Tadabbur-e-Quran - Aal-i-Imraan : 18
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ
شَهِدَ : گواہی دی اللّٰهُ : اللہ اَنَّهٗ : کہ وہ لَآ اِلٰهَ : نہیں معبود اِلَّا ھُوَ : سوائے اس وَالْمَلٰٓئِكَةُ : اور فرشتے وَاُولُوا الْعِلْمِ : اور علم والے قَآئِمًا : قائم (حاکم) بِالْقِسْطِ : انصاف کے ساتھ لَآ اِلٰهَ : نہیں معبود اِلَّا ھُوَ : سوائے اس الْعَزِيْزُ : زبردست الْحَكِيْمُ : حکمت والا
اللہ، فرشتوں اور علم کی گواہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عدل وقسط کا قائم رکھنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔
توحید اور قسط کی شہادت کے تین پہلو : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قائم بالقسط ہونے پر اپنی، اپنے فرشتوں اور اہل علم کی شہادت کا حوالہ دیا ہے۔ یہ شہادت تین مختلف پہلوؤں سے ہے۔ 1۔ آفاق کی شہادت : ایک تو آفاق کی شہادت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اس کو جس طرح بنایا ہے اور جس طرح اس کے نظام کو چلا رہا ہے اس سے اس بات کی ساف شہادت مل رہے ہیں کہ وہ ایک ہی ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے۔ قرآن نے اس شہادت کو توحید کی دلیل کے عنوان سے اتنی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اسی نظام کائنات سے قرآن نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہر گوشے میں اس کائنات کے خالق نے ایک میزان رکھی ہے، مجال نہیں کہ کوئی شے اپنے معین محور و مدار سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوسکے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا خالق و فاطر عدل و قسط کو پسند کرتا ہے، یہ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس عدل و قسط سے بال برابر بھی انحراف کرے۔ قرآن میں اس حقیقت کے شواہد بہت ہیں۔ ہم بخیالِ اختصار صرف ایک آیت بطور مثال نقل کرتے ہیں۔ ارشاد ہے ”الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ۔ وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ۔ أَلا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ : سورج اور چاند دونوں ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں، ستارے اور درخت سب سجدہ کرتے ہیں۔ اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں ایک میزان رکھی، کہ تم بھی میزان کے معاملے تجاوز نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو“ (رحمان :5-9)۔ یعنی یہ کائنات اپنے وجود سے اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق عدل و قسط کو پسند کرنے والا ہے اور اس کے سورج اور چاند، شجر و حجر، آسمان و زمین اپنی زبان حال سے ہر وقت یہ سبق دے رہے ہیں کہ جس طرح وہ خدا کے مقرر کردہ پیمانے سے سرِ مو تجاوز نہیں کرتے، ان کی ہر حرکت اس پیمانے سے نبی پتلی ہوتی ہے اسی طرح انسان بھی اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں خدا کی میزان میں نپی تلی روش اختیار کرے، اس کے ٹھہرائے ہوئے حدود سے ذرا بھی تجاوز نہ کرے۔ 2۔ تاریخ کی شہادت : اسی آفاقی شہادت کے ذیل میں قوموں کی تاریخ بھی آتی ہے۔ قرآن نے قوموں کی تاریخ بھی پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ومالک اس کو ایک نظام عدل و قسط کے تحت چلا رہا ہے۔ اس کے اسٹیج پر یکے بعد یگرے وہ مختلف قوموں کو بھیجتا ہے اور ان کا امتحان کرتا ہے کہ وہ خدا کے قانون عدل وقسط کے اندر اپنے اختیار اور اپنی قوتوں کو استعمال کرتی ہیں یا اس سے بغاوت اور سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ جب تک کوئی قوم خدا کے حدود کے اندر رہ کر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتی ہے، وہ اس کو برومند کرتا اور پروان چڑھاتا ہے، جب وہ اس راہ سے ہٹ کر سرکشی کی راہ اختیار کرلیتی ہے تو ایک خاص حد تک مہلت دے چکنے کے بعد وہ اس کو فنا کردیتا ہے اور دوسری قوم کو اس کی وارث بناتا ہے۔ قرآن نے اس سنت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ 3۔ انفس کی شہادت۔ دوسری شہادت انفس کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ خود توحید کی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس شہادت کے دلائل ہم اپنی اس کتاب میں بھی جگہ جگہ بیان کر رہے ہیں اور خاص اس موضوع پر ہم نے حقیقت شرک اور حقیقت توحید کے نام سے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ تفصیل کے طالب ان کو پڑھیں۔ انسانی فطرت کی یہی توحید پسندی ہے جس کے سبب سے قرآن نے توحید کو دین فطرت قرار دیا ہے۔ ”فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیہا : اللہ کی بنائی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا“۔ اور یہی علد پسندی ہے جس کی بنا پر جزا و سزا کے منکرین سے قرآن یہ سوال کرتا ہے ”أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ : کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے، تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو“ (قلم :35-36)۔۔ 4۔ وحی کی شہادت : تیسری شہادت وحی کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پسند ناپسند اور اپنے اوامرو نواہی سے بندوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنے بیشمار نبی اور رسول بھیجے اور ان سب پر اپنی توحید اور اپنے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی اور ان نبیوں اور رسولوں نے یہ شہادت اپنی اپنی امتوں کو پہنچائی۔ اس شہادت کے آثار و نشانات آج بھی ان امتوں کی روایات اور ان کے صحیفوں کی تعلیمات میں موجود ہیں لیکن انہوں نے ان آثار و روایات کو نظر انداز کر کے اپنے آپ کو ایسے نظریات و عقائد میں مبتلا کرلیا جو توحید کے بھی منافی ہیں اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کے بھی، لیکن ان امتوں کی اس غلط روش کی وجہ سے وہ اپنی ان اعلی صفات سے دستبردار نہیں ہوگیا ہے بلکہ وہ بدستور ان سے متصف ہے اور ہمیشہ متصف رہے گا۔ چناچہ انہیں صفات کا یہ تقاضا ہے کہ اس نے قرآن کو، جیسا کہ اوپر کی تمہید میں گزرا، حق و باطل کے درمیان فرقان بنا کر اتارا تاکہ حق و عدل کی صراط مستقیم پھر واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے اور باطل پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ خدا کی وحدانیت اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت کسی ایک ہی پہلو سے نہیں مل رہی ہے بلکہ تین مختلف پہلوؤں سے مل رہی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی کائنات کا نظام اور اس کی تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے، اس کی پیدا کی ہوئی فطرت اس پر گواہ ہے اور اس کے پیغمبروں نے ہمیشہ اس حقیقت کی منادی کی ہے۔ اس آیت میں یہ بات نہایت اجمال کے ساتھ بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے تیس پاروں میں اس اجمال کی تفصیلات پھیلی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شہادت کے ساتھ یہاں ملائکہ کی شہادت کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یہ ایک امر واقعی کا اظہاو بیان ہے۔ کائنات میں خدا کے ارادوں کے نفاذ کا ذریعہ اور خدا کے پیغمبروں اس کی وحی پہنچانے کا واسطہ ملائکہ ہی بنتے ہیں اس وجہ سے خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کے اس کی مخلوقات میں شاہد اول وہی ہیں۔ ان کی گواہی ایک امر واقعی ہونے سے قطع نظر اس پہلو سے بھی خاص طور بیان ہوئی کہ نادانوں نے ان کو خدا کا شریک اور شفاعت باطل کا واسطہ قرار دے کر توحید کی بھی نفی کی اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کی بھی۔ اس لیے کہ جب تصور یہ ہو کہ سفارش حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دے سکتی ہے تو پھر خدا قائم بالقسط کہاں رہا ؟ فرشتوں کے متعلق اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے قرآن نے خود ان کی زبان سے بھی جگہ جگہ ان کے اعترافات کا حوالہ دیا ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ارشاد ہے ”وما مِنَّا إِلا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ (164) وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ (165) وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ (166): اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے بس ایک متعین مقام ہے اور ہم تو صفین باندھ کر حاضر رہنے والے ہیں اور ہم تو اس کی تسبیح کرنے والے ہیں“ (صافات : 164-166)۔ فرشتوں سے متعلق ایک تفصیلی بحث سورة بقرہ میں بضمن آیت ایمان ہم کرچکے ہیں۔ اولوالعلم کی شہادت : ملائکہ کے بعد اولو العلم کی شہادت کا ذکر ہے۔ العلم قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ علم حقیقی ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے دنیا کو ملا ہے۔ اس پر مفصل بحث ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ اس علم کے حاملین نے ہر دور میں خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی ہے یہ مصلحین و مجددین کے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں اور جنہوں نے اللہ کے دین کو بدعات اور آمیزشوں سے پاک کر کے عقائد کو توحید خالص کی بنیاد پر اور شرائع و قوانین اور اعمال و اخلاق کو حق و عدل کی اساس پر استوار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کی طرف آگے کی آیت میں ”یامرون بالقسط“ کے لفظ سے اشارہ ہوا ہے اور جن کے متعلق فرمایا ہے کہ اہل کتاب ان کو قتل کرتے رہے ہیں۔۔ حکمت دین کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ یہاں اللہ اور ملائکہ کے ساتھ حاملین علم کا حوالہ ہے اور توحید کے ساتھ عدل و قسط کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اہل علم کا کیا مقام ہے اور خدائی شریعت کے نظام میں عدل و قسط کا کیا درجہ و مرتبہ ہے۔ علم حقیقی کے حاملین ملائکہ کے زمرہ سے نسبت رکھنے والے ہیں اور عدل و قسط کا درجہ صفات الٰہی میں اتنا بلند وارفع ہے کہ توحید کے بعد سب سے پہلے جس کا ذکر ہوسکتا ہے وہ یہی ہے۔ ”قسط“ کا مفہوم : ”قائما بالقسط“ ترکیب کے لحاظ سے ہمارے نزدیک ”انہ“ کی ضمیر سے حال پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد و یکتا ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں، تمام اختیار و تصرف تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس اختیار و تصرف کو ٹھیک ٹھیک عدل و قسط کے مطابق استعمال کر رہا ہے۔ ”قسط“ کا مفہوم وہی ہے جو ہم عام بول چال میں حق، عدل، انصاف وغیرہ کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا ضد ظلم، جور اور اس معنی کے دوسرے الفاظ ہیں۔ فکر، عمل، قول، اخلاق، کردار مظاہر اور اشکال غرض ظاہر و باطن کے ہر گوشے میں ایک نقطہ تو وہ ہے جو ہر چیز کے خالق و فاطر کی بنائی ہوئی فطرت اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود وقیود کے اندر ہے، اس کو نقطہ اعتدال یا بالفاظ دیگر مرجع عدل و قسط سمجیے۔ اگر کسی گوشے میں اس نقطہ سے شوشے کے برابر بھی انحراف واقع ہوجائے تو یہ بات عدل و قسط کے منافی ہوگی۔ اعتبارات اور نسبتوں کی تبدیلی سے تعبیرات بدل بدل جائیں گی۔ کسی دائرے میں ہم اس سے انحراف کو ظلم و جور سے تعبیر کریں گے، کسی گوشے میں بد صورتی اور بد ہیئتی سے، اسی طرح کسی پہلو میں اس اعتدال کو حق وعدل سے تعبیر کریں گے، کسی محل میں حسن و جمال سے لیکن اصل حقیقت ہر جگہ ایک ہی ہوگی۔ وہ یہ کہ ایک شے اپنے اصل فطری مقام سے ہٹ گئی تو بگار پیدا ہوگیا اور اگر اپنے جوڑ سے پیوست ہوگئی تو بناؤ نمودار ہوگیا۔۔ خالق کائنات چونکہ اس دنیا کا خالق ومالک ہے اس وجہ سے اس کو اس کا بگاڑ نہیں بلکہ بناؤ مطلوب ہے۔ اس کے نظام تکوینی کی اس نے اس طرح چول سے چول بٹھائی ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے اور اگر اس کی قدرت ہی کی کسی معجز نمائی سے کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوتا نظر آتا ہے تو دفعۃ اسی کے کارفرما ہاتھ اس کو درست کرنے کے لیے نمودار ہوجاتے ہیں تاکہ جس توازن پر یہ کارخانہ قائم ہے اس میں کوئی خلل نہ پیدا ہونے پائے۔ اس کی یہی توازن پسندی ہماری زندگی کے اس دائرے کے لیے بھی ہے جس دائرے میں اس نے ہمیں محدود قسم کی آزادی دی ہے۔ جب ہم اپنے اختیار کو غلط استعمال کرکے اپنے اخلاق و عمل کے کسی گوشے میں فساد پیدا کرلیتے ہیں تو وہ ہمیں ڈھیل تو دیتا ہے لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک ہی ہوتی ہے، اس کی عدل پسندی یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ہمیں ہماری خواہشات کی پیروی کے لیے آزاد اور اس کے نتیجے میں اپنی خلق کو تاراج و پامال ہونے کے لیے چھور دے بلکہ وہ اس ڈھیل پر گرفت کرتا ہے اور ہمارے پیدا کیے ہوئے بگاڑ کو از سرِ نو درست کردیتا ہے اس لیے کہ وہ قائم بالقسط ہے۔ اس قیام بالقسط ہی کے لیے اس نے مکافات عمل کا قانون رکھا ہے، اسی کے لیے اس نے انبیاء و شرائع کے بھیجنے کا سلسلہ جاری کیا، اسی کے لیے اس نے یہ اہتمام فرمایا کہ جب شریعت میں تحریفات و بدعات سے فساد پیدا ہوجائے تو مجددین و مصلحین اس کی اصلاح و تجدید کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں، اسی کی خاطر اس نے قوموں کے عروج وزوال کو ان کے اخلاقی عروج وزوال کے تابع کیا اور پھر سب سے بڑھ کر اس عدل و قسط ہی کے کامل ظہور کے لیے اس نے ایک ایسا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی میزانِ عدل نصب ہوگی اور وہ تول کر بتائے گی کہ کس کا کون سا عمل ترازو میں پورا ہے، کون سا نہیں، اور پھر اسی کے مطابق جزا وسزا ہوگی۔۔ یہاں یہ نکتہ بھی ملحوط رہے کہ ایک ہی آیت میں دو مرتبہ کلمہ توحید کا اعادہ ہے اور دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو الگ الگ صفتوں کا حوالہ ہے۔ پہلے فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ قائم بالقسط ہے، پھر فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزیز و حکیم ہے، اس اسلوب میں مخاطب، اہل کتاب کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا، فرشتوں اور تمام حاملین علم کی شہادت یہی ہے کہ خدا کے سوا کوئی الہ نہیں اور وہ الہ امور دنیا سے بےتعلق نہیں ہے کہ لوگوں کو ان کی خواہشات کی چراگاہ میں شتر بےمہار کی طرح چھور رکھے، وہ دندناتے پھریں اور وہ حی وقیوم ہونے کے باوجود ان کا کوئی نوٹس نہ لے بلکہ وہ تمہاری خواہشوں کے علی الرغم اپنے نظام عدل و قسط کو ضرور قائم کرے گا اور کوئی اس کا ہاتھ نہ پکڑ سکے گا، پھر فرمایا کہ وہ ایسا کیوں نہ کرے گا جب کہ وہ وحدہ لا شریک بھی ہے اور عزیز و حکیم بھی۔ اس کی عزت اور حکمت دونوں کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا رے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یا تو وہ بےبس اور حق لیے غیر سے خالی ہے یا وہ ایک کھلنڈرا ہے جس نے دنیا کو محض ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی عظیم ہستی کے متعلق اس قسم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان بالقسط ایمان کے اہم ارکان میں سے ہے : اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی صفت پر ایمان لانا ایمان باللہ کے نہایت اہم اجزا میں سے ہے اور اسلام کی حقیقت میں تو اس کو اس درجہ دخل ہے کہ گویا اسلام عبارت ہی اسی سے ہے۔ اس کی یہ اہمیت تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے متعلق استاذ امام کے چند نکات یہاں درج کردیے جائیں تاکہ جو لوگ حکمت دین پر غور کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مولانا ؒ کے نزدیک اس صفت کی اہمیت مندرجہ ذیل پہلوؤں سے ہے۔ ایمان بالقسط کی اہمیت کے چار پہلو : 1۔ ایمان امن سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اعتماد و اعتقاد اس کی فطرت میں داخل ہے۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ایمان کے لیے ناگزیر ہے کہ آدمی کو اللہ کے وجود پر یقین راسخ ہو۔ لیکن یہ چیز اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک یہ اعتماد نہ کیا جائے کہ عقل اصلاً رہنمائی کے لیے بنی ہے نہ کہ گمراہ کرنے لیے۔ یعنی یہ مانا جائے کہ عقل اپنی فطرت کے لحاظ سے انسان کے اندر ایک میزان قسط ہے۔ پھر یہ چیز ایک اور نتیجہ کو مستلزم ہے کہ فطرت کو اس کے فاطر نے حق وعدل کے اصولوں پر استوار کیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بہمہ وجوہِ عدل و قسط، عدل و قسط کو پسند کرنے والا اور اس کو قائم کرنے والا ہے۔ یہ تمام نتائج عقلاً لازم بلکہ بدیہیات میں سے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے حق ہونے کا ثبوت اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک فاطر فطرت کو حق و عدل نہ مانا جائے۔ اسی سے اس کے تمام افعال کا حق و صدق ہونا ثابت ہوگا۔ جس طرح عقلاً یہ چیز لازم ہے اسی طرح اخلاقی مسلمان سے بھی اس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نیکی کو اللہ تعالیٰ نے فطرت میں داخل کیا ہے اور دلوں میں اس کے قبول کرنے اور اس کی عزت کرنے کی رغبت ودیعت فرمائی ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم خود تو نیکی کو پسند کریں اور خدا کو نیکی کو پسند کرنے والا نہ قرار دیں۔ ہم اپنی اس خیر پسندی کی صحت و اصابت پر اطمینان کس طرح کرسکتے ہیں اگر خود فاطر کی خیر پسندی پر ہمارا دل مطمئن نہ ہو۔ ہم اس کو نیکی کر کے خوش کرنا تو اسی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ہم یہ اطمینان رکھتے ہیں کہ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے۔ اس کو اچھی صفات سے موصوف کرنا بھی اسی بنیاد پر ہے کہ ان صفات کو پسند کرنے کے معاملے میں ہمیں اپنی فطرت کے صحیح ہونے پر پورا اعتماد ہے۔ 2۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی اصل خدا کی محبت ہے۔ ہم ایک ایسے معبود پر ایمان رکھتے ہیں جس سے ہم محبت کرتے ہیں، جس سے امید رکھتے ہیں اور جس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ یہ چیز اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو کہ وہ ظلم و ناانصافی کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ وہ اپنا انعام انہی پر فرمائے گا جو اس کی اطاعت کریں گے اور سزا انہی کو دے گا جو اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ کسی ظالم و نامنصف آقا سے محبت کرنا انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ 3۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات پر غور کرنے سے فطرت میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا جو تقاضا ابھرتا ہے اس کی بنیاد شکر پر ہے۔ یہ شکر اس صورت میں لازم ہوتا ہے جب ہم یہ مانیں کہ یہ منعم کا حق اور اس کے انعام کا مقتضا ہے۔ یہی رمز ہے کہ قرآن میں شرک کو ظلم، اور ایمان کو شکر قرار دیا گیا ہے۔ اسی اصول پر تمام حقوق کے استحقاق کی بنیاد عدل کے وجوب پر رکھی گئی ہے۔ یہ شریعت اور قانون کی ایک بدیہی حقیقت ہے۔ اس وجہ سے ہر شریعت کی اساس و بنیاد قسط ہے۔ 4۔ چوتھا یہ کہ ایمان کا ثمرہ اطاعتِ الٰہی ہے اور اطاعت کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گوشے میں افعال اور ان کے اثرات میں یہ رشتہ اپنے خلق و تدبیر اور اپنے امر و حکم سے قائم کر رکھا ہے اور مختلف طریقوں سے اس حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہم چونکہ اعمال کے ان نتائج پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اس وجہ سے اس کے وعدے پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگر اس بات پر ہمارا ایمان نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرسکتا تو تمام اعمال کی بنیاد ہی ڈھے جائے گی اور پھر سارا اعتماد دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز پر رہ جائے گا یا تو نصاریٰ کی طرح جھوٹی شفاعت پر جن کا سارا اعتماد حضرت مسیح ؑ پر ہے، جن کو معبود بنا کر وہ ان کی عبادت کرتے اور جن سے خدا سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں یا پھر یہود کی طرح کامل سرگشتگی اور ناعاقبت بینی پر۔ انہوں نے ہوا کے رخ پر اپنی کشتی چھوڑ دی، اپنے تکبر اور حسد کے سبب سے وہ خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے، گویا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اور بد میں امتیاز کے لیے کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے۔ اس ضلالت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات پر پورا یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ قائم بالقسط ہے، اس کا ہر حکم عدل اور اس کا ہر وعدہ سچا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ”تمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا“۔ ان چاروں پہلوؤں پر جو شخص بھی غور کرے گا اس پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے گی کہ ایمان بالقسط ایمان کے نہایت اہم ارکان میں سے ہے اور اس پر عقائد، اخلاق اور شرائع کے نہایت بنیادی مسائل مبنی ہیں۔
Top