود ان کی زبان سے بھی جگہ جگہ ان کے اعترافات کا حوالہ دیا ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ارشاد ہے ”وما مِنَّا إِلا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ (164) وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ (165) وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ (166): اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے بس ایک متعین مقام ہے اور ہم تو صفین باندھ کر حاضر رہنے والے ہیں اور ہم تو اس کی تسبیح کرنے والے ہیں“ (صافات : 164-166)۔ فرشتوں سے متعلق ایک تفصیلی بحث سورة بقرہ میں بضمن آیت ایمان ہم کرچکے ہیں۔ اولوالعلم کی شہادت : ملائکہ کے بعد اولو العلم کی شہادت کا ذکر ہے۔ العلم قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ علم حقیقی ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے دنیا کو ملا ہے۔ اس پر مفصل بحث ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ اس علم کے حاملین نے ہر دور میں خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی ہے یہ مصلحین و مجددین کے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں اور جنہوں نے اللہ کے دین کو بدعات اور آمیزشوں سے پاک کر کے عقائد کو توحید خالص کی بنیاد پر اور شرائع و قوانین اور اعمال و اخلاق کو حق و عدل کی اساس پر استوار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کی طرف آگے کی آیت میں ”یامرون بالقسط“ کے لفظ سے اشارہ ہوا ہے اور جن کے متعلق فرمایا ہے کہ اہل کتاب ان کو قتل کرتے رہے ہیں۔۔ حکمت دین کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ یہاں اللہ اور ملائکہ کے ساتھ حاملین علم کا حوالہ ہے اور توحید کے ساتھ عدل و قسط کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اہل علم کا کیا مقام ہے اور خدائی شریعت کے نظام میں عدل و قسط کا کیا درجہ و مرتبہ ہے۔ علم حقیقی کے حاملین ملائکہ کے زمرہ سے نسبت رکھنے والے ہیں اور عدل و قسط کا درجہ صفات الٰہی میں اتنا بلند وارفع ہے کہ توحید کے بعد سب سے پہلے جس کا ذکر ہوسکتا ہے وہ یہی ہے۔ ”قسط“ کا مفہوم : ”قائما بالقسط“ ترکیب کے لحاظ سے ہمارے نزدیک ”انہ“ کی ضمیر سے حال پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد و یکتا ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں، تمام اختیار و تصرف تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس اختیار و تصرف کو ٹھیک ٹھیک عدل و قسط کے مطابق استعمال کر رہا ہے۔ ”قسط“ کا مفہوم وہی ہے جو ہم عام بول چال میں حق، عدل، انصاف وغیرہ کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا ضد ظلم، جور اور اس معنی کے دوسرے الفاظ ہیں۔ فکر، عمل، قول، اخلاق، کردار مظاہر اور اشکال غرض ظاہر و باطن کے ہر گوشے میں ایک نقطہ تو وہ ہے جو ہر چیز کے خالق و فاطر کی بنائی ہوئی فطرت اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود وقیود کے اندر ہے، اس کو نقطہ اعتدال یا بالفاظ دیگر مرجع عدل و قسط سمجیے۔ اگر کسی گوشے میں اس نقطہ سے شوشے کے برابر بھی انحراف واقع ہوجائے تو یہ بات عدل و قسط کے منافی ہوگی۔ اعتبارات اور نسبتوں کی تبدیلی سے تعبیرات بدل بدل جائیں گی۔ کسی دائرے میں ہم اس سے انحراف کو ظلم و جور سے تعبیر کریں گے، کسی گوشے میں بد صورتی اور بد ہیئتی سے، اسی طرح کسی پہلو میں اس اعتدال کو حق وعدل سے تعبیر کریں گے، کسی محل میں حسن و جمال سے لیکن اصل حقیقت ہر جگہ ایک ہی ہوگی۔ وہ یہ کہ ایک شے اپنے اصل فطری مقام سے ہٹ گئی تو بگار پیدا ہوگیا اور اگر اپنے جوڑ سے پیوست ہوگئی تو بناؤ نمودار ہوگیا۔۔ خالق کائنات چونکہ اس دنیا کا خالق ومالک ہے اس وجہ سے اس کو اس کا بگاڑ نہیں بلکہ بناؤ مطلوب ہے۔ اس کے نظام تکوینی کی اس نے اس طرح چول سے چول بٹھائی ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے اور اگر اس کی قدرت ہی کی کسی معجز نمائی سے کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوتا نظر آتا ہے تو دفعۃ اسی کے کارفرما ہاتھ اس کو درست کرنے کے لیے نمودار ہوجاتے ہیں تاکہ جس توازن پر یہ کارخانہ قائم ہے اس میں کوئی خلل نہ پیدا ہونے پائے۔ اس کی یہی توازن پسندی ہماری زندگی کے اس دائرے کے لیے بھی ہے جس دائرے میں اس نے ہمیں محدود قسم کی آزادی دی ہے۔ جب ہم اپنے اختیار کو غلط استعمال کرکے اپنے اخلاق و عمل کے کسی گوشے میں فساد پیدا کرلیتے ہیں تو وہ ہمیں ڈھیل تو دیتا ہے لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک ہی ہوتی ہے، اس کی عدل پسندی یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ہمیں ہماری خواہشات کی پیروی کے لیے آزاد اور اس کے نتیجے میں اپنی خلق کو تاراج و پامال ہونے کے لیے چھور دے بلکہ وہ اس ڈھیل پر گرفت کرتا ہے اور ہمارے پیدا کیے ہوئے بگاڑ کو از سرِ نو درست کردیتا ہے اس لیے کہ وہ قائم بالقسط ہے۔ اس قیام بالقسط ہی کے لیے اس نے مکافات عمل کا قانون رکھا ہے، اسی کے لیے اس نے انبیاء و شرائع کے بھیجنے کا سلسلہ جاری کیا، اسی کے لیے اس نے یہ اہتمام فرمایا کہ جب شریعت میں تحریفات و بدعات سے فساد پیدا ہوجائے تو مجددین و مصلحین اس کی اصلاح و تجدید کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں، اسی کی خاطر اس نے قوموں کے عروج وزوال کو ان کے اخلاقی عروج وزوال کے تابع کیا اور پھر سب سے بڑھ کر اس عدل و قسط ہی کے کامل ظہور کے لیے اس نے ایک ایسا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی میزانِ عدل نصب ہوگی اور وہ تول کر بتائے گی کہ کس کا کون سا عمل ترازو میں پورا ہے، کون سا نہیں، اور پھر اسی کے مطابق جزا وسزا ہوگی۔۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوط رہے کہ ایک ہی آیت میں دو مرتبہ کلمہ توحید کا اعادہ ہے اور دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو الگ الگ صفتوں کا حوالہ ہے۔ پہلے فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ قائم بالقسط ہے، پھر فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزیز و حکیم ہے، اس اسلوب میں مخاطب، اہل کتاب کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا، فرشتوں اور تمام حاملین علم کی شہادت یہی ہے کہ خدا کے سوا کوئی الہ نہیں اور وہ الہ امور دنیا سے بےتعلق نہیں ہے کہ لوگوں کو ان کی خواہشات کی چراگاہ میں شتر بےمہار کی طرح چھور رکھے، وہ دندناتے پھریں اور وہ حی وقیوم ہونے کے باوجود ان کا کوئی نوٹس نہ لے بلکہ وہ تمہاری خواہشوں کے علی الرغم اپنے نظام عدل و قسط کو ضرور قائم کرے گا اور کوئی اس کا ہاتھ نہ پکڑ سکے گا، پھر فرمایا کہ وہ ایسا کیوں نہ کرے گا جب کہ وہ وحدہ لا شریک بھی ہے اور عزیز و حکیم بھی۔ اس کی عزت اور حکمت دونوں کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا رے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یا تو وہ بےبس اور حق لیے غیر سے خالی ہے یا وہ ایک کھلنڈرا ہے جس نے دنیا کو محض ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی عظیم ہستی کے متعلق اس قسم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان بالقسط ایمان کے اہم ارکان میں سے ہے : اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی صفت پر ایمان لانا ایمان باللہ کے نہایت اہم اجزا میں سے ہے اور اسلام کی حقیقت میں تو اس کو اس درجہ دخل ہے کہ گویا اسلام عبارت ہی اسی سے ہے۔ اس کی یہ اہمیت تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے متعلق استاذ امام کے چند نکات یہاں درج کردیے جائیں تاکہ جو لوگ حکمت دین پر غور کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مولانا ؒ کے نزدیک اس صفت کی اہمیت مندرجہ ذیل پہلوؤں سے ہے۔ ایمان بالقسط کی اہمیت کے چار پہلو : 1۔ ایمان امن سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اعتماد و اعتقاد اس کی فطرت میں داخل ہے۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ایمان کے لیے ناگزیر ہے کہ آدمی کو اللہ کے وجود پر یقین راسخ ہو۔ لیکن یہ چیز اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک یہ اعتماد نہ کیا جائے کہ عقل اصلاً رہنمائی کے لیے بنی ہے نہ کہ گمراہ کرنے لیے۔ یعنی یہ مانا جائے کہ عقل اپنی فطرت کے لحاظ سے انسان کے اندر ایک میزان قسط ہے۔ پھر یہ چیز ایک اور نتیجہ کو مستلزم ہے کہ فطرت کو اس کے فاطر نے حق وعدل کے اصولوں پر استوار کیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بہمہ وجوہِ عدل و قسط، عدل و قسط کو پسند کرنے والا اور اس کو قائم کرنے والا ہے۔ یہ تمام نتائج عقلاً لازم بلکہ بدیہیات میں سے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے حق ہونے کا ثبوت اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک فاطر فطرت کو حق و عدل نہ مانا جائے۔ اسی سے اس کے تمام افعال کا حق و صدق ہونا ثابت ہوگا۔ جس طرح عقلاً یہ چیز لازم ہے اسی طرح اخلاقی مسلمان سے بھی اس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نیکی کو اللہ تعالیٰ نے فطرت میں داخل کیا ہے اور دلوں میں اس کے قبول کرنے اور اس کی عزت کرنے کی رغبت ودیعت فرمائی ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم خود تو نیکی کو پسند کریں اور خدا کو نیکی کو پسند کرنے والا نہ قرار دیں۔ ہم اپنی اس خیر پسندی کی صحت و اصابت پر اطمینان کس طرح کرسکتے ہیں اگر خود فاطر کی خیر پسندی پر ہمارا دل مطمئن نہ ہو۔ ہم اس کو نیکی کر کے خوش کرنا تو اسی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ہم یہ اطمینان رکھتے ہیں کہ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے۔ اس کو اچھی صفات سے موصوف کرنا بھی اسی بنیاد پر ہے کہ ان صفات کو پسند کرنے کے معاملے میں ہمیں اپنی فطرت کے صحیح ہونے پر پورا اعتماد ہے۔ 2۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی اصل خدا کی محبت ہے۔ ہم ایک ایسے معبود پر ایمان رکھتے ہیں جس سے ہم محبت کرتے ہیں، جس سے امید رکھتے ہیں اور جس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ یہ چیز اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو کہ وہ ظلم و ناانصافی کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ وہ اپنا انعام انہی پر فرمائے گا جو اس کی اطاعت کریں گے اور سزا انہی کو دے گا جو اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ کسی ظالم و نامنصف آقا سے محبت کرنا انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ 3۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات پر غور کرنے سے فطرت میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا جو تقاضا ابھرتا ہے اس کی بنیاد شکر پر ہے۔ یہ شکر اس صورت میں لازم ہوتا ہے جب ہم یہ مانیں کہ یہ منعم کا حق اور اس کے انعام کا مقتضا ہے۔ یہی رمز ہے کہ قرآن میں شرک کو ظلم، اور ایمان کو شکر قرار دیا گیا ہے۔ اسی اصول پر تمام حقوق کے استحقاق کی بنیاد عدل کے وجوب پر رکھی گئی ہے۔ یہ شریعت اور قانون کی ایک بدیہی حقیقت ہے۔ اس وجہ سے ہر شریعت کی اساس و بنیاد قسط ہے۔ 4۔ چوتھا یہ کہ ایمان کا ثمرہ اطاعتِ الٰہی ہے اور اطاعت کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گوشے میں افعال اور ان کے اثرات میں یہ رشتہ اپنے خلق و تدبیر اور اپنے امر و حکم سے قائم کر رکھا ہے اور مختلف طریقوں سے اس حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہم چونکہ اعمال کے ان نتائج پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اس وجہ سے اس کے وعدے پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگر اس بات پر ہمارا ایمان نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرسکتا تو تمام اعمال کی بنیاد ہی ڈھے جائے گی اور پھر سارا اعتماد دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز پر رہ جائے گا یا تو نصاریٰ کی طرح جھوٹی شفاعت پر جن کا سارا اعتماد حضرت مسیح ؑ پر ہے، جن کو معبود بنا کر وہ ان کی عبادت کرتے اور جن سے خدا سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں یا پھر یہود کی طرح کامل سرگشتگی اور ناعاقبت بینی پر۔ انہوں نے ہوا کے رخ پر اپنی کشتی چھوڑ دی، اپنے تکبر اور حسد کے سبب سے وہ خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے، گویا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اور بد میں امتیاز کے لیے کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے۔ اس ضلالت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات پر پورا یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ قائم بالقسط ہے، اس کا ہر حکم عدل اور اس کا ہر وعدہ سچا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ”تمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا“۔ ان چاروں پہلوؤں پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے گی کہ ایمان بالقسط ایمان کے نہایت اہم ارکان میں سے ہے اور اس پر عقائد، اخلاق اور شرائع کے نہایت بنیادی مسائل مبنی ہیں۔
Top