Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں نہ ان کا کوئی کار ساز ہوگا اور نہ مددگار
ولو شآء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ و لکن یدخل من یشآء فی رحمتہ والظلمون مالھم من ولی ولانصیر (8) ایک شبہ کا جواب اب یہ ایک شبہ کا جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک ہی دین دیا تو اس نے یہ کیوں نہیں پسند فرمایا کہ سب اسی دین پر رہتے ؟ اس نے یہ موقع کیوں دیا کہ لوگ اس میں اختلاف برپا کریں اور اس اختلاف کا نتیجہ بالآخر یہ نکلے کہ ایک گروہ تو جنت کا حقدار ٹھہرے اور دوسرا دوزخ کا سزا وار قرار پائے ؟ اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنا چاہتا تو کرسکتا تھا، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو اپنی ہدایت قبول کرنے پر مجبور کرے بلکہ اس نے چاہا کہ لوگوں کو اختیار دے کر ان کے سامنے اپنی ہدایت رکھے کہ لوگ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر، اپنی آزادی رائے کے ساتھ، ہدایت کو اختیار کریں اور اللہ کی رحمت میں داخل ہونے کے سزا وار بنیں۔ یدخل من یشآء فی رحمتہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جس مشیت کا ذکر فرمایا ہے وہ اس کی رحمت اور اس کے عدل کے تحت ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جن کے لئے اس کا عدل مقتضی ہو کہ وہ اس کی رحمت میں داخل ہوں ان کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ اس مضمون کو اس کے بعد والظلمون مالھم من ولی ولا نصیر فرما کر واضح بھی کردیا کہ جو لوگ ظالم کافرو مشرک ہیں نہ ان کا کوئی کار ساز ہوگا، نہ کوئی مددگار یعنی نہ ان کے مزعومہ اولیاء ان کے کام آنے والے بنیں گے اور نہ ان کی کوئی جمعیت و جماعت ہوگی جو ان کی کوئی مدد کرسکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف وہ لوگ محروم ہوں گے جو ظالم و شرک ہوں گے اور ایسا اس لئے ہوگا کہ یہ اس کے عدل کا تقاضا ہے۔ اس کی مشیت اس کے عدل پر مبنی ہے اور کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کی مشیت کو بدل سکے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور اس کتاب میں بار بار اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ ہم مزید وضاحت کے لئے یہاں بھی چند آیات کا حوال دیئے دیتے ہیں۔ سورة یونس میں فرمایا ہے۔ ولومشآء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعاً ط افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین، وما کان لنفس ان تو من الا باذن اللہ ط ویجعل الرجن علی الذین لا یعقلون (یونس :100-99) اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین میں بھی سب ایمان پر ہوتے تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن بن جائیں اور کوئی جان بھی ایمان نہیں لا سکتی مگر اللہ کے اذن سے اور اللہ ان لوگوں پر گندگی لاد دیتا ہے جو اپنی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و ہدایت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے اور اس کی مشیت ان لوگوں کو ایمان کی توفیق بخشتی ہے جو اپنی قعل سے کام لیتے ہیں۔ جو عقل سے کام نہیں لیتے ان کی عقل ایسی گندگی کے ڈھیر کے نیچے دب جاتی ہے کہ ان کو ایمان و ہدایت کی روشنی نظر آتی ہے۔ یہ مضمون سورة سجدہ میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ ولو شئنا لاتینا کل نفس ھدھا (السجۃ :13) اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے یعنی اگر ہم لوگوں کو ایمان پر مجبور کرنا چاہتے تو سب کو مومن بنا دیتے لیکن ہم نے لوگوں کو اختیار دے کر آزمایا ہے کہ کون ایمان کی راہ اتخیار کرتا ہے، کو نکفر کی پس جو کفر کی راہ اختیار کریں گے ہم ان سب کو جہنم میں بھر دیں گے اور ان لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے جو ایمان لائیں گے۔ یہی بات نہایت وضاحت سے سورة دہر میں اس طرح ارشاد ہوئی ہے۔ ان ھذا تذکرہ فمن شآء اتخذ الی ربہ سبیلاً وما تشآء ون الا ان یشآء اللہ ان اللہ کان علیما حکیما یدخل من یشآء فی رحمتہ والظلمین اعدلھم عذاباً الیماً (الدھر :31-29) یہ قرآن تو بس ایک یاد دہانی ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ بھی چاہے بیشک اللہ علیم و حکیم وہ اپنی رحمت میں دخل کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ رہے اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تو ان کے لئے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس آیت میں نبی ﷺ اور آپ کیے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہو۔ یہ قرآن لوگوں پر زبردستی لادنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی ہے تو اس کے ذریعہ سے لوگوں کو یاد دہانی کرو۔ جس کا جی چاہے ایمان لائے جس کا جی چاہے کفر کی راہ اختیار کرے۔ اگر تم لوگ ان کے ایمان کے خواہشمند ہو تو تمہاری خواہش سے کچھ نہیں ہوسکتا جب تک اللہ کی مشیت نہ ہو اور اللہ کی مشیت اس کے علم او اس کی حکمت پر بنی ہے۔ وہ اپنی رحمت میں انہی کو داخل کرتا ہے جن کو چاہتا ہے اور وہ انہی کو چاہتا ہے جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے اور اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو آنکھیں رکھتے ہوئے اندھے بن کر چلتے ہیں تو ایسے ظالموں کے لئے اللہ نے ایک درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
Top