Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
اسی طرح خدائے عزیز و حکیم وحی کرتا ہے تمہاری طرف اور اسی طرح وہ وحی کرتا رہا ہے ان کی طرف جو تم سے پہلے گزرے۔
کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (3) تمام نبیوں کی تعلیم بھی ایک رہی ہے اور طریقہ تعلیم بھی ایک ہی رہا ہے کذلک کا اشارہ ان مطالب کی طرف ہے جو اس سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ ان مطالب کا ایک اجمالی تصور اس سورة کے نام نے دے دیا ہے اس وجہ سے کذلک کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ بالکل موزوں ہے یعنی اس نام سے موسوم سورة میں جو باتیں وحی کی جا رہی ہیں یہ جس طرح تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اسی طرح تم سے پہلے آنے والے نبیوں کو بھی وحی کی جا چکی ہیں۔ ادائے مطلب میں ی بتقاضائے بلاغت ایجاز ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ اس طرح اللہ تم پر وحی کر رہا ہے اور اسی طرح اس نے ان نبیوں پر بھی وحی کی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اس قسم کے ایجاز کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ کذلک وحدت مدعا کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اور طریقہ وحی کی یکسانی کی طرف بھی یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو تعلیم بھی انہی باتوں کو دی جن کی تعلیم تم کو دی جا رہی ہے او اس تعلیم کے لئے طریقہ بھی وہی اختیار فرمایا جو تمہارے لئے اختیار فرمایا اس وجہ سے کسی پہلو سے بھی قرآن میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو لوگوں کے لئے باعث وحشت ہو۔ اگر یہ اس سے وحشت زدہ ہو رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی طبیعت کا فساد ہے۔ وحدت مدعا کی طرف آگے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔ وحدت مدعا کی رف اشارہ شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوافیہ کبر علی المشرکین ماتدعو ھم الیہ ط …(13) تمہارے لئے اس نے اسی دین کو مقرر کیا جس کی تعلیم نوح کو دی اور اسی کی وحی ہم نے تم کو کی اور جس کی تلقین ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کہ اللہ کے دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ برپا کرو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی تم دعوت دے رہے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس اسلام اور جس دین توحید کی دعوت آنحضرت ﷺ نے دی اسی کی دعوت پر تمام انبیاء (علیہم السلام) مامور ہوئے لیکن مشرکین نے جو دین شرک ایجاد کیا اس کی عصبی کے جوش میں اس دین حق کے مخلاف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اسی قسم کی عصبیت کے جنون میں اہل کتاب بھی مبتلا ہوگئے۔ طریقہ کی یکسانی کی طرف اشارہ طرقہ کی یکسانی کی طرف آگے اس سورة میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے۔ طریقہ کی یکسانی کی طرف آگے اس سورة میں اسی طرح اشارہ فرمایا ہے۔ وما کان لبشرات یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآی حجاب او یرسل رسولاً فیوحی باذنہ ما یشآء ط انہ علی حکیم مکذلک افحینا الیک روحاً من امرنا ماکنتتدری ما الکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ نوراً نھدی بہ من نشآء من عبادنا (52-51) اور کسی بشر کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے بات کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعہ سے یا پردہ کی اوٹ سے یا بھیجے اپنا کوئی فرشتہ پس وہ وحی کر دے اس کے اذن سے جو وہ چاہے۔ بیشک وہ بڑا ہی بلند اور حکیم ہے۔ اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ایک روح کی اپنے امر میں سے تم نہ کتاب سے آشنا تھے اور نہ ایمان سے لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ آج جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر خدا پیغمبر سے کلام کرتا ہے تو ان سے بھی کلام کرے یا وہ اس طرح نمودار ہو کر وہ اس کو دیکھیں اور اس کا کلام سنیں، یہ محض ان کی خود سری اور بد دماغی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح نہ کسی سے بات کرتا اور نہ اس طرح جلوہ نمائی کرنا اس کی شان ہے۔ بلکہ ہمیشہ سے اس کا طریقہ یہ رہا کہ اس نے اپنے جن بندوں کو نبوت کے کار خاص کے لئے منتخب فرمایا ان سے وحی کے ذریعہ سے بات کی اور اس وحی کا ایک خا ضابطہ ہے۔ آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور فالغین پر اتمدم حجت اس بات کے کہنے سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا بھی ہے اور مخالفین پر اتمام حجت بھی۔ ظاہر ہے کہ جب آپ اسی دین حق کی دعوت دے رہے ہیں جس کی دعوت تمام نبیوں اور رسولوں نے دی تو آپ کوئی ایسی بات نہیں پیش کر رہے ہیں جس سے لوگ وحشت زدہ ہوں۔ جو لوگ اس سے وحشت زدہ ہیں وہ تمام نبیوں کی دعوت کے مخالف اور تعصب وعناد میں مبتلا ہیں۔ علی ہذا ال قیاس اگر آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا مشاہدہ نہیں کرا سکتے یا اس کو کلام کرتے دوسروں کو سنا نہیں سکتے تو یہ چیز بھی آپ کی نبوت کا کوئی نقص نہیں۔ آپ اللہ کی وحی پیش کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس سے بھی بات کرتا ہے وحی کے ذریعہ ہی سے کرتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کسی کو بھی نہیں نوازتا۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے عزیز و حکیم کا حوالہ یہاں تسلی کے مضمون سے بھی تعلق رکھتا ہے اور تہدید کے مضمون سے بھی۔ جب اللہ تعالیٰ عزیز ہے تو وہ گردن کشوں کو جب چاہے دبا سکتا ہے۔ اگر وہ فوراً نہیں دباتا تو وہ اپنی حکمت کے تحت ان کو مہلت دے رہا ہے اس وجہ سے پیغمبر ﷺ کو اپنے رب عزیز و حکیم پر بھروسا رکھنا اور ان لوگوں کا معاملہ اسی کے حوالہ کرنا چاہئے۔
Top