Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 9
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
اَمِ : یا اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا رکھا ہے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ سرپرست فَاللّٰهُ : پس اللہ تعالیٰ هُوَ الْوَلِيُّ : وہی سرپرست ہے وَهُوَ : اور وہ يُحْيِ : زندہ کرے گا الْمَوْتٰى : مردوں کو وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے
کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یاد رکھیں کہ کار ساز اللہ ہی ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
ام اتخذوا من دونہ اولیآء فاللہ ھو الولی وھو یحییٰ الموتی ھو علی کل شیء قدیر (9) سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا۔ نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بو الفضولی ہے۔ کار ساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ونی ہے تو کار ساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کار ساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کار ساز کی کار سازی کیا کارگر ہو سکتی ہے۔ فعا اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ، ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (10) ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ جو اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے اوپر آیت 88 میں نبی ﷺ کی یہ تسلی دی گی ہے کہ مخلافین کی ضد اور مکابرت سے آپ پریشان نہ ہوں۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ نے جو سنت مقرر کر رکھی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہ لوگ اللہ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں اس وجہ سے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ اسی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے اسی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حالہ فرما دیا چونکہ یہ بات اوپر والی آیت ہی کی تعمیل میں تھی اس وجہ سے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نئی ہدایت کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کہنے کی بات نبی ﷺ کی زبان سے کہلا دی گئی۔ فرمایا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کی جس بات میں بھی تم نے اختلاف کیا، خواہ وہ توحید ہو یا آخرت، میری ذمہ داری اس میں صرف حق پہنچا دینے کی تھی سورة میں نے تم کو پہنچا دیا۔ اب اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہ فیصلہ فرمائے گا کہ میں نے حق پہنچانے میں کوتاہی کی یا تم نے حق کو پہچان کر اس کو جھٹلایا ! وہی اللہ میرا رب ہے اس وجہ سے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے۔
Top