Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہی اور نماز کا اہتمام کیا اور ان کا نظام شوریٰ پر ہے اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
والذین استجابوا الربھم واقاموا الصلوۃ وامرھم شوریٰ بینھم ومما رزقنھم ینفقون (38) وہ صفات جن سے مذکورہ خوبیاں پیدا ہوئی ہیں یہ ان صفات کا بیان ہے جن سے ان کے ادنر وہ خوبیاں پیدا ہوئی ہیں جن کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ انہوں نے اپنے رب کی اس دعوت پر لبیک کہی ہے جو اس کے رسول کے واسطہ سے ان کو پہنچی ہے۔ قریش کے متکبرین کی طرح انہوں نے اس کو جھٹلانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی اسی خوبی کی طرف اوپر آیت 26 میں اشارہ فرمایا ہے۔ ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ (اور اس کو قبول کر رہے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ ان کے لئے اپنے فضل میں افزونی فرمائے گا۔) ایمان اکا اولین مظہر نماز ہے وقاموا الصلوۃ یہ اس قبول کرنے یا بالفظ دیگر ان کے ایمان کے اولین مظہر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ دین کی اس حقیقت کا اظہار اس کتاب میں ہر جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ ایمان کا سب سے پہلا عملی مظہر نماز ہے۔ یہی اس کا اولین مظہر بھی ہے اور پھر اسی سے دوسری نیکیاں ظہور میں بھی آتی اور اسی سے پروان بھی چڑھتی ہیں۔ اس وجہ سے جس نے نماز کا اہتمام نہیں کیا اس نے گویا ایمان کی دعوت بھی قبول نہیں کی۔ اگر وہ ایمان کا مدعی ہے تو اس کا یہ دعویٰ محض خود فریبی ہے۔ یہاں اس حقیقت پر بھی نظر رہے کہ اقاموا الصلوۃ کا مفہوم صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ نماز کا اہتمام کرنا بھی ہے۔ یعنی وہ نماز پڑھتے بھی ہیں اور یہ اہتمام بھی کرتے ہیں کہ دوسرے بھی نماز پڑھیں۔ یہی نماز اور اہتمام نماز ان کی جماعتی زندگی کی خصوصیت اور اس دنیا میں ان کا اصلی امتیاز ہے۔ یہی نماز ان کو سکھاتی ہے کہ ان کو دنیا میں اپنے رب کی بندگی اور اس کے دین کی اقامت کے لئے کس طرح بتیان مرصوص بن کر زندگی گزارنی ہے اور یہی نماز اس فحشاء اور منکر سے ان کو روکتی ہے جن سے اجتناب کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ نماز کی اس حقیقت کی طرف دوسرے مقام میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر (نماز بےحیائی اور ناروا باتوں سے روکتی ہے) … اس میں بھی قریش کے لیڈروں پر تعریض ہے کہ نماز تو انہوں نے برباد کردی لیکن اس کے باوجود حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے اس گھر کے وارث ہونے کے مدعی ہیں جو نماز اور اہتمام نماز کے ایک مرکز کی حیثیت سے تعمیر ہوا تھا۔ اہل ایمان کے سیاسی نظم کی بنیاد شوریٰ پر ہے وامرھم شوری بینھم … شوری مصدر ہے فتیا کے وزن پر اور اس کے معنی آپس میں مشورہ کرنے کے ہیں، لفظ امر عربی میں ہمارے لفظ معاملہ کی طرح بہت وسیع معنوں میں آتا ہے۔ اس کے صحیح مفہوم کا تعین موقع و محل اور سیاق وسباق سے کرتے ہیں۔ یہاں قرینہ پتہ دے رہا ہے کہ یہ لفظ جماعتی نظم کے مفہوم میں آیا ہے۔ یعنی مسلمانوں کا جماعتی اور سیاسی نظم خود سری، انانیت، خاندانی برتری، نسبی غرور پر مبنی نہیں ہے بلکہ اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہے۔ اس میں قرش کے نظم سیاسی و اجتماعی پر جو تعریفض ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے اس لئے کہ ان کا نظم اجتماعی تمام تر خاندانی اور نسبی امتیاز پر قائم تھا۔ اسلام کی مخالفت کا ایک بڑا سبب ان کے لئے یہ بھی تھا کہ وہ اس دعوت کے فروغ پانے کی صورت میں اپنے اس جاہلی نظام کی موت سمجھتے تھے۔ قرآن نے اس آیت میں ایک طرف تو مسلمانوں کو یہ بشارت دے دی کہ ان کے لئے ایک ہئیت اجمتاعی و سیاسی کی شکل میں منظم ہونے کا وقت آگیا اور یہ نظم اجتماعی نسب اور خاندان کی اساس کے بجائے اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہوگا، دوسری طرف درپردہ قریش کے لیڈروں کو یہ آگاہی بھی دے دی کہ اب تم خواہ کتنا ہی زور اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں صرف کرو لیکن انہی کمزور و مظولم مسلمانوں کے ہاتھوں وہ نیا نظام آ رہا ہے جو تمہارے اس فاسد نظام کی بساط الٹ کر رکھ دے گا۔ شوریٰ کی اہمیت کا ایک خاص پہلو یہاں شورائی نظام کی خصوصیات اور اس کے اصول و مبادی پر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث ہم اپنی کتاب … اسلامی ریاست … کی ایک مستقل فصل میں کرچکے ہیں۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ البتہ ایک سوال یہاں قابل غور ہے کہ قرآن کا معروف اسلوب بیان تو یہ ہے کہ وہ نماز کے ساتھ بالعموم زکوۃ یا انفاق کا ذکر کرتا ہے لیکن یہاں اس معروف طریقہ کے خلاف نماز اور انفاق کے بیچ میں شوریٰ کا ذکر آگیا ہے آخر شوریٰ کی اہمیت کا وہ خاص پہلو کیا ہے جس کی بنا پر اس کو نماز کے پہلو میں جگہ دی گئی ؟ اسلام کا نظم اجتماعی نماز کی صورت میں مشکل کیا گیا ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے نظم اجتماعی کی روح اور اس کے قالب کی اصلی شک نماز میں محفوظ کی گئی ہے۔ اسی کے اندر مسلمانوں کو دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ان کو اللہ کی بندگی کے لئے ایک بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہونا ہے کس طرح اپنے اندر سے سب سے زیادہ علم وتقویٰ والے کو اپنی امامت کے لئے منتخب کرنا ہے، کس طرح لوگوں کو حدود الٰہی کے اندر اس امام کی بےچون و چرا اطاعت کرنی ہے اور کس طرح امام اس بات کا پابند ہے کہ لوگوں کو کسی ایسی بات کا حکم نہ دے جو اللہ اور رسول کے کسی حکم کے خلاف ہو اور کس طرح اس کے ایک ادنیٰ مقتدی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو وہ اس کو ٹوک دے یہاں تک کہ عین نماز کے اندر بھی رکوع، سجود، قیام، قعودیا تلاوت میں کوئی ادنیٰ فروگزاشت بھی اس سے صادر ہوجائے تو اس کے پیچھے ہر نماز پڑھنے والا اس کو متنبہ کرنے کا ذمہ دار ہے اور امام کا یہ فرض ہے کہ اگر مقتدی کی تنبیہ مطابق شریعت ہے تو وہ اس کو قبول اور اپنی غلطی کی فوراً اصلاح کرے۔ گویا اس طرح ہمارا پورا نظم اجتماعی نماز کی صورت میں مشل کر کے ہمیں یہ دکھایا گیا کہ ہم اپنی سیاسی تنظیم میں اسی نمونہ کی پیروی کریں۔ اسی طرح اللہ کے دین کی اقامت کے لئے اپنی تنظیم کریں، اسی طرح اپنے اندر سے سب سے زیادہ اہل اور صاحب علم وتقویٰ کو اپنی قیادت کے لئے منتخب کریں، اسی طرح تمام معروف میں بےچون و چرا اس کی اطاعت کریں اور اگر اس سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو شریعت کے معروف کے خلاف ہو تو بےخوف لومتہ لائم اس کو متنبہ کر کے اس کو صحیح راہ پر لانے کی کوشش کریں۔ نماز اور ہمارے سیاسی نظام کا یہ تعلق ہے جس کے سبب سے قرآن نے ٹھیک اس وقت جب مسلمان ایک ہئیت اجتماعی کی شکل اختیار کرنے والے تھے، ان کی رہنمائی شوریٰ کی طرف فرمائی اور اس شوریٰ کا ذکر نماز کے پہلو بہ پہلو کر کے ایک طرف تو اس کی عظمت نمایاں فرمائی کہ دنی میں اس کا کیا درجہ و مرتبہ ہے اور دوسری طرف اس کی تشکیل کی نوعیت بھی واضح فرما دی کہ اس میں امیر و مامور کے حقوق و فرائض کی صورت کیا ہوگی، کس طرح کے لوگ اس کی رکنیت کے لئے موزوں ہوں گے، جماعت اور خلق خدا سے متعلق ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوں گی اور ان کی اصلی مسئولیت کس کے آگے ہوگی۔ شوریٰ کی اہمیت اور نماز کے ساتھ اس کے تعلق کا یہی پہلو تھا کہ عہد رسالت اور خلافئے راشدین کے دور میں اس کا انعقاد مسجد ہی میں ہوتا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے متعلق تو سیرت کی کتابوں میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ وہ شوریٰ کے انعقاد کا عالان الصلوۃ جامعۃ کے الفاظ سے کرتاے تھے۔ یعنی اہل شوریٰ نماز کے لئے جمع ہوں۔ جب اہل شوریٰ مسجد میں جمع ہوجاتے تو وہ دو رکعت نماز ادا کتے۔ ظاہر ہے کہ جب وہ نماز پڑھتے تھے تو دور سے اہل شوریٰ بھی ان کی اقتدار میں نماز پڑھتے رہے ہوں گے۔ نماز اور دعا کے بعد حضرت عمر مسئلہ زیر بحث پیش کرتے اور اہل شوریٰ اس پر اپنی رایوں کا اظہار کرتے اور خلیفہ کی رہنمائی میں کسی متفق علیہ نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کی رہنمئیا کے حصول کے پہلو سے بھی نہایت بابرکت ہے اور اسلام کے نظم سیاسی کی اصل روحی کے تحفظ کے نقطہ نظر سے بھی۔ لیکن اس دور میں مسلمانوں نے دوسری قوموں کی تقلید میں شورائی نظام کی جگہ نظام بھی دوسرے اختیار کرلیے اور مسجدوں سے بھی ان کا تعلق بالکل منقطع ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی رہنمائی سے محروم ہوگئے اور ان کی باگ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے ہاتھ میں چلی گی۔ اب پارلیمنٹوں کے ایوانوں میں جو دھینگا مشتی ہوتی ہے اس کی مثال بازاروں میں بھی مشکل ہی سے مل سکتی ہے۔ ومما رزقنھم ینفقون نماز کے ساتھ انفاق یا زکوۃ کے تعلق پر اس کتاب میں جگہ جگہ مفصل بحث ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا ایک ستون تو یہ ہے کہ اس کی نماز پڑھی جائے اور اس کا دوسرا ستون یہ ہے کہ اس کے بخشے ہوئے رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ پہلی چیز بندے کا تعلق اس کے خالق سے اسوتار کرتی ہے۔ دوسری چیز خلق سے اس کو جوڑتی ہے اور انہی دونوں اساسات پر تمام شریعت قائم ہے۔
Top